0
Monday 24 Feb 2020 09:55

ایران میں پارلیمانی انتخابات، انتخابی نظام، نتائج اور ممکنہ اثرات!

ایران میں پارلیمانی انتخابات، انتخابی نظام، نتائج اور ممکنہ اثرات!
تحریر: سید حسن بخاری

ایران میں انقلابِ اسلامی کے بعد قائم ہونے والے نظامِ حکومت کی گیارہویں پارلیمنٹ کے لیے گذشتہ دنوں (جمعہ 21 فروری) ملک بھر میں انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے واحد ایوان (مجلس شوریٰ اسلامی) کی موجودہ کل نشستیں 290 ہیں۔ انتخابی قوانین کے مطابق ہر دس سال بعد ان نشستوں میں 20 نشستوں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ 290 نشستوں کے انتخاب کے لیے ملک بھر کو 207 انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 174 انتخابی حلقے ایک ایک نشست، 22 حلقے دو دو نشستوں، 8 حلقے تین تین نشستوں، 1 حلقہ چار نشستوں، 2 حلقے پانچ پانچ نشستوں، 1 حلقہ 6 نشستوں اور تہران کا حلقہ 30 نشستوں پر مشتمل ہے۔ دینی اقلیتوں آشوریوں، زرتشتیوں، کلیمیوں، کُلدانیوں اور آرامنیوں کے لیے مجموعی طور پر پانچ نشستیں مختص ہیں، جن پر اقلیتی نمائندے اپنے ہم مذہب ووٹرز کے ووٹ سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ ایک سے زیادہ نشستوں پر مشتمل انتخابی حلقوں کے ووٹرز نشستوں کی تعداد کے حساب سے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ 80 ملین آبادی کے ملک میں 57 ملین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں سے 2 ملین سے کچھ زیادہ تعداد نئے رجسٹرڈ ووٹرز کی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کا اسپیکر رہبرِ انقلاب اور صدر اسلامی جمہوریہ کے بعد ملک کا طاقتور ترین فرد تصور کیا جاتا ہے۔ ریاستی طاقت کا ایک بڑا مرکز ایرانی پارلیمنٹ ہے۔ عوام کے ووٹ سے براہ راست منتخب صدر اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی نگرانی کے علاؤہ پارلیمنٹ قانون سازی کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کو حکومتی وزراء کی منظوری اور صدر اسلامی جمہوریہ سمیت تمام وزراء اور حکومتی عہدیداروں کے مواخذے کا بھی اختیار حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران میں پارلیمنٹ کے انتخابات کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ علاؤہ ازیں ایران میں انتخابات کو اکثر روشن خیال اور انقلاب دوست طاقتوں کے درمیان مقابلے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ متعدد رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے انتخابات میں بھاری ٹرن آوٹ کو ایران کے اسلامی اور انقلابی نظام حکومت کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے۔

انتخابی قوانین کے تحت انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے زیر انتطام قائم الیکشن کمیشن کی ہے، لیکن انتخابات کے انعقاد کی نگرانی اور کاغذات نامزدگی کی منظوری 6 ٹیکنو کریٹس اور 6 علماء پر مشتمل گارڈین کونسل دیتی ہے۔ گارڈین کونسل نے حالیہ انتخابات کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے مرحلے کے دوران 290 نشستوں کے لیے جمع ہونے والی 70 ہزار درخواستوں میں سے 63 ہزار درخواستیں قانونی شرائط پوری نہ ہونے کیوجہ سے مسترد کر دی تھیں۔ گارڈین کونسل کی جانب سے مسترد شدہ کاغذات نامزدگی پر تمام امیدواروں کو اپیل کا حق حاصل تھا اور اپیل کی صورت میں درخواست گزار کو اس پر لگے اعتراضات کی تفصیل فراہم کی گئی ہے۔ مسترد شدہ کاغذات نامزدگی میں 75 ان اُمیدواروں کے کاغذات بھی شامل تھے، جو پہلے سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ گارڈین کونسل کے ترجمان کے بقول مسترد شدہ سابقہ اراکین پارلیمنٹ پر کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

ایران کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مجموعی ٹرن آوٹ تقریباً 45 فیصد رہا ہے، جو گذشتہ دو پارلیمانی انتخابات 61 اور 63 فیصد سے کم ہے بلکہ حالیہ ٹرن آوٹ ایرانی پارلیمانی انتخابات کی تاریخ کا سب سے کم ٹرن آوٹ ہے۔ انقلاب اسلامی کے بعد ایرانی پارلیمانی انتخابات میں ٹرن آوٹ کبھی 50 فیصد سے کم نہیں رہا، جسے عوام میں انقلاب اسلامی کی اچھی مقبولیت کی دلیل قرار دیا جاتا ہے۔ ایرانی پارلیمانی انتخابات کا حالیہ ٹرن آوٹ امریکہ سمیت جمہوریت کے متعدد دعویدار ممالک سے زیادہ ہے۔ اسلامی دنیا میں تو اکثر ممالک میں انتخابات کا تصور ہی ناپید ہے اور وہاں مطلق العنان بادشاہ کی منشا ہی قانون ہے۔ ایران میں انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوتے ہیں اور ہر امیدوار اپنی انفرادی حیثیت میں انتخابات میں شریک ہوتا ہے، لیکن ایرانی سیاست میں رائج روایتی سیاسی تقسیم کو انتخابات میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امیدوار کوشش کرتے ہیں کہ غیر رسمی طور پر چھوٹے بڑے گروپوں کی شکل میں انتخابات کی کمپین کریں۔ ایرانی سیاست میں روایتی طور پر سیاستدانوں کو اصول پسند، اصلاح پسند، اعتدال پسند اور غیر جانبدار سیاستدانوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اب تک موصول ہونے والے نتائج میں اصول پسند امیدواروں کو واضح برتری حاصل ہے۔ 290 کی پارلیمان کی 200 سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار اصول پسند ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق کامیاب ہونے والے اصول پسندوں کی تعداد 221 ہے۔ 16 نشستوں پر اصلاح پسند اور 53 نشستوں پر غیر جانبدار امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پہلے سے پارلیمنٹ کی نشستوں پر براجمان 176 اُمیدواروں میں سے صرف 37 امیدوار ہی نئی اسمبلی کا حصہ بن سکے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے انتخابات کی تاریخ میں اصول پسندوں کی یہ اب تک کی سب سے بڑی فتح ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اصول پسندوں کا گرینڈ الائنس تھا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر کے لیے تین بار صدارتی امیدوار بننے والے تہران کے سابق میئر محمد باقر قالیباف مضبوط امیدوار قرار دیئے جا رہے ہیں البتہ ان کے ساتھ سابق صدارتی امیدوار مصطفیٰ میر سلیم، سابق پارلیمنٹ میں بجٹ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ علی رضا زاکانی اور قومی ایٹمی کمیشن کے سابق سربراہ اور معروف ایٹمی سائنسدان فریدون عباسی دوانی کا نام بھی سامنے آرہا ہے۔ یہ تمام افراد اصول پسند سیاست دان گردانے جاتے ہیں۔

حالیہ انتخابات کے نتائج کی ایک اہم پیشرفت سابق ایرانی صدر محمود احمد نژاد کے ہم خیال گروپ کا انتخابات میں کامیاب ہونا ہے۔ احمدی نژاد کو مجموعی طور پر اصول پسند سیاست دان ہی کہا جاتا تھا، لیکن اپنی صدارت کے دوسرے دور میں معروف اصول پسند سیاستدانوں سے ان کے اختلافات اور ان کی سیاست میں غیر معمولی تبدیلی نے انہیں اصول پسندوں کے دائرے سے دور کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ انتخابات میں 30 کے قریب کامیاب ہونے والے امیدوار احمدی نژاد کے ہم خیال ہیں۔ احمدی نژاد کے ہم خیال گروپ کے لیے حالیہ پارلیمانی انتخابات ایک ٹیسٹ کیس تھے اور ان انتخابات کا نتیجہ آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی شرکت کا فیصلہ بھی کرے گا۔ احمدی نژاد کے نزدیک سمجھے جانے والے سیاستدان ان نتائج کو اپنے گروپ کے حق میں مثبت قرار دے رہے اور انہیں آنے والے صدارتی انتخابات میں اس گروپ کی شرکت کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

گذشتہ صدارتی انتخابات کے دوران بھی ہم نے یہ بات کہی تھی اور آج یہاں دوبارہ تکرار کر دیتے ہیں کہ انقلاب اسلامی کے بعد منعقد ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو روایتی سیاسی دھڑوں اصول پسندوں اور اصلاح پسندوں کا پکا ووٹ بینک واضح ہو جاتا ہے بلکہ غیر جانبدار یا معلق ووٹرز کی تعداد جاننے میں بھی کوئی زیادہ دقت نہیں ہوتی۔ ہمارے نزدیک اصلاح پسندوں کا ووٹ بینک 7 سے 10 ملین جبکہ اصول پسندوں کا اپنا ووٹ بینک 16 سے 20 ملین ہے۔ بقیہ ووٹرز میں سے جو گروپ اکثریت کو اپنے منشور سے مطمئن کرکے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائے وہی فاتح میدان ہوتا ہے۔ یہ کلیہ صدارتی اور پارلیمانی دونوں انتخابات پر لاگو ہوتا ہے۔ اصول پسندوں کی اکثریتی پارلیمنٹ، اصلاح پسندوں کے قریب سمجھے جانے والے اعتدال پسند صدر اسلامی جمہوریہ حسن روحانی کی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے اور موقع بھی۔ حسن روحانی کے صدارتی دور کے باقی ماندہ تقریباً دو سالوں میں جہاں نئی پارلیمنٹ حسن روحانی کو داخلی سطح پر ٹف ٹائم دے گی، وہیں خارجہ پالیسی پر بھی صدر کے ہاتھ اب پہلے کی طرح کھلے نہیں ہوں گے اور چند وزراء کا مواخذہ بھی تقریباً یقینی ہے۔

دوسری طرف اصلاح پسندوں کے پاس صدر روحانی کے ذریعے پالیسی کی اصلاح اور عملدرآمد کی شرح پر اضافے سے آئندہ صدارتی انتخابات تک معلق ووٹر کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کا اچھا موقع بھی ہے، کیونکہ ان انتخابات سے اصلاح پسندوں کو اپنی ناکامی اور اعتماد کھو جانے کا معلوم ہوگیا ہے۔ اصول پسندوں کی حالیہ کامیابی آئندہ صدارتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہوگی۔ حالیہ انتخابات کے نتائج اصلاح پسندوں کی ناکام حکومتی پالیسیوں کا جہاں جواب ہے، وہیں اصول پسندوں کا امتحان بھی ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی نعروں اور نظریوں سے بڑھ کر مسلسل عملی اقدامات کی متقاضی ہوتی ہے۔ اصول پسندوں نے مجلس شورایٰ اسلامی کو اوور ٹیک کر لیا ہے، لیکن کیا مختلف سیاسی آراء اور روش کے قائل اصول پسند ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کسی لائحہ عمل پر متفق ہوچکے ہیں یا اصول پنسدوں کا حالیہ اتحاد صرف انتخابات کی فتح تک ہی محدود تھا؟ اس سوال کا جواب اگلے ایک سال میں مل جائے گا۔ ٹرن آؤٹ کی کمی وہ دوسری پریشانی ہونی چاہیئے جسے ان انتخابات کے بعد ایرانی اربابِ سیاست کو زیر غور لانا چاہیئے۔ ٹرن آوٹ کی کمی پر متعدد اندرونی اور بیرونی عوامل اثرانداز ہوئے ہیں اور یہ ہمیشہ ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک میں شفاف انتخابات اور ان میں اچھا ٹرن آؤٹ ان ممالک کے دشمنوں کے لیے ہمیشہ ہی ناخوشایند ہوتا ہے، لہذا دشمن پروپیگنڈا کے ذریعے عوام کو انتخابات میں شرکت سے مایوس کرتے ہیں اور ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد جو راستہ چنا ہے، اس میں ایران کے لیے دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن بہرصورت ٹرن آوٹ کی کمی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ عوام کی مایوسی اور عدم رضایت کی علامت بھی ہے۔ عوامی عدم رضایت یا مایوسی کا درجہ کہیں کم تو کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ نئی پارلیمنٹ کی جانب سے عوامی مشکلات کے حل میں مزید ناکامی اور صرف علامتی سیاست عوام کو مزید مایوس کرے گی۔ ایران کا دشمن نیز ان نتائج کے بعد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی میں مزید شدت لائے گا، تاکہ ایرانی حکومت اور پارلیمان کو ایرانی عوام کے سامنے ناکام ثابت کیا جائے اور یوں عوام کو ایرانی نظام حکومت کے مقابلے میں کھڑا کیا جاسکے۔ ان تمام اثرات کو مجموعی طور پر اسی ایک بات میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں اصول پسندوں کی فتح جہاں انقلاب دوست حلقوں کے لیے خوشگوار ہے، وہیں امتحان مزید بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 846393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش