0
Tuesday 25 Feb 2020 15:39

ٹرمپ کے بیان پر بغلیں بجانے کی کوئی گنجائش نہیں

ٹرمپ کے بیان پر بغلیں بجانے کی کوئی گنجائش نہیں
تحریر: ثاقب اکبر

24 فروری 2020ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کا جس انداز سے ذکر کیا، اسے ہمارے سادہ لوح تجزیہ کاروں نے بھارت میں مودی کی بغل میں کھڑے ہو کر پاکستان کی تعریف قرار دیا۔؎
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!
عام تجزیہ کاروں کا کیا کہنا، ہمارے کہنہ مشق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھی باچھیں کھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ پاکستان کے لائق وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاکستان کے حق میں بیان غیر معمولی اور خوش آئند ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے خلاف پراپیگنڈا کرتا تھا لیکن امریکی صدر نے ثابت کر دیا کہ پاکستان خود دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اگر سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر صدر ٹرمپ کی تقریر کا جائزہ لیا جائے تو مطلب اس کے بالکل برعکس سامنے آتا ہے، جو آل قریش کے ہونہار فرزند کو سمجھ آیا ہے۔ آئیے ذرا صدر ٹرمپ کے بیان کا جائزہ لیتے ہیں:

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ان کی حکومت پاکستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا حق ہر ملک کو حاصل ہے۔ امریکہ اور انڈیا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مل کر "دہشت گردی" کو روکیں گے اور ان کے نظریہ کا مقابلہ کریں گے۔ اسی وجہ سے "صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد" امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ "دہشت گرد" تنظیموں اور سرگرم انتہاء پسندوں کو پاکستانی سرحدوں سے ختم کیا جاسکے۔ بھارت کے بارے میں ان کا یہ جملہ قابل توجہ ہے: ٹرمپ نے خطے میں امن کے معاملے میں انڈیا کے بڑے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "انڈیا کو خطے کے بہتر مستقبل کے لئے نمایاں قیادت کرنی ہوگی۔" بھارت کو اس پورے خطے میں مسائل کو حل کرنے اور امن کے فروغ کے لئے مزید ذمہ داری لینی ہوگی۔

رپورٹ کا یہ پیرا بھی قابل توجہ ہے: بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش پنت نے بتایا کہ ٹرمپ دو باتیں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انڈیا کے لوگوں کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں اسلامی انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو یہ اشارہ بھی کیا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے، پاکستان ان کی ترجیح ہے۔ پاکستان کی تعریف کا پس منظر بھی اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے: ٹرمپ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر، طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، لہذا پاکستان ان کے لئے اہم ہے۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر پاکستان کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے خیر سگالی کے ان الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیئے: پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ان کوششوں کی بنیاد پر ہم پاکستان کے ساتھ بڑی کامیابی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے مابین تناؤ میں کمی آئے گی، استحکام میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں ایک دوسرے کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔

ایک اور رپورٹ سے بھی کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے: "نمستے انڈیا" کے زیر عنوان  ایک پیرے میں کہا گیا ہے: ٹرمپ نے سب سے پہلے عوام کو وہاں کے مخصوص انداز میں "نمستے" کیا، بعدازاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے لیے ہمارے دلوں میں ہمیشہ ایک خاص جگہ رہے گی۔ وزیراعظم مودی کے لیے انہوں نے کہا کہ ہر کوئی ان سے محبت کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صرف گجرات کی ریاست کا فخر نہیں ہیں۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ خدا بھارت کو خوش رکھے اور امریکا کو بھی، ہم آپ سے محبت، بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ دہشتگردی سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت مل کر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑیں گے، امریکا بھارت کو بہترین ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دورہ جو آج 25 فروری کو اختتام پذیر ہو رہا ہے، اس میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے مطابق امریکا بھارت کو تین ارب ڈالر کے ہتھیار فراہم کرے گا، جن میں اپاچی اور رومیو ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔

امریکا کے تاجر صدر ٹرمپ نے اس دورے میں امریکا کا بہت سا سودا بیچ لیا ہے، نئی دہلی میں صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے مطابق بھارت کی امریکا سے درآمدات میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکا کو کی جانے والی بھارتی برآمدات میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس دورے کے دوران میں توانائی اور صحت کے شعبوں میں بھی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ بھارت اور امریکا اسلامک ریڈیکل ٹیررزم( Islamic Redical Terrorism) کے خلاف مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان تمام رپورٹوں اور بیانات کے مطالعے کے بعد پاکستان کے مایہ ناز رپورٹرز، اینکر پرسنز اور وزارت خارجہ کے بزرجمہروں کے تبصروں کا بھی جائزہ لے لیں۔ آپ بھی ہماری اس بات کی تائید کریں گے کہ "ٹرمپ کے بیان پر بغلیں بجانے کی کوئی گنجائش نہیں"

مذکورہ بالا رپورٹوں کا نقد نتیجہ یہ ہے:
1۔ پاکستان کے اندر دہشتگرد موجود ہیں، جو پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں، امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر ان کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
2۔ پاکستان کی سرحدوں سے دہشتگردوں کے سرحد پار داخلے کو روکنے کے لیے امریکا پاکستان کے ساتھ مل کرکام کر رہا ہے۔
3۔ امریکا اور بھارت اسلامی دہشتگردی کے خلاف مل کر جنگ کریں گے، جس کے لیے دفاعی معاہدے کیے جا رہے ہیں اور جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔
4۔ امریکا کی خواہش ہے کہ بھارت اس خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے اور کچھ مزید ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔
5۔ امریکا کو بھارت سے محبت ہے، بہت زیادہ محبت اور نریندر مودی بھی ایسی شخصیت ہیں کہ جن سے ہر کوئی محبت کرتا ہے اور وہ صرف گجرات کا فخر نہیں ہیں۔
6۔ افغانستان کے مسئلے میں صدر ٹرمپ کو پاکستان کی شدید ضرورت ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ ہم نے جو نتائج اخذ کیے ہیں، کیا ان کے علاوہ بھی کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر یہی ہوسکتا ہے کہ امریکا اس علاقے میں چین کو قائدانہ کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، بلکہ اس کی خواہش ہے کہ بھارت اس خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ پاکستان کے لیے امریکا کی خواہش یہ ہے کہ وہ خطے میں بھارت کی بالادستی کو قبول کرلے۔ امریکی حکام ویسے تو واضح طور پر سی پیک کی مخالفت کرچکے ہیں، متبادل منصوبہ بھی پیش کرچکے ہیں، ممکن ہے اگلے مرحلے میں اسے رول بیک کرنے کے لیے مزید تجاویز لے کر سامنے آجائیں۔ شاہ محمود قریشی کے لیے آخر میں ہم بس اتنا عرض کرتے ہیں:
مانیں، نہ مانیں، آپ کو یہ اختیار ہے
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
خبر کا کوڈ : 846689
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش