1
Tuesday 25 Feb 2020 23:29

امریکی انتخابات، ناقص جمہوریت کی ایک مثال

امریکی انتخابات، ناقص جمہوریت کی ایک مثال
تحریر: علی احمدی

2016ء کے بعد سے امریکہ کے صدارتی انتخابات موجودہ انتخاباتی سیٹ اپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تنازعہ کا اکھاڑا بنا ہوا ہے۔ جب بھی امریکہ میں انتخابات قریب آتے ہیں تو حکمفرما سیاسی نظام کی عدم افادیت اور اس میں موجود نقائص کے بارے میں بحث زور پکڑ لیتی ہے۔ ان دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی انتخابات کی روشنی میں جو مسئلہ بہت زیادہ زیر بحث لایا جا رہا ہے وہ غیر جانبدار مندوبین (unpledged delegates) اور جانبدار مندوبین (pledged delegates) سے متعلق ہے۔ اگرچہ بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی عوام حتی اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کا صدارتی امیدوار بھی خود ہی منتخب کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر کے انتخاب کی طرح یہ انتخاب بھی بالواسطہ ہے جو بعض اوقات شدید متنازعہ ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں پیچیدگی ابتدائی مرحلے سے ہی شروع ہو جاتی ہے جب سیاسی پارٹیوں کے اندرون خانہ انتخابات کا آغاز ہوتا ہے۔ اس عمل میں مندوبین کہلوانے والے خاص افراد ووٹرز کی نمائندگی میں پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان مندوبین کی اکثریت جانبدار مندوبین پر مشتمل ہوتی ہے جو صدارتی امیدوار چنتے وقت ووٹرز کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

ایک اور قسم کے مندوبین بھی ہیں جنہیں غیر جانبدار مندوبین کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے مندوبین اپنے انتخاب میں آزاد ہوتے ہیں اور ان پر ووٹرز کی ترجیحات کو مدنظر رکھنا لازمی نہیں ہوتا۔ یہ افراد حتی ایسے افراد کو بھی چن سکتے ہیں جنہیں کم عوامی مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے صدارتی امیدوار کا انتخاب ایک مرکزی اجتماع یا National Convention میں کرتی ہے جس میں ملک بھر سے اس پارٹی کے تمام مندوبین شرکت کرتے ہیں۔ جولائی 2016ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کا مرکزی اجتماع تشکیل پانے کے قریب وکی لیکس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی مجلس عاملہ میں شریک افراد کی 19 ہزار ای میلز فاش کر دیں۔ ان ای میلز سے ظاہر ہوتا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی انتخابات کے دوران مجلس عاملہ کے افراد نے ہیلری کلنٹن کے پارٹی حریف برنی سینڈرز کے مذہبی اعتقادات کو ایشو بنا کر ان کی شخصیت کو دھچکہ پہنچایا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اعلی سطحی رہنما بورڈ مارشل نے اپنی ای میل میں لکھا تھا: "وہ (برنی سینڈرز) یہودیت پر مشتمل اپنے ماضی پر بہت تکیہ کر رہا ہے لیکن میری نظر میں وہ لادین ہے۔ اس حقیقت کو فاش کر کے ہم اس کے ووٹوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں کیونکہ عیسائی ایک یہودی اور بے دین شخص کے درمیان بہت فرق قائل ہیں۔"

دوسری طرف امریکہ کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک پر دو سیاسی پارٹیوں کی آمریت قائم ہے۔ تقریباً 170 سال پہلے ایسا شخص امریکہ کا صدر بننے میں کامیاب ہوا تھا جس کا تعلق نہ تو ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا اور نہ ہی ریپبلکن پارٹی سے۔ یہ شخص زاخاری ٹیلر تھا جس کا تعلق ویگ پارٹی سے تھا۔ البتہ اس کے آٹھ سال بعد ہی ویگ پارٹی کو تحلیل کر دیا گیا۔ یوں زاخاری ٹیلر امریکہ کا وہ پہلا اور آخری صدر تھا جو نہ تو ریپبلک تھا اور نہ ہی ڈیموکریٹ تھا۔ اگرچہ امریکہ میں منعقد ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ بھی کئی سیاسی جماعتیں شرکت کرتی ہیں لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس موجود عظیم دولت اور سرمایہ ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں اپنے عظیم مالی وسائل کی بدولت سیاسی لابی گری کرتی ہیں اور کوئی تیسری پارٹی اس کام میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ چار دیگر صدارتی امیدوار بھی میدان میں حاضر تھے لیکن انہیں 5 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات درحقیقت 51 مختلف انتخابات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان میں سے 50 انتخابات ہر ریاست میں انجام پاتے ہیں جبکہ ایک انتخابات دارالحکومت میں منعقد ہوتا ہے۔ ان تمام انتخابات میں عوام "الیکٹورل کالج" کیلئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان نمائندوں نے پہلے سے یہ طے کیا ہوتا ہے کہ کس صدارتی امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ امریکہ کی 48 ریاستیں ایسی ہیں جن میں اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار کو اس ریاست کے تمام ووٹ دے دیے جاتے ہیں اور وہ حتی مخالفین کے ووٹوں کا بھی مالک بن جاتا ہے۔ یوں الیکٹورل کالج میں اس ریاست کا سارا کوٹہ اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار کو دے دیا جاتا ہے۔ لیکن صرف دو ریاستیں یعنی نیبراسکا اور مین ایسی ہیں جہاں اقلیتی ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو بھی الیکٹورل کالج میں حصہ ملتا ہے۔ امریکہ دنیا کے ایسے محدود جمہوری ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں انتخابات میں ہار اور جیت کا فیصلہ دولت اور سرمایہ کرتا ہے۔ تقریباً دس سال پہلے امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدارتی مہم کے دوران پیسہ خرچ کرنے کی محدودیت ختم کر دی لہذا جس صدارتی امیدوار کو زیادہ سرمایہ دار افراد کی حمایت حاصل ہوتی ہے اسی کی جیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 846765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش