0
Friday 31 Jan 2020 15:08

شہید قاسم سلیمانی، دلسوزی اور یتیم پروری

شہید قاسم سلیمانی، دلسوزی اور یتیم پروری
تحریر: ڈاکٹر علی عباس نقوی

اللہ کے خاص بندے ایک الہیٰ جذبے میں ڈھلے ہوتے ہیں۔ وہ کمزور طبقوں، کمزور لوگوں کے لیے بہت نرم دل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے سوچتے رہتے ہیں، ان کے دل انکے لیے دھڑکتے رہتے ہیں۔ وہ ان کے دکھوں کے مداوے میں لگے رہتے ہیں، ان کمزور طبقوں میں سے ایک طبقہ یتیموں کا ہے، ماں اور پاپ کے بغیر یا ان میں سے کسی ایک کے بغیر کسی بچے کی نشو و نما بہت مشکل ہوتی ہے۔ یتیمی کا درد جس نے نہیں چکھا، وہ اسے کماحقہ بیان نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم میں عظیم ہستیوں کے بے قرار ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے انداز ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض عظیم شخصیات کو اس کا مزہ چکھایا ہے، جو خود بھی یتیمی سے گزرے ہیں، تاکہ ان کو معاشرے کے کمزور طبقوں کا شدت سے احساس ہوسکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد گرامی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے قبل ہی اس عارضی دنیا سے انتقال کر گئے تھے اور آپ کی والدہ گرامی، آپ کی چھ سال کی عمر میں انتقال فرما گئیں تھیں۔

اسی طرح دیگر شخصیات کا تعارف بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ نیز قرآن حکیم کی اصطلاحات کے اندر ہمیں یہی کیفیت نظر آتی ہے از جملہ غلاموں کی آزادی، محروموں کے لیے دلوں کو حرکت میں لانا، محروموں، مستضعف، فقیر اور مسکین کا لفظ استعمال کرنا، درد دل رکھنے والوں کے لیے سوز دل پیدا کرتا ہے، ایک نیا جذبہ انسانوں میں ابھرتا ہے اور اس سے ایک اصلاحی تحریک آغاز ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں خاص طور پر یتیموں کا بہت زیادہ ذکر ہوا ہے۔ ان کے حقوق کا، ان کے ساتھ شفقت کا، ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا، ان کے اموال کی حفاظت اور نگہداشت کا، ان کے ساتھ خیانت نہ کرنے کا، نیز جہاں بھوکوں کو کھانا کھلانے کی بات آئی ہے، وہاں اہل بیت علیہم السلام کے طرزعمل کو بھی بیان کیا گیا ہے: "وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا"(دھر/8) اسی طرح بہت سی قرآن حکیم کی آیات مبارکہ یتیموں کے لیے بیان ہوئی ہیں۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "يَا عَلِيُّ أَنَا وَ أَنْتَ أَبَوَا هَذِهِ اَلْأُمَّةِ (المالی (للصدوق)جلد 1، صفحہ 657) یعنی میں اور علی دونوں اس امت کے باپ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کا باپ نہیں ہے، اس کے محمدۖ اور علی باپ ہیں۔ یتیم اپنے آپ کو یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح سے جناب فاطمة الزھراء علیہا السلام کے بارے میں ہے کہ وہ بھی پوری امت کے لیے ماں ہیں۔ یہ جو روحانی سلسلہ ہے، حضرت فاطمۃ الزھراء علیہا السلام کا کہ وہ ماں ہیں، اس احساس کو کہ وہ ماں ہیں، اسے بہت خوبصورتی سے شہید قاسم سلیمانی نے کئی مقامات پر بیان کیا ہے: میں آپ (سامعین) کی خدمت میں اور شہداء کے حضور یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب بھی جنگ کی سختیوں کے باعث ہم پر بہت زیادہ پریشر آجاتا تھا اور ہم سے کچھ حل نہیں ہو رہا ہوتا تھا، ایسی صورتحال میں جناب زھراء سلام اللہ علیھا کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی تھی ہمارے لئے، اور حضرت زھرا سلام اللہ علیھا ہمارے لئے پناہ گاہ تھیں۔۔۔

آپریشن "والفجر" کے دوران، جب ہماری نگاہیں نہر اروند کے خوفناک اور ٹھاٹیں مارتے ہوئے پانی پر پڑیں، جسے دیکھ کر ہمارے اوپر لرزہ طاری ہوگیا اور ہم سہم گئے، وہاں کوئی اور نام حضرت زھرا سلام اللہ علیھا سے زیادہ آشنا ہم نے نہیں پایا، آپ کو نہر اروند کے کنارے آواز دی۔۔۔ بسیجیوں کے مظلومانہ اور غریبانہ اشکوں کے سامنے آپ کے نورانی وجود کا مشاہدہ کیا اور نہر اروند پر یا زھراء سلام اللہ علیھا کے طفیل مدد سے کنٹرول حاصل کر لیا اور نہر کو عبور کیا۔۔۔ آپریشن کربلا کے دوران جب رات ہوئی، جب دشمن نے ساحل پر بلا فاصلہ فائرنگ اور گولے برسانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور ہمارے افراد کا خون نہر اروند پر بہنا شروع ہوا، اس وقت بھی ساری پلاننگ اور تدبیریں ہاتھ سے نکل چکی تھیں۔۔۔ اس وقت بھی ماسوائے نام زھراء سلام اللہ علیھا اور کوئی نام لب پر جاری نہیں ہوا۔۔۔ جس وقت عراقی نہر اروند کے کنارے کھڑے تھے اور جوانوں کو اپنی فائرنگ کا نشانہ بنا رہے تھے، اس وقت بھی ہمارے لئے حضرت زھراء سلام اللہ علیھا سے توسل کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا، کارآمد اسلحہ نہ تھا۔۔۔

آپریشن کربلا میں بھی جب ہم پریشانی کا سامنا کرتے، مضطر ہوتے اور کٹے ہوئے پیروں کی جانب ہماری نگاہیں جاتیں، پیشانی خاک پر رکھتے اور عاجزانہ انداز میں آپ سلام اللہ علیھا کو پکارتے۔ میں نے خود حضرت زھراء سلام اللہ علیھا کو (گریہ) آپ کی قدرت کو اور مادرانہ شفقت کا مشاہدہ کیا۔۔۔ مغربی کنال میں دیکھا، مائنز بچھی ہوئی زمینوں میں دیکھا۔۔۔ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی دریائے نیل کے کنارے، جب فرعون اور اس کا لشکر آپکے نزدیک پہنچ رہا تھا۔۔۔ اگر وہ اس خوفناک موقع پر ایک آنکھ سے ہیبت ناک دریا کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دوسری آنکھ سے فرعون کے خوفناک لشکر کو دیکھ رہے تھے اور خدا نے نیل کو آپ کے لئے شگاف کیا تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کربلا میں، نہر اروند پہ، کردستان کے سخت اور سرد پہاڑوں پر اپنی ممتا کا اظہار کیا۔

سردار اسلام شہید قاسم سلیمانی ایک اور جگہ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مجاہدین کو جب مشکلات آتی تھیں تو وہ بی بی سلام اللہ علیہا کو پکارتے تھے۔ ایک جگہ ماوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے ماوں، آپ نہ تھیں، لیکن فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنی ممتا کے ساتھ ہماری مدد کے لیے ہر جگہ محاذ پر موجود تھیں۔ جہاد کے راستے میں مشکلات اور مصائب کا سلسلہ بہت زیادہ آتا ہے اور خاص طور پر جب جہاد کرتے ہوئے لوگ شہید ہو جاتے ہیں، ان شہداء کا راستہ تو شہید قاسم کا راستہ ہی تھا، نیز جہادی راستے میں ظاہر ہے کہ لوگ شہید ہو جاتے تھے۔ اس جہادی راستے میں بہت سے شہید قاسم کے ساتھی خدا کی راہ میں جام شہادت پا چکے تھے، جن کے کے پیچھے ان کے بچے رہ  گئے تھے۔ شہید ان شہداء کے گھر والوں کی خود سرپرستی فرماتے تھے۔

شہید اپنی نہضت میں جتنا جتنا آگے بڑھتے جا رہے تھے، ان کے دل میں، درد، سوز، رنج، غریبوں اور یتیموں کے لیے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ان کا وجود ایک خاص ڈھانچے میں بنا ہوا لگتا ہے، یتیموں کے ساتھ ان کی شفقت اور محبت کے مناظر دیکھ کر انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتا۔ دیکھتے ہیں کہ اولیاء اور انبیاء علیہم اسلام کے ماننے والے کا ایسا لطیف جذبہ ہے، ان کا ایسا سوز ہے، جس سے یتیموں کے لیے ایک نئی امید پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان سایہ پدری سے محروم ہو جائے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ نبی پاک اور علی موجود ہیں، ان کے مکتب کے پروردہ کی یہی حالت نظر آتی ہے کہ آپ کیسے یتیموں کے گھر جاتے ہیں، کیسے ان سے شفقت کرتے ہیں، کیسے آپ انہیں بار بار چومتے ہیں، ایسے متعدد مناظر ہمیں ان کی شہادت کے بعد دیکھنے کو ملے۔

جیسا کہ مجاہد راہ خدا قاسم سلیمانی علیہ الرحمہ کسی ایسے جلسے سے خطاب کر رہے تھے، جہاں شہداء کے اہل خانہ اور ان کے بچے بھی موجود تھے۔ وہ بچے اگلی صفوں میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ شہید کی تقریر کے دوران کوئی خاص مہمان جلسے میں پہنچا تو کسی نے ان بچوں کو کرسیوں سے اٹھا کر کہیں اور بٹھانے کی کوشش کی۔ مگر شہید قاسم نے سخت لہجے میں کہا کہ بھائی شہید کے بچے جہاں بیٹھے ہیں، انہیں وہیں بیٹھا رہنے دو، انہیں کھڑا مت کرو، جا کر دوسری کرسی لے آو اور بیٹھ جائو۔ ایسے کئی واقعات ہیں، سوشل میڈیا پر بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں شہید قاسم سلیمانی ایک بچے کو گود میں لیکر اس سے پیار اور لاڈ کی زبان میں محو گفتگو ہیں۔

ایسے مناظر دیکھ کر خیال آتا ہے کہ دشمن کے لئے سخت اپنوں کے لئے کس قدر نرم دل ہوتے ہیں۔ یقینی طور پر شہادت بھی ایسے ہی افراد کا انتخاب کرتی ہے۔ شہادت کے دو روز بعد بھی ایک اور ویڈیو ہم سب نے دیکھی کہ جس میں دوران نماز ایک شہید کا فرزند شہید قاسم سلیمانی کو پھول پیش کرتا ہے تو وہ اس کو اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ ایسے مناظر یقینی طور پر شہداء کی تکریم کا جذبہ بڑھاتے ہیں۔ دیگر واقعات میں مشاہدہ کیا گیا، جب آپ کو یتیم بچے مل جاتے تو ان کو سینے سے لگاتے ہیں۔ ایسے کئی بچوں کی داستانیں ہیں، جو اب یہ سمجھتے تھے کہ آپ ہمارے باپ ہیں، کئی ایسے ہیں جو ان کی شہادت کے بعد کہتے ہیں کہ ہمارا باپ شہید ہوگیا۔ ان کی ابویت اور پوری سوسائٹی کے اوپر ان کا بابا ہونا چھایا ہوا ہے۔ ظاہر ہے یہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کا پروردہ شخص ہے، جس کی ذات کے یہ رحم کے جلوے ہیں۔

اللہ کے خاص ناموں میں سے ایک رحمان اور رحیم ہے۔ بچوں کے لیے رحمانیت کی ضرورت ہے اور نیکو کاروں اور اچھے  لوگوں کے لیے رحمیت والی بات ہے۔ یہ رحمانیت یعنی پرورش دینے والا اپنی رحم میں پروان چڑھانے والا، جیسے ماں کے رحم میں بچہ نشو و نما پاتا ہے۔ ایسے بہت سے مناظر ہمیں شہید سردار قاسم سلیمانی  کی زندگی میں نظر آئیں گے۔ ان کی جب جب یاد آئے گی، ان کی زندگی کا یہ پہلو انسان کے سامنے ابھرتا  چلا جائے گا اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے لوگ افتخار کریں گے کہ اس مکتب نے کیسے کیسے عظیم انسانوں کو پروان چڑھایا ہے، بیک وقت دشمن کے لیے  ایسے زبردست مجاہد، سردار اور پھر بیک وقت پسے ہوئے لوگوں کے لیے اور یتیموں کے لیے سایہ شفقت، ان پر ہمارا سلام ہو، ان کی روح پاک پر رحمتیں، برکتیں اور مغفرتیں نازل ہوں۔آمین
خبر کا کوڈ : 841806
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش