0
Monday 24 Feb 2020 10:15

یمن کا دفاعی نظام

یمن کا دفاعی نظام
اداریہ
آج سے چند سال قبل 26 مارچ 2015ء کو جب سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر یمن پر جارحیت کا آغاز کیا تو سعودی حکام مختلف علاقائی اور عالمی پلیٹ فارموں پر کہتے ہوئے سنے گئے کہ چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں یمن کی مزاحمتی فورسز ہمارے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گی اور ہمارا نامزد صدر منصور ہادی یمن میں حکومت سازی کا مرحلہ انجام دے کر حالات کو مکمل اپنے کنٹرول میں لے لے گا، لہٰذا علاقائی اور عالمی برادری کو پریشان نہیں ہونا چاہیئے، یہ جنگ طول نہیں پکڑ سکتی۔ آج فروری 2020ء میں سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کی یہ پوزیشن بن چکی ہے کہ یمن ان کے لیے ایسے کمبل میں تبدیل ہوچکا ہے، جسے وہ تو چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن کمبل انہیں نہیں چھوڑ رہا۔

نہتے اور محصور یمنیوں بالخصوص انصاراللہ نے جس بہادری اور دلیری سے سعودی عرب اور ان کے عربی اور مغربی اتحادیوں کا مقابلہ کیا ہے، یمن کی تاریخ میں اسے سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔ مضبوط، توانا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ سعودی فضائیہ نے وحشیانہ بمباری میں یمن کے اسی فیصد انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح زمینی، فضائی اور سمندری محاصرے نے بے چارے یمنیوں کو طرح طرح کی وباؤں میں بھی مبتلا کر رکھا ہے۔ لیکن انصاراللہ اور یمن کے دیگر مجاہدین نے آلِ سعود کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ کچھ عرصہ پہلے جب سعودی عرب، امریکہ اور اس کے حواریوں نے حملے کا الزام ایران پر لگا کر یمن کی دفاعی اور حملے کی صلاحیتیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔

گذشتہ روز یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشباط کی موجودگی میں یمنی مجاہدین نے چار نئے اور پیشرفتہ فضائی دفاعی نظام کی رونمائی کرکے خطے کے عرب ممالک کو حیران و پریشان کر دیا۔ اس تقریب میں یمن کی اعلیٰ دفاعی کونسل کے سربراہ کے علاوہ یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطعی، یمن کے چیف آف سٹاف جنرل محمد العماری اور مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ السریح کی موجودگی میں ثاقب ایک، ثاقب دو اور فاطر ایک دفاعی سسٹم کی رونمائی کی گئی۔ اس دفاعی سسٹم کی تقریب رونمائی کی ویڈیو فلمیں اور کلپ سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ دفاعی سسٹم میں پیشرفت کا یہ کھلم کھلا اعلان آلِ سعود سمیت ان تمام طاقتوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ آج وہ خود کفالت سے اُس درجے تک پہنچ چکا ہے کہ سعودی عرب اور اسکے حواریوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 846420
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش