4
Sunday 26 Jan 2020 01:34

ایرانیوں کا سخت انتقام یا اندھا انتقام(4)

ایرانیوں کا سخت انتقام یا اندھا انتقام(4)
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

داعشی طرز تفکر کے حامل کالم نگاروں کی سطروں کے بجائے ان کے ایجنڈے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے تو بطور کالم نگار ہر قلمکار کو یہ سوچنا چاہیئے کہ وہ اپنے قلم کے ذریعے کس کی خدمت کر رہا ہے!؟ کیا کسی کے جھوٹ لکھنے سے تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے! کیا کوئی بہتان تراش کر حقیقت کو تبدیل کرسکتا ہے؟ اگر کوئی حقیقت اور سچائی کے برعکس لکھے گا تو کیا اس سے حقیقت اور سچائی جھوٹ بن جائے گی!؟ فرض کریں، اگر سارے کالم نگار مل کر مسلسل یہ لکھتے جائیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے تو کیا کالم نگاروں کے  مسلسل لکھنے سے سورج مغرب سے طلوع ہونا شروع کر دے گا!؟ کیا قلمکاروں  کے تاریکی کو روشنی یا روشنی کو تاریکی لکھنے سے روشنی اور تاریکی پر کوئی فرق پڑتا ہے!؟

نہیں ہرگز نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا، کسی کے لکھنے یا بولنے سے صرف اور صرف ہمارے اپنے مطالعے کی گہرائی، ہماری علمی سطح، اجتماعی سوجھ بوجھ، خاندانی تربیت، فہم و فراست اور ہمارے سکول آف تھاٹ کا پتہ چلتا ہے۔ دانشمند جانتے ہیں کہ انسان کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے اور اس کی فکری حیثیت اس کے قلم کے نیچے چھپی ہوتی ہے۔ یہ انسان ابتدائے آفرینش سے ہی حق اور باطل کے دو بلاکوں میں تقسیم ہیں۔ ہم جب بھی اپنی زبان کھولتے ہیں یا قلم چلاتے ہیں تو حق اور باطل میں سے کسی ایک کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں، ہم میں سے ہر شخص حزب اللہ یا حزب الشیطان میں سے کسی ایک کا مددگار ہے، جو شخص جان بوجھ کر حزب اللہ کا ساتھ نہیں دیتا اور غیر جانبدار  رہنے کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ دراصل حزب اللہ کی مدد نہ کرکے حزب الشیطان کی ہی مدد کرتا ہے۔

دانش و بینش رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ پر ایران کا حالیہ جوابی حملہ دراصل امریکہ کے منہ پر ایک بھرپور تھپڑ ہے، ایک ایسا تھپڑ جس کی گونج ساری دنیا نے سُنی۔ یہ تھپڑ مار کر دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کسی اسلامی ملک نے امریکہ کی طاقت کے طلسم کو توڑا ہے، اس حملے نے امریکی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے اور اس سے پہلے وہ جو یہ سمجھا جاتا تھا کہ امریکہ کی طرف کوئی اسلامی ملک میزائل تو کیا پتھر بھی نہیں پھینک سکتا، وہ سوچ اس جوابی حملے نے غلط ثابت کر دی۔ اس تھپڑ سے خصوصاً وہ یادیں دوبارہ تازہ ہوگئی ہیں کہ جب  تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو عبرتناک شکست دے کر اس کی ہیبت کے بت کو پاش پاش  کر دیا تھا۔

ایران کے جوابی حملے کے بعد مسٹر ٹرمپ تو All is well کے علاوہ کچھ کہتے ہی نہیں تھے، بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، ٹرمپ تو ٹرمپ، ان کے ہم فکر اور ہم خیال لوگوں کا بھی یہی کہنا تھا کہ ایرانی میزائل حملوں میں کوئی ایک فوجی بھی نہیں مارا گیا۔ بہرحال پھر ساری دنیا نے ان کے جھوٹ کا پول کھلتے دیکھا اور آئے دن اب ان کا اپنا ہی میڈیا روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں، زخمیوں اور نقصان کی تفصیلات بیان کرتا چلا جا رہا ہے۔ All is well کا اعلان ایسے وقت میں ہوا تھا کہ جب کشمیر و فلسطین سے لے کر مشرق و مغرب میں ساری دنیا قاسم سلیمانی کی شہادت کی وجہ سے غم میں ڈوبی ہوئی تھی، لیکن امریکا اور اس کے اتحادی  صہیونی اور داعشی جشن منا رہے تھے، وہ بیٹھ کر قاسم سلیمانی کے خلاف جھوٹی پوسٹیں اور کالم گھڑ رہے تھے، مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے داعشی حضرات جو ہر بات پر قرآن مجید کی آیات پڑھ کر لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ایسے موقعوں پر یہ بھول جاتے ہیں کہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوْلِيَاۤءَ ۘ "اے صاحبان ایمان یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناو۔"

یہ داعشی لوگ  قرآن مجید کو صرف لوگوں کے گلے کاٹنے اور انہیں دھوکہ دینے کیلئے ہی استعمال کرتے ہیں، بہرحال انہوں نے قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر بھی امریکہ و اسرائیل کے ساتھ اپنی دوستی کے رشتے کو خوب نبھایا۔ اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَاۤءَكُمْ فَاسِقٌ  ۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا  ۢ بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ "اے صاحبان ایمان جب تمہارے لئے کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر شرمندہ ہوجاو۔" اس دوران جو کچھ اسلام دشمن اور صہیونی میڈیا قاسم سلیمانی کے بارے میں کہتا رہا،  داعشی حضرات وہی کاپی پیسٹ کرتے رہے اور اسی کو بنیاد بنا کر مضامین اور کالم لکھنے میں مگن رہے۔

  ہم سب نے قاسم سلیمانی کے جنازے پر یہ دیکھا کہ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی، ایک بلاک میں امریکہ و اسرائیل اور اس کے تیار کردہ صہیونی و داعشی حضرات تھے، جبکہ دوسرے بلاک میں سارا عالم انسانیت اور خصوصاً جہانِ اسلام تھا۔ اس شہادت نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ کون کس انداز میں امریکہ و اسرائیل اور صہیونیوں کی خدمت کر رہا ہے اور کون عالم اسلام اور عالم بشریت کیلئے میدان میں اترا ہوا ہے! کون حزب اللہ کا قلمکار ہے اور کون حزب الشیطان کا!؟ دونوں بلاکوں کے دانشور، دونوں طرف کے صحافی، دونوں طرف کا میڈیا، آستینیں چڑھا کر دن رات میدان میں اترا رہا، لمحہ بہ لمحہ چہروں سے نقاب اترتے گئے، ایک بلاک کے لوگ دوسرے بلاک سے جدا ہوتے گئے اور آخر میں ایک مرتبہ پھر یہ چھانٹی ہوگئی کہ کون کس بلاک میں ہے۔

قاسم سلیمانی کے جنازے پر کھڑے ہو کر ایک طرف فلسطینی رہنماء اسماعیل ہانیہ نے لاکھوں انسانوں کے اجتماع اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے ببانگ دہل کہا کہ شہید قاسم سلیمانی صرف ایرانی قوم کے ہیرو نہیں ہیں بلکہ قاسم سلیمانی فلسطین کی مظلوم ملت کے عظیم ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں تین مرتبہ یہ کہا کہ قاسم سلیمانی قبلہ اول بیت المقدس کے شہید ہیں، لیکن دوسری طرف داعشی حضرات مسلسل قاسم سلیمانی پر کیچڑ اچھالتے رہے۔ اگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ قاسم سلیمانی نے جہانِ اسلام کو اکٹھا اور بیدار کرنے نیز ظالموں کے تسلط سے نجات دلانے کیلئے کیا کردار ادا کیا ہے تو اسے اس کے بارے میں صہیونی اور داعشی میڈیا کے بجائے عراق کے وزیراعظم، عراقی قبائل کے بزرگوں، حزب اللہ لبنان کے سربراہوں اور فلسطین کی آزادی کے علمبرداروں سے پوچھنا چاہیئے اور اگر پوچھنا ہی ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر کے ان بہادر شیروں سے پوچھنا چاہیئے کہ جنہیں جیسے ہی قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر ملی تو وہ سخت کرفیو اور برف باری میں اپنی جانوں پر کھیل کر سڑکوں پر نکل آئے۔

قاسم سلیمانی کی شہادت سے  عالم اسلام کو حاصل ہونے والے ثمرات پر متعدد تجزیہ نگار روشنی ڈال چکے ہیں، لیکن میرے خیال میں اس شہادت کا سب سے بڑا ثمرہ یہ سامنے آیا ہے کہ دنیائے اسلام کی آستین میں چھپے ہوئے داعشیوں کے چہروں سے نقاب اتر گئے ہیں، وہ داعشی چاہے سیاست میں تھے یا صحافت میں یا  پھر منبر و محراب پر، ایک دم اپنے اپنے محاذ اور مورچے پر حاضر ہوگئے اور دنیا نے انہیں اچھی طرح دیکھ  اور سمجھ لیا کہ یہ کس بلاک کے لوگ ہیں۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ان داعشیوں کی پوری کوشش تھی کہ جہانِ اسلام میں مزید تفرقہ پھیلے اور یہ چاہتے تھے کہ ایران اپنا جوابی حملہ سعودی عرب یا کسی  دوسری خلیجی ریاست پر کرے۔

لیکن ایرانی قیادت کی بصیرت کو سلام ہو کہ انہوں نے اس نازک وقت میں بھی دین کے دشمن داعشیوں کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور خطے میں موجود سب سے بڑے  اور طاقتور امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اس اڈے میں دو رن ویز تھیں، جن کا رقبہ چار چار کلومیٹر سے زائد تھا۔ اس کے علاوہ اس میں تین مربع کلومیٹر پر محیط ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے والی عمارت بھی موجود تھی۔ حملے سے پہلے یہاں پر امریکہ کے ڈرون طیاروں کے علاوہ، ایف سولہ، ہرکولیس سی ون تھرٹی، ایچ ایچ سکٹی طیارے اور ہاک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھے، حملے سے صرف ایک سال پہلے یعنی دسمبر 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلینیا ٹرمپ نے بھی اس اڈے کا اچانک دورہ کیا تھا اور اس اڈے کی اہمیت کو سراہا تھا۔ محقیقین کیلئے یہ سب تفصیلات انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔

عین الاسد جیسے دورترین اور طاقتور اڈے کو نشانہ بنا کر ایرانی قیادت نے عرب ریاستوں کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ایران اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود اپنے مسلمان عرب بھائیوں کے خلاف کسی بہانے کی تلاش میں نہیں ہے۔ دشمن اس جنگ کو عجمی و عربی اور شیعہ و سنی کی جنگ میں بدلنا چاہتا تھا، امریکا و اسرائیل اور ان کے پالتو داعشیوں کی کوشش تھی کہ مسلمان ممالک آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہو جائیں اور یوں کسی پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی آغوش میں جا گریں، لیکن ایرانی قیادت نے دشمن کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ صہیونیوں کے نقشے کے مطابق داعشی اپنے قلم اور بیان کے ذریعے مسلمانوں کو عربی و عجمی اور شیعہ و سنی میں تقسیم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جو لوگ ان کی  گفتگو سنتے رہتے ہیں اور ان کی تحریروں کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ مسلمانوں میں عربی و عجمی اور شیعہ و سنی کی نفرت کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔

جہاں بھی مسلمان اس سازش کے شکار ہو جاتے ہیں، وہاں داعشی ٹولے حملہ کرکے مسلمانوں کا بنیادی انفرا اسٹریکچر، ثقافتی مراکز، تمدنی سرمایہ تباہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ  داعشیوں کے سرپرست امریکی صدر نے ایران کے 52 ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے کر داعش کے پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کا جو منصوبہ بنایا تھا، وہ بھی امت مسلمہ نے اپنے اتحاد کے ساتھ خاک میں ملا دیا ہے۔ حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی اس دھمکی کا جواب اہل سنت مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر دیا ہے۔ اس وقت ہر باشعور شیعہ و سنی کے نزدیک اسرائیل، ٹرمپ، امریکہ اور داعش کا لفظ گالی بن گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پوری دنیا کے مسلمان مفکرین اور علمائے کرام اس پر متفق ہیں کہ  امریکہ جلد از جلد اسلامی ممالک سے باہر نکلے۔ اس شہادت کے کچھ ثمرات ابھی تک سامنے آئے ہیں، لیکن اس کا حقیقی ثمرہ اس دن سامنے آئے گا، جس دن ساری دنیا سے امریکہ و اسرائیل اور داعشیوں کا انخلا ہو جائے گا اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی بن کر ایک ہی بلاک میں آجائیں گے، ساری دوریاں اور فاصلے ختم ہو جائیں گے اور ساری دنیا کے مسلمان جسد واحد کی طرح زندگی گزاریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، اخوت اور بھائی چارے کے اس سفر میں امریکی، صہیونی اور داعشی بار بار مسائل کھڑے کریں گے، مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ابھاریں گے اور تعصبات کو ہوا دینے کی کوشش کریں گے، لیکن  اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قاسم سلیمانی جیسے شہداء کا خون اور مسلمان دانشمندوں کی بصیرت اپنی تاثیر ضرور دکھائے گی۔ ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 840735
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش