0
Sunday 23 Feb 2020 10:17

کرونا وائرس، اسلامی نقطہ نظر سے

کرونا وائرس، اسلامی نقطہ نظر سے
تحریر: سید مجاہد عباس شمسی

آج دنیا کے میڈیا پر دیکھا جائے تو کرونا وائرس نے اپنا کا سکہ جمایا بلکہ ہر انسان کو ڈرایا ہوا ہے۔ اس کی تاریخ پر طائرانہ نگاہ کی جائے تو انسان کی اجتماعی زندگی کے ساتھ ہی، اجتماع انسانی کے شکم سے اپنی نحوست و دہشت بھری چیخ و پکار کے ساتھ جنم لیا۔ کرونا وائرس اس جدید دور میں ایک جدید نام ضرور ہے، مگر اس کی حقیقت اتنی پرانی ہے، جتنی تاریخ بشریت میں قدمت پائی جاتی ہے۔ کرونا وائرس کی تاریخ، اس کی حقیقت و ماہیت، علل و اسباب، اسکے ضرر و نقصانات، اسکے اثرات و نتائج، علاج و مداوا کے طریقے اور نسخے، جس قدر دقت و مھارت کے ساتھ اسلام و قرآن نے قلمبند کئے ہیں، دنیا کا کوئی دین و مذہب اتنی جرات و وسعت سے انجام نہیں دے سکتا! میری تمہید کی چند سطریں، شاید صاحبان فہم کے لئے اشارہ اور صاحبان عجلت کے لئے مضحکہ خیز دعویٰ بلا دلیل ہو کہ کیسے ممکن ہے، چند دن پہلے پھیلنے والا وائرس اس قدر قدیم تاریخ رکھتا ہے؟ اور  اسلام و قرآن میں کہاں اسکا ذکر پایا جاتا ہے۔؟

چونکہ کرونا وائرس کی پیدائش، اجتماع انسانی سے ہے تو تاریخ اسلام کی باقی سب کتب سے روگردانی کرتے ہوئے، اگر صرف قرآن مجید میں انسان کی اجتماعی زندگی کی تاریخ کو دیکھیں تو تقریباً تیرہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اگرچہ تاریخی کتاب نہیں ہے، لیکن اگر قرآن میں ان اقوام کے بیان کی علت کو سمجھا جائے تو بہت کم بلکہ نایاب ہی ملے گا کہ ان کی عاقبت و تباہی میں کرونا وائرس نہ پایا جائے۔ قرآن میں پائی جانے والی یہ (1ـ قوم ابراهيم؛ 2ـ قوم تبع؛ 3ـ قوم ثمود(صالح)؛ 4ـ قوم سبأ؛ 5ـ قوم شعيب (ايكه؛ 6ـ قوم عاد؛ 7ـ قوم لوط؛ 8ـ قوم مأجوج؛ 9ـ قوم يأجوج؛ 10ـ قوم نوح؛ 11ـ قوم يونس؛ 12ـ قوم موسیٰ(بنی اسرائيل)؛ 13ـ قوم عيسيٰ.) تیرہ اقوام کو اسی غرض سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کی نابودی و ذلت کا اصلی سبب کوئی اور نہیں، بلکہ کرونا وائرس ہے۔ فرق صرف اور صرف یہ ہے کہ اس وقت انسان اتنے جدید نہیں تھے کہ یوں بیماریوں کی حقیقت کو جان سکیں اور اس کے لئے اس قدر جدید نام جعل کرسکیں تو وہ انسان اس وقت کے کرونا کو صرف وبا، طاؤن یا جان لیوا بیماری کے نام سے یاد کرتے تھے۔

قرآن مجید میں مندرجہ بالا مذکور اقوام کے بیان ساتھ ساتھ جس نقطہ اشتراک کی طرف اشارہ و رہنمایی فرمائی گئی ہے، وہ اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو اسے "عذاب الہیٰ" سے تعبیر کیا گیا جائے گا۔ قرآن مجید اگر قوم بنی اسرائیل کو اس کی عظمت کے ساتھ بیان فرماتا ہے تو ساتھ ہی اس پر نقمت و عذاب الہیٰ کو بھی بیان کرتا ہے۔ اسی طرح قوم لوط، قوم ثمود۔۔۔ ہر ایک کے لئے بیان فرماتا ہے کہ کیسے خدا نے ان پر عذاب نازل کیا! پس روشن ہوگیا کہ اسلام و قرآن نے کرونا وائرس کو (عذاب) کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اگرچہ اس کی شکل و ماہیت، ہر زمانہ میں مختلف رہی ہے۔ اگر عاقبت و نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے، تب بھی یہی نام مناسب رہے گا، چونکہ گذشتہ اقوام پر عذاب نازل ہوا تو انسانی لاشوں کے ڈھیر نظر آئے اور اب اگر کرونا کا نتیجہ دیکھا جائے، تب بھی انسانوں کے جنازوں کی تعداد بیان کی جا رہی ہے۔ دشمن کے اسم سے آشنائی مشکل کو حل نہیں کرتی بلکہ اس کی حقیقت سے آگاہی اور مقاومت کی روش پر عملی قدم سے، اقوام خود کا دفاع کرتی ہیں۔


بلا وجہ عذاب الہیٰ، اس کی عدالت و رحمت کے منافی ہے، لہذا قرآن نے بھی انسانی دشمن کرونا کی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:((وَ ما أَصابَكُمْ مِنْ مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْديكُمْ وَ يَعْفُوا عَنْ كَثير)) (شوری،۳۰) اور تم پر جو مصیبت آتی ہے، وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور وہ(خدا) بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ پس کرونا کی حقیقت، اسلامی نقطہ نظر سے گناہ انسانی کہلاتا ہے۔ قرآن ناطق سے اس آیت کی تفسیر یا کرونا کی حقیقت کا سوال کیا جائے تو وہ بھی صراحت سے اسی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں اور اس بارے بہت سی احادیث پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ امام صادق (ع) فرماتے ہیں: جان لو! تمہارا پسینہ نہیں نکلتا (پریشانی نہیں آتی) کوئی مرض اور مصیبت نازل نہیں ہوتی، مگر تمہارے گناہوں سے۔(کافی،ج۳،ص۲۶۹) جیسے انسان نے ہر میدان میں ترقی کی منازل کو پیروں تلےروندا، ایسے ہی گناہ کے میدان میں بھی بہت سے نئے طریقے ایجاد کئے تو اسی وجہ سے عذاب الہیٰ بھی کبھی سرطان، ایڈز، برڈ فلو، ڈینگی وائرس، کرونا وائرس یا پھر سونامی کی شکل میں نمودار ہوا۔ امام رضا (ع) نے اپنی زندگی میں ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا: جب بھی انسان ایسے گناہوں کو انجام دیں گے، جو پہلے نہیں ہوتے تھے، تو خدا بھی ان پر ایسی بلائیں نازل کرے گا، جن کو وہ پہلے نہیں جانتے ہونگے۔(ایضا،ص۲۷۵)

آج جہاں شکر کا مقام ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے چند لاشوں کے گرنے سے حکومتیں اور ادارے اس کی روک تھام میں متحرک ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیئے، وہیں مقام تاسف و حزن بھی ہے، اس لئے کہ چند ہزار اموات کرونا کے سبب تو نظر آگئیں، لیکن فلسطین، شام، یمن، کشمیر، ہندوستان۔۔۔ میں گرتی لاشیں کسی کو کیوں نظر نہیں آتیں۔؟ اقوام متحدہ اور خود کو اسلام کا مرکز سمجھنے والوں کو کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں بلکہ انسانوں کی ہروقت کی موت کس لئے دکھائی نہیں دیتی۔؟ یمن کے بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی صدا کیوں سنائی نہیں دیتی؟ غیور مردوں کو حضرت حوا (ع) کی بیٹیوں کی ناموس سے کھیلنے والے گھناونے کرونا وائرس دکھائی کیوں نہیں دیتے؟ اور اس کے سبب مرنے والی پاکستان کی بے شمار زینب اور ان کے ساتھ ان کے والدین، کیوں بھول جاتے ہیں؟ مشرقی و اسلامی ثقافت کے علمبرداروں کو اپنی اولاد پر مغربی ثقافت و بے حیائی کے کرونا وائرس کے آثار کیوں نمایاں نہیں لگتے۔؟ ہر روز پاکستان میں بدعنوانی اور کرپشن کے وائرس سے کروڑوں انسانوں کے خون نچوڑنے والوں کو مرنے والوں پر ترس کیوں نہیں آتا؟ تو جب جب آپ اخلاقی بیماریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خود کو ترقی یافتہ انسان سمجھو گے تو پھر خدا کی طرف سے بھی ایسے وائرس کے اثرات دکھائی دیتے رہیں گے۔


اب کرونا جیسے وائرس سے بچنے کے لئے جہاں طبیب و ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل ضروری ہے، وہیں پر اخلاقی نسخہ جات پر عمل بھی انتہائی اہم ہے، تاکہ اس تشویشناک حالت سے بچا جائے اور دوبارہ ایسے وائرس سے بھی نجات ملے۔ آج کرونا سے بچنے کے لئے تو یہاں تک مراعات کی جا رہی ہیں کہ حتیٰ ہاتھ بھی نہیں ملایا جاتا اور عورت کیا، مرد بھی اپنا چہرہ ماسک سے چھپا رہے ہیں، لیکن اخلاقی کرونا وائرس سے خود کو بچانے کی اکثر انسان کوشش نہیں کرتے! بلکہ اگر کوئی بتا بھی دے کہ بھائی جس راستہ پر تم نکلے ہو، یہ اخلاقی کرونا ہے تو جواب دیتے ہیں، تمہیں کیا؟ میری زندگی، میں جو کروں! تو ایسے افراد و سوچ پر رسول خدا  (ص) تعجب کرتے خوئے فرماتے ہیں: مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر کہ جو بیماری کے ڈر سے کھانا چھوڑ دیتا ہے لیکن جہنم کی آتش کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتا!(من لایحضرہ الفقیہ،ج۳،ص۳۵۹) پس کرونا وائرس سے بچاو کا واحد راستہ، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اور دوسرے انسانوں کے گناہوں کی بخشش، خدا کے پیاروں سے توسل اور خدا سے طلب عافیت کرنا ہی ہے۔ ہم اگر خدا کی طرف رجوع کریں گے تو وہ بہت زیادہ غفور و حفیظ ہے اور جب تک طبیب حاذق حضرت مھدی (عج) کا وجود ظاہر نہیں ہوگا، تب تک وائرس آتے جاتے رہیں گے، ان کے قدم کی آہٹ سے خدا قسم پھر کوئی کرونا نہ ہوگا اور کوئی رونا نہ ہوگا! لہذا دعا ہے کہ کعبہ سے جلد صدا ہمارے کانوں تک آجائے۔آمین
خبر کا کوڈ : 846254
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش