?>?> مغربی بلاک میں دراڑ - اسلام ٹائمز
1
Sunday 16 Feb 2020 22:28

مغربی بلاک میں دراڑ

مغربی بلاک میں دراڑ
تحریر: علی احمدی

امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج اور دراڑ ایسی چیز نہیں جس پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ دراڑ گذشتہ تین سالوں میں خاص طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد خفیہ حلقوں سے نکل کر منظرعام پر آ چکی ہے۔ گاہے بگاہے عالمی کانفرنسز میں ایٹلینٹک کے دو پار واقع ممالک ایکدوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ نیٹو کے مستقبل سے لے کر فری ٹریڈ اور روس اور چین کی جانب سے درپیش خطرات جیسے موضوعات تک امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اور اب جرمنی میں 56 ویں میونخ سکیورٹی کانفرنس بھی یورپی اور امریکی حکام کے اعلانیہ ٹکراو کا منظر پیش کر رہی ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران تمام یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ سے تعلقات میں تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی سطح پر موجود سکیورٹی مسائل میں زیادہ کردار ادا کریں۔ ہائیکو ماس نے سکیورٹی اور دفاعی شعبوں سے متعلق ایک ایسا یورپی اتحاد تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو نیٹو کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے حال ہی میں فرانس کے صدر ایمونوئل میکرون کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا: "جرمنی فرانس کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق یورپی حکمت عملی تشکیل دینے کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہے۔" انہوں نے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران ایک ریڈیو پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "وہ وقت گزر چکا ہے جب امریکہ انٹرنیشنل پولیس کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔ اب بہت سے مسائل اور تنازعات کے بارے میں حتمی فیصلوں کے مراکز تبدیل ہو گئے ہیں اور شام اور افغانستان جیسے مسائل کی طرح بعض مسائل میں حتمی فیصلے کا مرکز روس بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے مستقبل کا فیصلہ آستانہ یا سوچی میں کیا جاتا ہے نہ کہ جنیوا یا نیویارک میں۔" دوسری طرف جرمنی کے صدر فرینک والٹر اشتائن مایر نے بھی میونخ سیکورٹی کانفرنس کے آغاز میں امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بے اعتنائی پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عالمی سیاست میں بڑھتے ہوئے شدت پسندانہ رجحانات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم ہر سال ایک پرامن دنیا کی تشکیل کیلئے بین الاقوامی تعاون سے دور اور دور ہوتے جا رہے ہیں۔"

جرمنی کے صدر نے روس اور چین سمیت عالمی طاقتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: "ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ہمارا قریبی ترین اتحادی ملک یعنی امریکہ بھی عالمی معاشرے کے نظریے کو مسترد کر رہا ہے۔" میونخ سکیورٹی کانفرنس کے صدر وولفگینگ ایشنگر نے بھی مغربی بلاک پر حکمفرما صورتحال کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا: "ہمیں اپنے تصور سے بھی زیادہ شدید بحرانوں اور خوفناک حالات کا سامنا ہے۔" اس کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل کی باری تھی۔ اسٹالٹ برگ نے کانفرنس سے تقریر کرتے ہوئے جرمنی اور فرانس پر شدید تنقید کی اور ان پر نیٹو کا حریف فوجی اتحاد تشکیل دینے کا الزام عائد کیا۔ کچھ ہفتے پہلے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ نیٹو دماغی موت کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے اس بیان پر امریکی حکمرانوں کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اسٹالٹ برگ نے فرانس اور جرمنی کو خبردار کرتے ہوئے کہا: "شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی ہر کوشش نہ صرف عالمی سطح پر ہماری طاقت کم ہونے کا باعث بنے گی بلکہ اس سے یورپ کی تقسیم کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔"

گذشتہ چند سالوں میں برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے دستبرداری اور امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کے پیش نظر جرمنی اور فرانس نے ایک یورپی فوج کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ تصور درحقیقت نیٹو کا اختتام تصور کیا جا رہا ہے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ایک اور اہم نکتہ فرانس کے صدر ایمونوئل میکرون اور امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپئو کا کھلا ٹکراو تھا۔ اس ٹکراو نے امریکہ اور یورپ کے درمیان وسیع خلیج اور دراڑ کو واضح کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا موقف تھا کہ مغرب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے جبکہ فرانس کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی بلاک پہلے سے زیادہ کمزور ہو گیا ہے۔ فرانس کے صدر نے کہا کہ وہ نہ تو روس کے مخالف ہیں اور نہ ہی اس کے حامی ہیں بلکہ وہ یورپ کے حامی ہیں لہذا وہ ماسکو سے اسٹریٹجک مذاکرات چاہتے ہیں۔ ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یورپ ایک ایسے براعظم میں تبدیل ہو رہا ہے جسے اپنے مستقبل پر یقین نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے میونخ کانفرنس میں شرکت کے دوران ڈوجے ویلے ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات کے باعث نیٹو کمزور ہوا ہے اور یورپی حکام ہم سے دور ہو گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 844941
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش