0
Friday 14 Feb 2020 15:51

ہیومن ازم کیا ہے؟

ہیومن ازم  کیا ہے؟
تحریر: حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد علی داعی نژاد

مغربی دنیا پر تقریباً ایک ہزار سال (تقریباً 600ء سے 1600ء) تک چرچ کی حکومت رہی۔ اس دوران ایک طرف چرچ کی تعلیمات کی بنیاد تحریف شدہ عیسائی مذہب پر تھی جبکہ دوسری طرف چرچ سے وابستہ مذہبی اور سیاسی رہنماوں نے شدید آمرانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ مثال کے طور پر عام افراد کو چرچ سے ہٹ کر سوچنے کا حق حاصل نہ تھا اور نہ ہی انہیں انجیل یا تورات کی تفسیر کا حق حاصل تھا۔ لہذا وہ دین سے متعلق ہر قسم کی آگاہی اور شناخت کیلئے چرچ سے وابستہ مذہبی رہنماوں کی جانب رجوع کرنے پر مجبور تھے۔ اگر کوئی شخص خود سے مقدس کتابوں کی تفسیر کرنے کی کوشش کرتا یا جدید علوم کی بنیاد پر کوئی ایسا نظریہ پیش کرتا جو چرچ والوں کے نظریے سے متضاد ہوتا تو اسے فوراً کافر قرار دے کر شدید سزائیں دی جاتی تھیں۔ مغربی معاشرے میں دین سے نفرت پھیلنے میں چرچ کے اس رویے کا بنیادی کردار رہا ہے۔ البتہ مغربی دنیا کی دین سے دوری کی اور بھی کافی وجوہات ہیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں مغرب میں چرچ کے خلاف بھرپور عوامی تحریک نے جنم لیا جسے رینائسنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس تحریک کے نتیجے میں چرچ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور انسانی معاشرے سے دینی تعلیمات کو باہر نکال دیا گیا۔ معاشرے میں دین کے خلاء کو پر کرنے کیلئے فلاسفرز کو موقع فراہم کیا گیا اور نت نئے مکاتب فکر جنم لینے لگے۔ ان نئے مکاتب فکر میں کچھ مشترکہ اقدار پائی جاتی تھیں جن میں سے ایک ہیومن ازم (Humanism) ہے۔ عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہیومن ازم کا مطلب "انسان سے محبت" ہے اور اس مکتب فکر میں انسانوں کی خدمت کے جذبے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن یہ تصور درست نہیں بلکہ ہیومن ازم کی بنیادیں الحاد پر استوار ہیں۔ تحریر حاضر میں ہم اس مکتب کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔ ہیومن ازم کا مطلب انسان کو اصل قرار دینا یا انسان پرستی کے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام اور مکتب فکر ہے جس کی بنیاد پر انسان کو دین اور ایمان کے ذریعے حقیقت، درپیش مسائل کا حل اور زندگی میں پیش آنے والے سوالات کا جواب تلاش نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ان تمام امور میں صرف خود پر بھروسہ کرے اور اپنی دنیا کو اپنی سوچ اور عمل کے ذریعے تعمیر کرے۔ ہیومن ازم کی رو سے صرف ایسی شناخت اور علم معتبر ہے جس کا منشاء انسان ہو، نہ خدا، اور ایسا عمل پسندیدہ اور جائز ہے جو انسانی خواہشات اور آرزووں کی جہت میں انجام پائے۔

یوں، ہیومن ازم میں دین کا کوئی مقام یا کردار قابل قبول نہیں لہذا یہ مکتب فکر سیکولرازم اور دنیا سے دین کی علیحدگی کی مبادیات میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ہیومن ازم کی روح اور مرکزی خیال، جو مختلف ہیومنسٹک فرقوں کی مشترکہ قدر کو تشکیل دیتی ہے، ہر چیز میں انسان کو محور اور معیار قرار دینا ہے۔ ڈان گیوپیٹ لکھتا ہے: "مفاہیم، حقائق اور اقدار، سب انسان کی پیدا کردہ ہیں اور اس عقیدے کو "انسان پرستی یا انسان محوری" کہا جاتا ہے"۔ رینے گینون بھی اس بارے میں کہتا ہے: "ہیومن ازم اس امر کی پہلی صورت تھی جو جدید دور میں دینی روح کی نفی کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور چونکہ وہ ہر چیز کو انسانی معیار تک محدود کرنا چاہتے تھے، ایسا انسان جو خود ہی اپنا مقصد اور انتہا قرار پایا تھا، لہذا آخرکار انسان بتدریج وجود کے پست ترین درجات تک سقوط کر گیا"۔ پس، ہیومن ازم کی تعلیمات کے مطابق، انسان کو دنیا کی تعمیر اور اپنی زندگی میں خود پر بھروسہ کرنا چاہئے، نہ یہ کہ مذہبی اصولوں اور دینی تعلیمات سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یوں، انسان کی زندگی یا کم از کم اس کی دنیوی زندگی میں دین کی کوئی جگہ نہیں اور نتیجتاً دنیا سے دین کی علیحدگی یا سیاست سے دین کی علیحدگی حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

ہیومن ازم کا تنقیدی جائزہ
الف)۔ ہیومن ازم، انسانی مقام کے تعین میں ایک شدت پسندانہ رجحان ہے۔ یہ رجحان، انسان کے بارے میں عیسائی تعلیمات جیسے ہر انسان کا اصلی گناہ مرتکب ہونے پر مبنی عقیدے، کے مقابلے میں ہے۔ بے شک، اسلام جو انسان کو خلیفہ خداوند، اسماء الہی اور امانت الہی کا حامل اور توحیدی فطرت پر پیدا ہونے والا قرار دیتا ہے، انسان کے بارے میں ہیومن ازم جیسے شدت پسندانہ رجحان کا مناسب علاج ہو سکتا ہے۔
ب)۔ انسان کو مطلق العنان سمجھتے ہوئے اسے ہر چیز کا معیار قرار دینے کا نتیجہ انسان کی الہی تعلیمات سے محرومی، انسان کی صلاحیتوں کے بارے میں غیر حقیقی تصور اور انسان کی محدودیتوں سے غفلت کی صورت میں نکلے گا۔ ایسی نگاہ، نہ فقط انسان کی ترقی میں مددگار ثابت نہیں ہوئی بلکہ انسان کا اپنے مقام سے سقوط کا باعث بنی ہے۔ مذکورہ بالا نکات، مغربی ثقافت کے اہم ترین ارکان اور مبادیات کا حصہ ہیں جو سیکولرازم کی بنیاد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیا، ان تمام نکات کا منشاء عیسائیت کی تحریف شدہ تعلیمات اور رینائسنس کے اصلاح پسندوں کی شدت پسندی میں ہے اور برہانی و مدلل پہلووں سے عاری ہیں۔ اسلام ان میں سے کسی مبادی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ج)۔ اسلام کی نظر میں ہیومن ازم، انسان کی مطلق العنانیت اور خدا سے روگردانی کی بنیادی وجہ خود کو نہ پہچاننا ہے۔ دینی متون میں کہا گیا ہے کہ جو بھی خود کو پہچاننے میں کامیاب ہو جائے گا وہ خدا کو بھی پہچان لے گا۔ انسان اپنی صلاحیتوں اور ضروریات کی صحیح شناخت کے ذریعے خدا کی نسبت اپنی نیاز مندی کو سمجھ سکتا ہے اور یوں، ہیومن ازم کے حامیوں کے برعکس، اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسان کی ترقی کا محور خدا ہونا چاہئے نہ انسان۔ انسان خدا کی سمت سفر کرنے، اس میں فنا ہونے اور الہی کمالات سے مزین ہونے کے بعد ہی انسانیت کی منزل پر فائز ہو سکتا ہے اور حقیقی کمال تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اب انسان کے بارے میں بعض قرآنی آیات پر توجہ کرتے ہیں تاکہ انسان کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر واضح ہو جائے۔ خداوند قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ إِذْ قٰالَ رَبُّكَ لِلْمَلاٰئِكَةِ إِنِّي جٰاعِلٌ فِي اَلْأَرْضِ خَلِيفَةً قٰالُوا أَ تَجْعَلُ فِيهٰا مَنْ يُفْسِدُ فِيهٰا وَ يَسْفِكُ اَلدِّمٰاءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ قٰالَ إِنِّي أَعْلَمُ مٰا لاٰ تَعْلَمُونَ (سورہ بقرہ، آیت 30۔) 
ترجمہ: اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اس آیہ کریمہ میں انسان کو تمام موجودات سے برتر اور نتیجتاً خدا کا خلیفہ اور جانشین قرار دیا گیا ہے۔ یعنی صرف انسان ہی زمین پر خداوند متعال کے ارادے کو تحقق بخشنے کی قابلیت رکھتا ہے اور وہی خدا کا خلیفہ قرار پا سکتا ہے۔ یہ ان آیات میں سے ایک ہے جو اسلام میں انسان کے مقام اور منزلت کو ظاہر کرتی ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ کہ آیات الہی کی روشنی میں، انسان کو خلیفۃ اللہی کا مقام اس لئے عطا کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اعلی علمی صلاحیت موجود ہے اور وہ عظیم الہی تعلیمات کو کسب کر سکتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
وَ عَلَّمَ آدَمَ اَلْأَسْمٰاءَ كُلَّهٰا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى اَلْمَلاٰئِكَةِ فَقٰالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمٰاءِ هٰؤُلاٰءِ إِنْ كُنْتُمْ صٰادِقِينَ قٰالُوا سُبْحٰانَكَ لاٰ عِلْمَ لَنٰا إِلاّٰ مٰا عَلَّمْتَنٰا إِنَّكَ أَنْتَ اَلْعَلِيمُ اَلْحَكِيمُ قٰالَ يٰا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمٰائِهِمْ (سورہ بقرہ، آیات 31 تا 33۔)
ترجمہ: انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ (تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔

یوں، واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں علم و آگاہی کے حصول کی اعلی صلاحیت کا حامل ہونے کے ناطے انسان عظیم مقام سے بہرہ مند ہو چکا ہے۔ یہ ان عیسائی تعلیمات کے برعکس ہے جو انسان کو علم کا پھل کھانے کی وجہ سے درگاہ خداوندی سے راندہ گیا تصور کرتی ہیں۔ البتہ اسلام انسان کو خبردار کرتا ہے کہ اپنے علم کو ہی کافی نہ سمجھے اور اپنی سعادت اور فلاح و بہبود کی خاطر الہی تعلیمات پر ایمان لائے اور انہیں اپنی زندگی کی اساس قرار دے، تاکہ اس طرح اخروی سعادت تک بھی پہنچ سکے اور عدالت اور عادل معاشرے کو بھی تحقق بخش سکے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
لَقَدْ أَرْسَلْنٰا رُسُلَنٰا بِالْبَيِّنٰاتِ وَ أَنْزَلْنٰا مَعَهُمُ اَلْكِتٰابَ وَ اَلْمِيزٰانَ لِيَقُومَ اَلنّٰاسُ بِالْقِسْطِ (سورہ حدید، آیت 25۔)
ترجمہ: ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
خبر کا کوڈ : 844547
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش