0
Friday 7 Feb 2020 15:49

مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات اور فرقہ پرست

مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات اور فرقہ پرست
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

جنرل قاسم سلیمانی ؒ کی شہادت کو ایک ماہ مکمل ہو رہا ہے، اگر دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر یہ بڑا تہلکہ خیز مہینہ رہا۔ دنیا کے ایک سرے پر واقع امریکہ میں  صدر کا مواخذہ ہو رہا تھا اور اس سے توجہ ہٹانے کے لیے پورے مشرق وسطیٰ کو آگ میں دھکیل دیا گیا۔ یہ کیسی انتہاء پسندی ہے کہ آپ اپنے اندونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اپنے ملک کی رائے عامہ کو اپنے لیے ہموار کرنے کے لیے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل جائیں۔ ہمارے سیکولر دوست جب بھی بات کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ دیکھیں جمہوریت، کیسا پرامن نظام حکومت ہے، جس میں اقتدار لینے ہی نہیں بلکہ واپس کرنے کا بھی پورا نظام ہے، اس میں حکومت تبدیل کرنے کے لیے بغاوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جی بالکل درست کہا، ہم بہت عرصہ اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ ایسا ہی ہے، مگر امریکی اور اسرائیلی سیاسی تاریخ کا مطالعہ  کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ فقط کہنے کی حد تک درست ہے، ورنہ سیاسی کامیابی کے لیے ملکوں کے ملکوں اجاڑ دیئے جاتے ہیں۔

امریکی سینیٹ صدر کلنٹن کے خلاف مونیکا سکینڈل پر ان کا مواخذہ کرنے ہی والی تھی کہ امریکی میزائل پاکستان سے گزرتے ہوئے افغانستان کے پتھروں سے جا ٹکرائے، انہیں اسامہ تو نہ ملا مگر وہ ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچا گئے۔ اس حملے سے امریکی صدر بل کلنٹن مواخذے سے بچ گئے اور امریکی رائے عامہ ان کے ساتھ ہوگئی۔ ابھی ٹرمپ کے خلاف بھی اسی طرح کا ماحول تھا، اس نے اس سے نکلنے کے لیے عراقی حکومت کے مہمان پر حملہ کرکے تمام قوانین کو روند دیا اور مطلوبہ نتیجہ بھی لے لیا۔ لگ یوں رہا ہے کہ ٹرمپ اگلا الیکشن بھی اسی پر لڑے گا۔ ایک امریکی صحافی نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر لکھا تھا کہ آپ لوگ آگاہ رہیں، اس وقت ہم کتنا جنرل سلیمانی کو جانتے ہیں؟ مگر تھوڑے ہی عرصے بعد آپ ان کا بہت ذکر سنیں گے اور ہمیں بتایا جائے گا کہ ایک بہت بڑے دہشتگرد سے امریکہ کو نجات دلائی ہے اور مسلسل اس کا پروپیگنڈا کیا جائے گا اور یہی ہو رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بھی مشکلات کا شکار ہے اور الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے والا ہے۔ کرپشن و نااہلی کے بہت سے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اسرائیلی عوام اس سے بہت تنگ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کو ریسکیو کرنے کے لیے صدی کی ڈیل نامی صدی کے بڑے فراڈ کا  آغاز کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ایک دوست نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا کہ امریکی صدر کی صدی کی ڈیل میں اسرائیل کو وہ سب کچھ بھی دیا گیا ہے، جس کا اسرائیل نے کبھی مطالبہ ہی نہیں کیا۔ یہ کرکے امریکی صدر نے امریکہ میں موجود طاقتور صیہونی لابی کو خوش کرنے کی کوشش کی  ہے، تاکہ وہ اس مواخذہ کی تحریک اور بعد کے الیکشنز میں اس کی حمایت کرے۔ اس پلان پر بڑی پھرتی سے عمل جاری ہے اور ٹرمپ مواخذہ کی تحریک سے نکل گیا ہے۔ اب اسرائیلی اور امریکی وزیراعظم و صدر کو الیکشن کا معرکہ درپیش ہے، جس کے لیے وہ مشرق وسطیٰ کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان دوستوں کی بات بہت ہی غیر سنجیدہ محسوس ہوتی ہے کہ جمہوریت میں انتقال اقتدار پرامن انداز میں ہو جاتا ہے، یہاں تو مہینوں پہلے حملے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جن کا ان انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

جنرل قاسم سلیمانیؒ  سے آپ اختلاف کریں آپ کا حق ہے، دنیا میں کوئی بھی جرنیل جو اتنے محاذوں پر سرگرم ہو، جس کے اندرونی سطح پر منافق اور بیرونی سطح پر براہ راست دشمن ہوں، جس کی سرگرمیوں کو کاونٹر کرنے کے لیے  اسرائیل اور امریکا میں باقاعدہ اداروں کے شعبے ہوں، وہ شخص یقیناً عام شخص نہیں تھا۔ آپ کو اختلاف کا حق حاصل ہے، مسلک سے باہر مت نکلیں، مگر جنرل سلیمانی  کم از کم پچھلے پچاس سال کا پوری امت کا حاصل تھا۔ وہ جب تک زندہ رہا، ہر محاذ پر خود کو پیش کرتا رہا، اس کی بنیادی وجہ شائد یہ تھی کہ جنرل جنگیں پڑھتے زیادہ اور لڑتے کم ہیں، اس نے جنگیں پڑھی کم اور لڑی زیادہ تھیں۔

ہمارے ہاں سیاسی شعور کا یہ عالم ہے کہ ہم آج بھی مشرق وسطی کی جنگ کو فرقہ وارانہ جنگ سمجھتے ہیں اور آل سعود کے تحفظ کو حرمین کا تحفظ سمجھتے ہیں۔ ارے عقلمندو! مشرق وسطیٰ کی جنگ کا فرقہ واریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر شیعوں کو ممالک اور علاقے لینے ہیں تو وہ امریکی اور اسرائیلی کیمپ میں جا کر زیادہ آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ پوری جنگ بین الاقوامی استعمار کو مسلم علاقوں سے نکالنے کی جنگ ہے، یہ حوصلوں کی جنگ ہے، یہ عزم و ہمت کی جنگ ہے، اس جنگ میں آپ کو انہی سے گالیاں پڑنی ہیں، جن کے لیے آپ جان قربان کر رہے ہو۔ فلسطین کے سابق وزیراعظم جناب اسماعیل ہانیہ نے جنرل قاسم سلیمانیؒ کو شہید قدس کا خظاب ایسے نہیں دیا بلکہ اس کے پیچھے شہید قاسم سلیمانی ؒکی وہ تمام قربانیاں شامل تھیں، جن کی بدولت انہیں وہ خطاب ملا۔ جنرل قاسم سلیمانی فرقہ واریت میں الجھنے والا آدمی نہیں تھا، چھوٹے لوگ اسے اپنی طرح فرقہ واریت میں تولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے لیے فقط یہی عرض کہ اس معاملے میں اسماعیل ہانیہ کے تہران کے خطاب کو بار بار سنیں، ممکن ہے اس مجاہد کی آواز آپ میں موجود فرقہ واریت کو کچھ کم کر دے۔
خبر کا کوڈ : 843211
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش