0
Sunday 26 Jan 2020 10:08

ہندوستان میں یومِ جمہوریہ

ہندوستان میں یومِ جمہوریہ
اداریہ
ہندوستان آج اپنا 71واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے، ہندوستانی میڈیا کے مطابق پورے ملک میں جشن کا سماں ہے۔ جشن کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ سرکاری، موسمی، ثقافتی وغیرہ۔ لیکن ایک جشن ایسا بھی ہوتا ہے، جو دنیا کی بڑی بڑی جمہوریاوں میں اس ملک کے انسانوں کے حقوق پائمال کرکے، ان کی لاشوں پر رقص کرتے ہوئے منایا جاتا ہے۔ آج جمہوریت، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور آزادی بیان کے دہرے معیارات، ان معقول و محبوب اقدار کو داغدار کرچکے ہیں۔ جمہوریت بھی ایک دھوکہ ہے، انسانی حقوق بھی اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کا ہتھیار، سماجی انصاف بھی آئیڈئیلزم اور آزادی اظہار بیان تو صرف کتابوں اور بعض افراد کی زبان کی تکرار بن چکا ہے۔ آج کس جمہوریت کی مثال دی جائے، امریکہ کی جمہوریت، جہاں جمہوریت کا نتیجہ ڈونالڈ ٹرامپ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے، یا ہندوستان کی جمہوریت، جس میں مودی جیسا قصائی اور فاشسٹ اقتدار تک پہنچ جاتا ہے۔

کیونکہ وہ مختلف دلکش نعروں اور تعصب پر مبنی ایک مخصوص ہندوتوا فکر کا پرچار کرکے ہندو ووٹ سمیٹ کر وزیراعظم کے منصب تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک جمہوری مثال عراق کی ہے، جہاں جمہوری آواز امریکہ کے انخلاء کی بات کرتی ہے، لیکن امریکہ جمہور کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ آج ہندوستان میں یومِ جمہوریہ ہے، اس دن کی مبارکباد ہندوستان کی سرکار کو دی جائے یا کشمیر کی وادی میں بسنے والے ان آزادی پسندوں کو دی جائے، جنہیں جمہور کے نمائندے نریندر مودی نے 5 اگست 2019ء سے آج 25 جنوری تک وادی کے ایک بڑے زندان میں بند کرکے رکھا ہے۔ یا ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی مبارکباد متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ سمیت ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دھرنے پہ بیٹھی خواتین کو دی جائے۔؟

آج ہندوستان کے مسلمان، ہندو، عیسائی، سب سڑکوں پر ہیں۔ لیکن جمہور کا نمائندہ نریندر مودی اپنے متنازعہ فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایسی جمہوریت جو جائز انسانی حقوق کے راستے میں رکاوٹ ہو، جو سماجی انصاف کی قاتل ہو، جو آزادی اظہار و بیان کی مخالف ہو، کیا وہ حقیقی جمہوریت ہے یا جمہوریت کی روح سے خالی آمریت۔؟ دنیا کے ہر ملک کا یوم جمہوریہ اس قوم کے لیے خوشی کا پیغام ہوتا ہے، اس دن جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، لیکن اگر یوم جمہوریہ کے جشن میں جمہوریت جمہوریت کا راگ تو الاپا جائے، لیکن جمہور کی گردن میں پڑے پھندے کو ڈھیلا نہ کیا جائے تو یوم جمہوریت سے یوم آمریت بہتر، کیونکہ آمریت کے خلاف قیام پر کوئی جمہوریت مخالف کا الزام تو عائد نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 840791
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش