1
Sunday 2 Feb 2020 23:49

ڈونلڈ ٹرمپ اور فلسطین کی نیلامی

ڈونلڈ ٹرمپ اور فلسطین کی نیلامی
تحریر: محمود حکیمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار موخر کرنے کے بعد آخرکار منگل 28 جنوری کے دن مشرق وسطی میں اپنے بقول امن کیلئے سینچری ڈیل نامی منصوبہ سرکاری طور پر پیش کر ہی دیا۔ جس تقریب میں اس امن منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا گیا اسے دیکھ کر بالکل محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ دو متنازعہ فریقین کے درمیان کسی قسم کا کوئی امن معاہدہ ہے۔ یہ تقریب ایک طرح کی نیلامی سے شباہت رکھتی تھی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ فلسطین کی تمام سرزمینوں کو نیلامی کرنے میں مصروف تھے جبکہ نیلامی جیتنے والا شخص بھی بنجمن نیتن یاہو کے روپ میں ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ اس نیلامی میں کئی نظارہ گر عرب رہنما بھی موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نام نہاد امن منصوبے اور اسے منظرعام پر لانے والی تقریب کے خلاف جلد ہی دنیا بھر سے ردعمل سامنے آنا شروع ہو گئے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کی بنیادیں رکھنے والے ملک برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا گیا جبکہ دنیا کے اکثر ممالک نے اس کی واضح مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ البتہ چند ایک عرب ممالک نے بھی سینچری ڈیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جن کے نمائندے نیلامی کی اس تقریب میں شریک تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کی اکثر ممالک خاص طور پر فلسطینی رہنماوں کی جانب سے شدید مخالفت نے اس کی ناکامی اور شکست کا زمینہ ہموار کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرلڈ کشنر شدید غصے میں دکھائی دیتے ہیں۔ جیرلڈ کشنر سینچری ڈیل کے اصل بانی تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ فلسطینی رہنماوں کی شدید مخالفت سے اس قدر برہم ہوئے ہیں کہ گالیوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا: "وہ احمق ہیں کیونکہ ٹرمپ کے امن منصوبے کا مطالعہ کرنے سے پہلے ہی اسے مسترد کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھا منصوبہ نہیں ہے۔" جیرلڈ کشنر نے توہین آمیز بیان جاری رکھتے ہوئے کہا: "فلسطینیوں کو ٹھنڈے پانی سے نہانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ہوش ٹھکانے آ جائیں اور وہ یہ منصوبہ اچھی طرح سمجھ کر ہضم کر سکیں۔" ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد نے انتہائی غرور آمیز انداز میں فلسطینی عوام اور رہنماوں کی توہین کی ہے۔ وہ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ سینچری ڈیل نامی منصوبے کے ذریعے فلسطینیوں پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کے بنیادی ترین اور واضح ترین حقوق بھی پامال کر دیے گئے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ احمق وہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کو قبول کر رہا ہے کیونکہ صرف اس نقشے پر ہی ایک نظر ڈالی جائے تو ساری حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے جو وائٹ ہاوس نے اس منصوبے کے نتیجے میں فلسطین کیلئے جاری کیا ہے۔ اس نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینچری ڈیل نامی منصوبے کے نتیجے میں نہ صرف قدس شریف فلسطینیوں کا دارالحکومت نہیں رہے گا بلکہ ان سے باقی سرزمینیں بھی چھین لی جائیں گی اور فلسطینی ریاست چند بکھرے ہوئے جزیروں کی صورت میں تبدیل ہو جائے گی۔ دوسری طرف سینچری ڈیل کے تحت اردن کا درہ بھی غاصب اسرائیلی رژیم کو دے دیا جائے گا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کا اردن سے بھی زمینی رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ یوں ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے داماد نے سینچری ڈیل کے ذریعے فلسطین کو چند مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر ڈالا ہے اور فلسطینیوں کو قدس شریف اور پرانے آبائی محلوں جیسے قیمتی علاقوں سے یکسر محروم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف اس نئے نقشے کے مطابق غاصب صہیونی رژیم کو فلسطینیوں پر مکمل فوجی اور سکیورٹی تسلط حاصل ہو جائے گا۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی غیرت مند فلسطینی اپنی سرزمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ دوسری طرف اس منصوبے میں اسرائیل کو اس قدر بے تحاشہ مراعات دی گئی ہیں کہ ترکی، اردن اور مصر جیسے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے باوجود اس منصوبے کو صاف مسترد کر دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے انتہائی محدود عرب ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے سینچری ڈیل قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعلان کی تقریب میں اپنے نمائندے بھی بھیجے تھے۔ لیکن اسلامی دنیا میں ان عرب حکمرانوں کے خلاف نفرت کی آگ پیدا ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان عرب حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے اس اقدام کو عرب دنیا کے پہلی ترجیح کے حامل ایشو سے غداری قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ دوسری بار امریکہ کے صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد سینچری ڈیل کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ آل سعود رژیم اور چند دیگر عرب حکمرانوں کی فلسطین کاز سے غداری ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی سرزمینوں کی نیلامی کا باعث بنی ہے کیونکہ اگر ان حکمرانوں کی حمایت نہ ہوتی تو جیرلڈ کشنر ہر گز اس منصوبے کو منظرعام پر لانے کی جرات نہ کرتا۔
 
خبر کا کوڈ : 842246
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش