0
Wednesday 12 Feb 2020 22:27

حرف راز

حرف راز
تحریر: سید توکل حسین شمسی

وارث کی خواہش کبھی تو دل کی گہرائیوں میں منہ بستہ صدف کی مانند ہوتی ہے، جس کو ساحل لب تک لانے کے لئے اک ماہر غواص کی ضرورت ہوتی ہے، پھر خواہشات کے سچے موتی تیز دھار چاقو کی مدد سے قلب صدف سے ٹٹول کر نکالے جاتے ہیں، کبھی یہی موتی زبان کے کانٹے، سقم و عقیم کا بھالا بن کر نازا و دختر زا قلوب کو کھرید ڈالتے ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے، خلق فرماتا ہے امر و فرمان اسی کا ہے، وہ تو لفظوں کا محتاج نہیں۔ سخن خدا، کن فیکون ایجاد فعل، چاہے تو رحمت، چاہے تو نعمت سے نواز دے، اس نے یہ جہان علل و اسباب کے لبادہ میں خلق فرمایا ہے۔ وہی مراحل خلقت جنین بیان کرنے والا ہے، وہ اس علقہ (منجمد و آویزان خون) کے مذکر یا مونث ہونے کا علم رکھتا ہے، کیونکہ وہ خالق ہے، اس کا علم ذاتی و استقلالی ہے۔ اب اگر اس علقے میں کچھ انسانی نقش و نگار دیکھنے کے بعد ایک ڈاکٹر کہنے لگے کہ بیٹا یا بیٹی ہے تو یہ فرط حیرت یا مقام فتوی کفر نہیں، اس نے تو شکم کے پردوں سے جھانک کر بے لباس کو دیکھا ہے، اس نے غار حرا میں گونجنے والی پہلی وحی خلق الانسان من علق کو اپنے علم سے محسوس کرنے کی کوشش کی۔

سورہ علق کی علمی تفسیر جاننا چاہی، علّم بالقلم کو تجربے کی آنکھ سے دیکھنا چاہا، اس کا علم تجربے کی انگلیاں تھام کر نقش پا پہ نظریں جمائے چلنا سیکھتا ہے، لیکن یہ نقش و نگار ضروری نہیں ہر ایک کے لئے باعث نجات ہوں۔ جس راستے سے موسی (ع) بے خطر گزرے تھے، فرعون اسی رستے پر نشان عبرت بنا، بنی اسرائیل گزرے تو دھول اڑی، قبطی بڑھے تو غرق ہوئے۔ خدا کی باتیں خدا ہی جانے، جنم طاہرہ کا ہوا، جوانی مہربان طاہر پہ ہوئی، گیارہ سال جس نویدہ کو حیا کے پردے میں چھپا کر نسوانی رمز و رموز، مشرقی تہذیب، خانہ داری سیکھائی، آج ڈاکٹر کہتا ہے کہ وہ نوید ہے۔ ماں نے پانچ بیٹیوں کو جنم دیا، طعنے سنے، دو کو درد اٹھا ماں کے درد کا مداوا ہوگیا، پانچ کی تین ہوئیں، اب بڑی ہوکر وہ کیا بنتی ہیں ڈاکٹر یا لڑکا، خدا جانے، کون سے عوامل جنین کی جنسیت میں دخیل ہوتے ہیں، نہیں معلوم، دواء دارو غذائیں ہیں یا ایکس وائے ہے۔

یہ تو میرے رب کا نظام ہے، اس کا ارادہ اسباب طبیعی کے ذریعے اعمال ہوتا ہے، یا راز کن فیکون ہے، خواہش اور بات ہے، لیکن مصلحت دست قدرت پروردگار میں ہے، اس پتلے کی خلقت ہی عجیب ہے، پانی سے علقہ(خون منجمد) ہوا، علقے سے مضغہ(گوشت کوبیدہ)، مضغے سے عظام(ہڈیاں) پھر عظام نے گوشت کا لبادہ اوڑھ لیا، پھر انشاِناہ خلقا آخر نے اس لبادے میں جنبش و حرکت انسانی ایجاد کر ڈالی، نفخت فیہ من روحی نے تاج اشرف المخلوقات زیب سر کیا، لائق مسجود ملائک ہوا، اتنا نحیف و ناتوان 38 ہفتے میں پیدا ہو تو زود رس و ضعیف،42 ہفتے میں پیدا ہو تو آکسجن کی کمی ماں کے لئے خطرہ جاں، تنگ و تاریک رحم کی دیوار سے جڑا، ماں کے رحم و کرم پر، تنفس سے محروم، دھان بند، چشم بستہ، دل میں سوراخ، 37 درجہ حرارت  والے پانی میں تیرتا، مسکراتا، انگلیوں سے کھیلتا، جب آغوش مادر میں آتا ہے تو روتا ہے، رلایا جاتا ہے۔

یہ رونا بھی عجب نعمت و حکمت ہے، یوں کہوں تو ورزش ہے، جس سے خون کی روانی، تغذیہ کا نظام چلا، دماغ کی اضافی رطوبت خارج ہوئی، بینائی میں پختگی ملی، پھیپھڑوں نے کام کیا، 95 جفت اور 33 طاق ہڈیوں میں حرکت آئی، سرخ گودے نے خون سازی کی 21 ہڈیوں نے چہرہ جناب والا کو شکل و حسن انسانی دیا، سر کو سرکار کیا، یہ ہڈیوں میں بھی بہت کچھ ہے، چار بوسیدہ، زمین پوسیدہ ملیں شناخت کے دریچے کھلے، تشخیص جنسیت ہوئی، سن و سال، قد و قامت معلوم ہوئی، کب مرا، کب رہا، سب کا تخمینہ لگا، انسان کی کمزوری، ضعف و سستی انہی سے مربوط، واشتغل الراس شیبا سر سفیدی سے گویا شعلہ ور ہوا، جب یہ مضبوط جوانی بہار سے سرشار پھر صاحب اختیار کون؟ کتنا؟۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 844201
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش