0
Wednesday 29 Jan 2020 12:44

امریکی دہشتگردی اور ایران کا ردعمل

امریکی دہشتگردی اور ایران کا ردعمل
تحریر: مبین مطہری

سب سے پہلے یہ جان لیں کہ عالمی سطح پر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تیسری جنگ عظیم (World war) ہونا طے ہے، لیکن وہ کس نوعیت کی اور کب ہوگی، اس کے دنیا پر کتنے مثبت و منفی اثرات ہون گے، اس کے لیے ایک الگ سے تجزیئے اور تحریر کی ضرورت ہے، البتہ ہمارا تجزیہ حال ہی میں بغداد ایئرپورٹ پر امریکہ کی دہشتگردی اور اس پر ایران کا ردعمل کیا ہوگا، کے بارے میں ہے۔ اس تجزیئے میں بہت سی چیزوں کو چھوڑتے ہوئے فقط چند بنیادی باتوں کو واضح کروں گا، جس کے بعد کوئی بھی چاہے تو امریکہ و ایران کی کشیدگی اور تمام عالمی معاملات کو سمجھ جائیگا۔ یہ بات تو طے ہے کہ عالمی سطح پر جتنے بھی ممالک ہیں، وہ دوسرے ممالک کی نسبت اپنے مفادات کو زیادہ اولیت دیتے ہیں اور دینی بھی چاہیئے کیونکہ یہ انکا بنیادی حق ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ کسی ملک کو روند کر اپنے مفادات حاصل کیے جائیں، یہ ایک دہشتگردی اور خیانت ہے، ایسا ہی رویہ چند ممالک میں پایا جاتا ہے، جن میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب سر فہرست ہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد کو پار کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ امریکہ عالمی سطح پر خود کو سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہے اور اسرائیل و سعودی عرب کو اپنے دو بازو مانتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی طاقت کی بنیاد پر دنیا کو اپنا غلام بنائے، اسی لیے آپ دیکھیں کہ کسی بھی ملک کے حالات خراب کرنے اور اسے کمزور کرنے کے لیے داخلی لحاظ سے مفسد اور دہشتگرد تنظیموں کو بناتا ہے اور جب وہ ملک کمزور ہوتا ہے تو امریکہ انسانیت اور امن کا ڈھونگ رچا کر اپنے ہی بنائے ہوئے دہشتگردوں اور فسادیوں کو ختم کرتا ہے، تاکہ ایک تیر سے دو شکار ہوں۔ دنیا کے سامنے امن پسند ہونے کی شناخت بھی بن جائے اور متاثر ممالک بھی ان کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اسے اپنا محسن اور مالک مان لیں!!؟؟ جس کے بعد وہ متعلقہ ملک سے اپنے جائز و ناجائز کام دل کھول کر لے سکتا ہے۔

لیکن اس عالمی کھیل کے درمیان بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کچھ ایسے ممالک اور قومیں بھی ہیں، جو کسی بھی قسم کی غلامی اور ظلم و بد دیانتی کو قبول نہیں کرتیں، جن میں سر فہرست ایران بھی ہے، جو امریکہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، چونکہ اسلامی جمھوریہ ایران اور اس کے حمایتی کچھ مسلم ممالک عالمی سطح پر امن و امان اور ظلم کی روک تھام کے لیے اسلامی نظام کو پروان چڑھانے اور نافذ کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے لیے وہ کسی بھی قسم کی زیادتی اور ظلم و جبر کو قبول نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے ہر اس گروہ، قوم اور ملک کی مخالفت کی جاتی ہے، جو ظلم و زیادتی کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کافی عرصے سے امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک جن میں پہلے نمبر پر ایران شامل ہے، میں تنازعہ بڑھا ہوا ہے، جس سے امریکہ کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ یہ رکاوٹ ہٹانے کے لیے متعدد بار جائز و ناجائز اقدامات کر چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ متوقع کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔

اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے حال ہی میں امریکہ نے بغداد ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ کرکے ایران اور عراق کے دو جرنیلوں، ایران کے جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کے جنرل ابو مھدی المھندس کو ٹارگٹ کرکے شہید کیا، جس سے عالمی سطح پر حالات مزید کشیدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اگر اس حملے پر بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حملہ عالمی اصولوں کے خلاف اور خیانت سے پُر تھا، جس کی وجہ سے امریکہ نے جو تھوڑی بہت عالمی سطح پر عزت کمائی تھی، وہ بھی ختم ہو جاتی ہے اور اکثر ممالک اسے دھوکہ باز اور دنیا میں فساد کی بہت بڑی وجہ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ دہشتگردی امریکہ کی جلد بازی اور جذباتی اقدامات کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے اس کی داخلی اور خارجی شناخت کو بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے رُخ کی طرف کہ اب ایران، عراق یا شام کا کیا ردعمل ہوگا اور امریکہ کی اس وقت کیا کیفیت ہے!؟ ایران، عراق یا شام یہ ایسے ممالک ہیں، جو اپنی مضبوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کرتے ہیں، بالخصوص ایران۔ امریکہ اس وقت بہت زیادہ شش و پنج میں ہے کہ کیا کرنا چاہیئے اور یہ ابھی تک سوچ رہا ہے کہ حملہ کرنے کے لیے حالات اور وقت مناسب تھے یا نا مناسب، میں نے صحیح کیا یا غلط!! (چونکہ میں نے اوپر پہلے بھی کہا کہ امریکہ کی بغداد ایئرپورٹ پر دہشتگردی اس کے جذباتی قدم کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے اس کی حکمت عملی کا کوئی تعلق نہ تھا) اور خاص بات یہ ہے کہ امریکہ کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ایران جذباتی اقدامات نہیں کریگا، بلکہ وہ اپنی غیر معمولی اور طاقتور حکمت عملی اور پلاننگ سے انتقامی کارروائی کریگا، جس کا نتیجہ امریکہ کو بہت بڑے نقصانات کی صورت میں ہوگا۔

ایک بات اور ہے، جس پر توجہ دینا انتہائی اہم ہے کہ امریکی دہشتگردی کے دوسرے ہی دن ایران نے مسجد جمکران میں جہاں سبز رنگ کا علم بلند کیا جاتا تھا، وہاں لال رنگ کا علم بلند کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اب عالمی دہشتگرد اور ظالم(بالخصوص امریکہ و اسرائیل) کو جواب دینے کے لیے ہماری قوم، ہماری فوج اور ہمارے نوجوان مکمل طور پر تیار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مسجد جمکران میں ہی علم کا رنگ تبدیل کیوں کیا گیا!؟؟ تو اسکی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ایران میں اکثریت مکتب اہلبیت ؑ سے تعلق رکھنے والی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اکثر مسلم مکاتب فکر بالخصوص مکتب اہلبیت ؑ کو ماننے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امام مھدی (عج) آئیں گے اور عالمی انقلاب برپا کریں گے تو اس حوالے سے مکتب اہلبیت ؑ میں یہ بھی عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ ہر بدھ کی رات مسجد جمکران میں امام مھدی (عج) آتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تو اس مسجد کی نسبت اس امام ؑ سے ہے، جو عالمی دہشتگردی اور ظالم کو ختم کرکے پوری دنیا میں عدل اور عدالت قائم کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ مسجد جمکران میں لال رنگ کا علم بلند کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ عالمی دہشتگرد (امریکہ) کو سبق سکھانے کے لیے اذن جہاد مل چکا ہے، جس کے سربراہ امام مھدی (عج) ہیں اور اب ہم لڑیں گے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایران کبھی بھی امریکہ پر جلد بازی میں یا جذباتی اقدامات سے انتقامی کارروائی نہیں کریگا بلکہ وہ اپنی پوری دیانتداری اور حکمت عملی سے ایسے مضبوط اور طاقتور اقدامات کریگا، جس سے امریکہ کو زیادہ سے زیادہ نقصانات کا سامنا ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ ایران ایسے اقدامات کب کریگا تو اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ایران چونکہ ہر قسم کی طاقت اور ترقی کے لحاظ سے اپنی رفتار تیز کر رہا ہے تو گمان غالب یہی ہے کہ اس قسم کے اقدامات جلد ہی ہوں۔
خبر کا کوڈ : 841381
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش