6
Saturday 1 Feb 2020 01:36

امریکی حکومت کا اسرائیل نواز مشرق وسطیٰ منصوبہ

امریکی حکومت کا اسرائیل نواز مشرق وسطیٰ منصوبہ
تحریر : محمد سلمان مہدی

امریکا کی جانب سے اسرائیل کے مفاد میں ایک اور نیا منصوبہ برائے مشرق وسطیٰ پیش کر دیا گیا ہے۔ البتہ راقم الحروف کی جانب سے یہ ایک ابتدائی تحریر ہے۔ آئندہ مزید لکھا جا سکتا ہے، مگر یہ یاد رہے کہ ٹرمپ کا پیش کردہ مجوزہ منصوبہ وہی ہے، جس کی تفصیلات ماضی میں خبروں کی صورت میں دنیا کے سامنے آچکیں ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ پچھلی ری پبلکن حکومت کے دور میں صدر بش جونیئر نے روڈ میپ پیش کیا تھا۔ اب ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل 28 جنوری 2020ء کو ایک نیا امن منصوبہ برائے مشرق وسطیٰ پیش کیا ہے۔ البتہ اس کا عنوان امن برائے خوشحالی رکھا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں مجوزہ مشرق وسطیٰ امن منصوبہ کی تقریب رونمائی میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتنیاہو ان کے ساتھ تھے۔ عرب مسلمان ممالک میں سے صرف تین ملکوں متحدہ عرب امارات، عمان اور بحرین نے اپنے سفیروں کو اس تقریب میں شرکت کے لئے بھیجا تھا، لیکن اکثریت نے غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ عرب اور مسلمان عوام کے غیظ و غضب سے یہ حکمران اچھی طرح آگاہ ہیں۔

جیسا کہ پہلے تذکرہ ہوا کہ صدر ٹرمپ کا مجوزہ 22 حصوں میں تقسیم 181 صفحات پر مشتمل منصوبہ وہی ہے جس کی تفصیلات ماضی میں خبروں کی صورت میں منکشف کی جاتیں رہیں ہیں۔ البتہ کہنے کو 22 حصوں پر مشتمل سہی مگر بنیادی طور پر اس منصوبے کے دو حصے ہیں۔ ایک سیاسی فریم ورک اور دوسرا اقتصادی فریم ورک۔ حسب توقع اس میں غیر منقسم یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ فلسطینی ریاست کو اس مجوزہ ریاست سے بھی بہت زیادہ چھوٹا کر دیا گیا ہے کہ جسے اوسلو معاہدے میں اسرائیل نے خود تسلیم کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب عہدہ صدارت پر فائز ہوئے تو انہوں نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امور اپنے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو سونپ دیئے تھے۔ البتہ اس معاملے میں دو دیگر نامور زایونسٹ یہودی بھی باقاعدہ عہدوں پر مقرر کئے۔ ٹرمپ حکومت نے ڈیوڈ فریڈمین کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر تعینات کیا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے کاروباری وکیل اور اپنے مشیر برائے اسرائیل جیسن گرین بلیٹ کو مشرق وسطیٰ امن کے سلسلے میں بحیثیت امریکی صدر اپنا مشیر مقرر کیا۔

یعنی یہ تینوں اسرائیل کے کٹر حامی امریکی حکومت کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر اسرائیل کے امور کے نگران بنا دیئے۔ ان تینوں نے مل جل کر ڈیل آف دی سینچری یعنی صدی کا معاہدہ، کے عنوان سے ایک ایسا فارمولا بنایا، جس میں فلسطین کے سارے مطالبات نظر انداز کرکے اسرائیل کو ماضی کی نسبت اور زیادہ علاقے اور کنٹرول دے دیا گیا۔ انہی تینوں کے تیار کردہ مجوزہ منصوبے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ رسمی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حسب توقع فلسطینی قیادت نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ نہ صرف مزاحمتی تحریک حماس نے بلکہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے بھی ٹرمپ کا اعلان کردہ منصوبہ مسترد کر دیا۔ کیونکہ اس میں فلسطین کی اصل حیثیت اسرائیل کی ایک مضافاتی بستی یا زیادہ سے زیادہ ضلع کاؤنسل تک محدود ہے۔

صدر ٹرمپ کا تجویز کردہ منصوبہ امن نہیں بلکہ اعلان جنگ ہے۔ انہوں نے ماضی کی امریکی پالیسی سے بھی جنگ کا اعلان کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیشنل لاء سے، عالمی اداروں سے بھی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ماضی میں بین الاقوامی اتفاق رائے اس نکتے پر تھا کہ 1967ء کی جنگ سے پہلے کی جغرافیائی حدود میں فلسطینی ریاست بنائی جائے، جس میں بیت المقدس یعنی مقبوضہ یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔ مسلمان اور عرب تو اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے ہیں۔ یاد رہے کہ فلسطین کی مزاحمتی تحریکیں پورے فلسطین کو 1948ء کے نقشے سے پہلے کے فلسطین میں فلسطینی ریاست کا قیام چاہتی ہیں۔ حماس اور جہاد اسلامی فلسطین آج بھی اسی نظریئے کو مانتی ہیں۔ ماضی میں یاسر عرفات کی الفتح سمیت پوری تنظیم آزادی فلسطین اسی ہدف کے حصول کے لئے مسلح مزاحمت کیا کرتیں تھیں۔ مگر اوسلو معاہدے کے بعد انہوں نے موقف تبدیل کر لیا تھا۔ لیکن اوسلو معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے یاسر عرفات کو بنکر میں چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور رکھا۔ بالآخر انہیں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

یاسر عرفات کی زندگی اور المناک موت نے ہی اوسلو معاہدے کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا تھا اور ٹرمپ کا امن منصوبہ برائے مشرق وسطیٰ 1967ء کی جنگ سے پہلے کے نقشے میں فلسطینی ریاست پر عالمی اتفاق رائے سے جنگ کا اعلان ہے۔ امریکی حکومت یہ غلط تاثر دے رہی ہے گویا امریکی صدر کے منصوبے کی مخالفت محض فلسطین اور ایران کر رہے ہیں۔ امریکی حکام یہ تاثر دے رہے ہیں، گویا بہت سارے ممالک نے حمایت کر دی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جو بیانات دنیا بھر سے آئے ہیں، وہ محتاط ہیں اور اس میں اصل فریق تو فلسطین ہے۔ فلسطین کے نمائندگان نے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، یعنی اب اس منصوبے کی اخلاقی حیثیت بھی نہیں ہے۔ قانونی لحاظ سے تو ویسے ہی امریکی منصوبہ غیر قانونی ہے اور اسکی حیثیت ردی کے کاغذ سے زیادہ کی نہیں۔

اس منصوبے پر ایک رائے ہارون داؤد ملر (آرون ڈیوڈ ملر) نے دی ہے۔ آرون 1978ء سے 2003ء تک امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (وزارت خارجہ) میں مورخ، تجزیہ نگار، مذاکرات کار اور مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اس طویل سرکاری ملازمت میں وہ امریکی ڈیموکریٹک اور ری پبلکن ادوار حکومت میں امریکی وزیر خارجہ کے مشیر بھی رہے۔  اسی لئے ہم امریکی حکومت کی جانب سے مشرق وسطیٰ امن منصوبے پر ان کی رائے پیش کرتے ہیں۔ ہارون داؤد ملر (آرون ڈیوڈ ملر) نے مڈل ایسٹ پیس پلان کو صدر ٹرمپ کا ذہنی وہم قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ذہنی واہمہ امن سے متعلق تو ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو سرے سے ڈیل ہی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بھی یہودی ہیں، مگر انکی رائے بھی مخالفت پر مبنی ہے۔

البتہ میری ذاتی رائے ہے کہ اس کی ٹائمنگ اہم ہے۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے مشرق وسطیٰ میں اہم واقعات ہوئے ہیں۔ امریکا نے عراق کے عوامی رضاکار لشکر حشد الشعبی میں شامل گروپ کتائب حزب اللہ پر حملہ کیا۔ اس میں قتل ہونے والے عراقی رضاکاروں کے جلوس جنازہ کے بعد 31 دسمبر 2019ء کو عراقیوں نے بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا۔ عراقیوں نے عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ امریکی سفیر سفارتخانہ چھوڑ کر فرار پر مجبور ہوا۔ تین جنوری 2020ء کو امریکی افواج کی مشترکہ آپریشن کمانڈ نے غیر قانونی طریقے سے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کے عوامی رضاکار لشکر کے کمانڈر ابو مھدی مھندس کو بغداد میں میزائل حملوں میں قتل کر دیا۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی پر سوالات اٹھنے لگے۔   عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ نے بھی امریکی فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا۔ عراق میں ملین مارچ میں عوام نے امریکی فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا۔ لبنان میں جو حکومت بن رہی ہے، اس میں امریکا کا حمایت یافتہ 14 مارچ بلاک شامل نہیں ہے۔

پھر ایران نے عین الاسد عراق میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل برسائے۔ اس کے بعد افواہیں ہیں کہ سی آئی اے کا اہم افسر برائے ایران و مشرق وسطیٰ ڈارک پرنس مائیکل ڈی اینڈریا افغانستان میں طیارہ حادثے میں مارا گیا۔ یاد رہے کہ ایران کے جوابی میزائل حملوں میں نقصانات کو امریکا نے چھپایا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ سب خیر ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ مگر اب پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ 64 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں اور یہ بھی تین قسطوں میں قبول کیا ہے۔ یعنی یہ ٹائمنگ ایسی ہے کہ امریکا کی طاقت کا خوف ختم ہوگیا ہے۔ خطے میں امریکا کی مداخلت کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ مڈل ایسٹ پیس پلان پیش کرکے صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادی عرب ممالک کو جمع کرکے امریکی حمایت کا سوچا ہے، مگر وائٹ ہاؤس میں صرف تین عرب مسلمان ملکوں کے سفیروں کی شرکت بتاتی ہے کہ امریکی عرب اتحادی اپنے ملکوں کے عوام کے غصے سے اب بھی ڈرتے ہیں، کیونکہ عرب اور مسلمان رائے عامہ اب بھی عرب سرزمین فلسطین میں اسرائیل کو بحیثیت ایک نسلی یہودی ریاست تسلیم کرنے کی شدید مخالف ہے۔
خبر کا کوڈ : 841878
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش