?>?> ریپبلکن فرقہ - اسلام ٹائمز
1
Monday 17 Feb 2020 21:00

ریپبلکن فرقہ

ریپبلکن فرقہ
تحریر: سید نعمت اللہ

ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کی تحریک سے بچ نکلنے اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی شکست کے بعد سب سے پہلے ٹویٹر پر گئے تاکہ ڈیموکریٹک اراکین کو "کرپٹ اور فراڈیا" کہہ کر اپنی کامیابی کا جشن منا سکیں۔ اس کے بعد وہ صحافیوں کے سامنے حاضر ہوئے اور واشنگٹن پوسٹ اور یو ایس ٹو ڈے اخباروں پر پہلی بڑی خبر جس کا عنوان تھا "بری ہو گیا" صحافیوں کو دکھانے لگے۔ اب جشن منانے کے بعد انتقام کا مرحلہ آ چکا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے وائٹ ہاوس جا کر بڑے پیمانے پر صفائی کا کام شروع کر دیا۔ ان کے پہلے اقدام کا نشانہ کرنل الیگزینڈر ونڈمین اور گورڈن سینڈلینڈ تھے جنہوں وائٹ ہاوس سے عہدہ کھونے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین میں بھی اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بھی کافی افراد کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ قریب الوقوع صدارتی الیکشن کے موقع پر وہ پرسکون انداز میں انتخابات لڑ سکیں۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو سب سے زیادہ ریپبلکنز کی حمایت کی ضرورت ہے جو حالیہ مواخذے کی تحریک میں کافی حد تک انہیں حاصل ہو چکی ہے۔

درحقیقت ابتدا سے ہی ریپبلکنز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت ایک طے شدہ بات تھی اور سب بخوبی آگاہ تھے کہ ان کے خلاف مواخذے کی تحریک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گی اور ان پر لگائے گئے دو الزام یعنی طاقت کا غلط استعمال اور کانگریس کی کاروائی میں مداخلت ثابت نہیں ہو سکیں گے۔ لیکن اس کے باوجود ڈیموکریٹس یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مختلف گواہوں خاص طور پر جان بولٹن کو سینیٹ میں بلوا کر کم از کم 14 ریپبلکن سینیٹ اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یوں مواخذے کی تحریک کامیاب ہو جائے گی۔ ڈیموکریٹ سینیٹ اراکین کو اپنی تحریک کی کامیابی کیلئے کم از کم چار ریپبلکن سینیٹ اراکین کی حمایت چاہئے تھی۔ حتی یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ لابی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہیں چار ریپبلکن اراکین کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ لیکن 31 جنوری کی شام معلوم ہوا کہ ریپبلکن اراکین کی اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں برقرار ہیں اور صرف دو ریپبلکن اراکین نے مواخذے کی تحریک کی حمایت کی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ دن پہلے خود ریپبلکنز کو اپنی کامیابی کا یقین حاصل نہیں تھا۔

ریپبلکن سینیٹ اراکین کا مقصد اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر کو ان کے مقام اور عہدے پر برقرار رکھنا تھا۔ زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی حد سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ پر انحصار کر رہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو یقین تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے اور وہ اپنے عہدے سے ہاتھ گنوا بیٹھتے ہیں تو دوبارہ ان کی پارٹی کا صدر برسراقتدار آنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ان کی پارٹی سے وابستہ صدر کی رسوائی اس قدر شدید تھی کہ اتنی مختصر مدت میں اس کا ازالہ ممکن نہ تھا۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ء میں صدر بننے کے بعد اب تک ملک میں ایک شدید بائی پولر فضا قائم کر رکھی ہے اور اس فضا کا فائدہ اٹھا کر اپنی پارٹی کو شدت سے اپنے اوپر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لہذا ریپبلکن پارٹی کے حامی اور اراکین خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید ضرورت مند محسوس کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک میں بائی پولر فضا قائم کرنے کا مقصد امریکی عوام میں اپنے حامی پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد اس اقدام کے ذریعے اپنے مخالفین کی آواز دبانا ہے۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جب وہ صدر بنے تھے اس وقت ریپبلکن پارٹی کی کئی بڑی بڑی شخصیات ان کے خلاف تھیں اور حتی ان کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن اب میٹ رامینی اور شاید دو تین افراد کے علاوہ کوئی ان پر تنقید کرتا دکھائی نہیں دیتا اور اگر کوئی مخالف ہو بھی سہی تو وہ تین سال پہلے کی طرح کھل کر مخالفت کے اظہار کی جرات نہیں رکھتا۔ دوسری طرف مواخذے کی تحریک میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ناکامی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بائی پولر فضا میں مزید شدت ڈالنے کا بہترین موقع فراہم کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کی ڈیموکریٹک سربراہ نینسی پلوسی کے ساتھ توہین آمیز رویہ اور وائٹ ہاوس سے مخالفین کا اخراج اسی مقصد کیلئے انجام پایا ہے۔ یہاں ریپبلکن پارٹی کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف جو والش کی یہ بات معنی خیز ثابت ہو جاتی ہے جو انہوں نے اپنی دستبرداری کے وقت کہی ہے۔ انہوں نے کہا: "ریپبلکن پارٹی ایک فرقے میں تبدیل ہو چکی ہے۔"
خبر کا کوڈ : 845134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش