0
Saturday 29 Feb 2020 19:56

کرونا وائرس، مصائب و شرور اور حکمت الٰہی؟(2)

کرونا وائرس، مصائب و شرور اور حکمت الٰہی؟(2)
تحریر: محمد حسن جمالی

کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو دیکھ اور سن کر ممکن ہے کمزور ایمان والوں کا ایمان ہی خطرے میں پڑ جائے لہٰذا یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ہم حوادث بلاؤں اور مصائب کے بارے میں اپنے اعتقاد پر نظر ثانی کریں، یہاں میں اپنی (شیعہ عقائد پر تجزیہ و تحلیل) نامی کتاب سے ایک اہم اقتباس قارئین کرام کے مطالعہ کے لئے پیش کررہا ہوں۔
مصائب و شرور اور حکمت الٰہی:
شبہہ: خدا نے آسمانوں زمینوں اور ان کے درمیان موجود اشیاء کو انسان کی مصلحت اور امر معیشت میں اس کی بہرہ برداری کے لئے خلق کیا ہے در حالیکہ بلائیں اور مصائب اس ہدف کے ساتھ تضاد اور تنافی رکھتی ہیں اور فاعل حکیم وہ کام جو اپنی غرض کے ساتھ متضاد ہو انجام نہیں دیتا، اس کے علاوہ خدا کی رحمت واسعہ، عالم طبیعت میں دفع شرور اور رفع مصائب کا تقاضا کرتی ہے تاکہ انسان پر  زندگی سخت نہ گزرے بلکہ انسان کے لئے زندگی بغیر درد و پریشانی کے گوارا ہو جائے۔

جواب: اس شبے کا جواب چند امور کے بیان پر موقوف ہے۔
پہلا امر:  مصالح نوعی مصالح فردی پر رجحان  رکھتے ہیں:
اس بات میں کوئی شک نہیں  کہ انسان کی اجتماعی زندگی میں دو طرح کے مصالح موجود ہیں: (1) مصالح و منافع فردی (2) مصالح نوعی و اجتماعی ۔۔ عقل خالص مصالح فردی پر مصالح اجتماعی کو  ترجیح دیتی ہے، اس بناء پر عالم طبیعت میں جو چیزیں بعض افراد کے لئے مصائب اور شرور کی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہیں اسی وقت میں وہ چیزیں مصالح نوعی اور اجتماعی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ لہذا یہ حکم کرنا کہ یہ چیزیں، شر اور مصلحت انسان کے منافی ہیں مصالح نوعی کو پس پشت ڈال کر  فقط مصلحت شخصی اور فردی کو نظر میں رکھنے کی وجہ سے ہیں اگر انسان اپنے علاوہ دوسروں کے منافع کو مدنظر رکھتا تو کھبی بھی ان چیزوں کو شر یا مصلحت انسانی کے منافی نہ سمجھتا۔

دوسرا امر: حوادث کے بارے میں انسان کا محدود علم:
انسان کا محدود علم، اسے شاز ونادر، اصول اور قواعد کے خلاف قضاوت کرنے پر آمادہ کرتا ہے اگر انسان اپنی ناچیز اور محدود علم کے علاوہ نہ جاننے والی چیزوں سے بھی آگاہ ہو جاتا تو ضرور انسان اس طرح کے فیصلوں سے پرہیز کرتا اور انسان یہ اعتراف کرتا "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا"۔ (1) نیزانسان یہ اعتراف کرتا کہ "وَ مَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا" (2)  توجہ رہے جو انسان کہتا ہے کہ مصائب  انسان کے لئے شر محض ہیں کس قدر وہ اس مثال سے شبیہ تر ہے، مثلا" بلڈنگ بنانے کے لئے  آج کا انسان دور حاضر کی جدید مشینوں سے استفادہ کرتا ہے، مشین جب زمین کی کھدائی شروع کرتی ہے یا جب کسی بلڈنگ کو خراب کرتی ہے تو یہ ہوا میں مٹی کے گرد و غبار پھیلا دیتی ہے، اس منظر کو دیکھتے ہوئے انسان بغیر کسی تامل کے یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کام مضر اور شر ہے درحالیکہ یہ انسان  نہیں جانتا ہے کہ یہ کام  مقدمہ ہے ایک بہت بڑے اسپتال  کی تعمیر کے لئے، جس میں بہت سارے  مریضوں کے  معالجے کا بندوبست  ہوتا ہے،  اس میں  بہت سے بیمار  افراد کے علاج  کے وسائل، دوائیاں اور  ماہر طبیب فراہم کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ شخص ان بلند ترین اہداف سے  واقف ہوتا تو  یہ ضرور اس تخریب کاری اور انہدام کو  بجائے شر کے خیر محض سے تعبیر کرتا،  مشین کی وجہ سے  وجود میں آنے والی آلودگی کو  قابل برداشت جانتا۔

تیسرا امر: اعلٰی انسانی اقدار سے غفلت:
انسانی حیات، مادی زندگی میں منحصر نہیں ہے بلکہ انسان روحانی و معنوی زندگی کا بھی حامل ہے اور بدون شک معنوی و اور روحانی زندگی میں کامیابی اور سعادت حاصل کرنا ہی انسان کی خلقت کا حقیقی اور اصلی ہدف ہے نیز اس ہدف تک رسائی کی کلید عبادت پروردگار اور خدا کی بارگاہ میں خشوع و خضوع کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اس بنا پر مادی زندگی کے کچھ امور جو مادی حوادث زندگی کے اختلال کا سبب بنتے ہیں بعض اوقات یہی حوادث خدا کی جانب متوجہ ہونے کے لئے بنیادی سبب بنتے ہیں چنانچہ خدا فرماتا ہے: "فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا" (3) تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند نہ کرو  اور خدا اسی میں خیر کثیر رکھ دے۔ مزید وضاحت بعد میں بیان کی جائے گی۔

چوتھا امر: مصائب، گناہوں کی پیداوار ہیں
قرآن مجید انسان کو  عالم ہستی میں واقع ہونے والے بہت سارے دردناک اور رنج آور واقعات کا ذمہ دار  ٹہراتا ہے۔ مثال کے طور پر خدا فرماتا ہے: "ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" (4)  لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا  پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا  تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں۔ "وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (5)  اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے  کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا، "وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ" (6) اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف  بھی کردیتا ہے۔ ان کے علاوہ وہ بھی بہت ساری آیات ہیں جو بلاؤں اور شرور طبیعی و اجتماعی میں انسان کے اعمال مؤثر واقع ہونے پر دلالت کرتی ہیں، لیکن جب انسان کسی مصیبت اور بلا میں گرفتار  ہو جاتا ہے، تو بجائے اس کے کہ اعمال کے اصلاح کی طرف اقدام کرے، ان مصائب کو  خدا کی حکمت و عدل اور رحمت الٰہی کا مخالف قرار دیتے ہیں۔

مصائب کے تربیتی فوائد:
ان اصولوں کو جاننے کے بعد ہم شرور اور مصائب کے فوائد کا تجزیہ پیش کریں گے۔
1۔ مصائب توانائیوں کو  شکوفا کرنے کا وسیلہ ہیں، بلائیں اور مصائب توانائیوں کو شکوفا کرنے کے لئے نیز انسان کی زندگی میں علوم کی ترقی اور پیشرفت کے لئے بہترین وسیلہ ہیں، اس لئے کہ جب تک  انسان اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا   نہ کرے ہرگز اس کی توانائیاں آزاد ہوکر رشد نہیں کرتی ہیں، پس انسان کی توانائیاں کو مرحلہ قوہ سے رشد و نمو کرکے مرحلہ فعلیت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان سخت مصائب اور مشکلات کا شکار ہو۔ اس مطلب پر قرآن مجید کہ یہ آیت  اشارہ کرتی ہے، "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"الخ (7)۔ ہاں زحمت کے ساتھ  آسانی بھی ہے۔ بیشک تکلیف کے ساتھ سہولت بھی ہے، لہٰذا آپ جب فارغ ہو جائیں تو  اللہ کی عبادت کریں اور اپنے رب کی طرف رخ کریں۔

2۔ مادی نعمتوں سے زیادہ استفادہ کرنا اور لذتوں اور شہوات میں غرق ہونا الٰہی ارزشوں سے بہت بڑی غفلت برتنے کا باعث بن جاتا ہے، جس قدر انسان مادی نعمتوں اور لذائذ میں غوطہ ور ہوجاتا ہے۔ اتنا ہی وہ معنوی پہلوؤں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے یہ وہ حقیقت ہے جو ہر انسان اپنی اور دوسرے انسانوں کی زندگی میں لمس کرتا ہے اور صفحات تاریخ میں پالیتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ سرکشی اور طغیان، احساس غنا کے ساتھ  مربوط ہونے کو ہم دیکھتے ہیں، "كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى" (8) لہٰذا انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کے اندر جا بجا  تذکر دیا ہے اور انسان کی غفلت کو دور کرنے کے لئے بہترین اور سودمند ترین وسیلہ یہی حوادث ہیں چونکہ یہ حوادث انسان کی نازونعمت سے بھرپور زندگی کو  اضطراب آور آمور کے ذریعے  منقطع کر ڈالتے ہیں تاکہ انسان کو اپنی عاجزی کا علم ہو اور خواب غفلت سے بیدار ہوجائے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے کچھ بلا اور مصیبتوں  کے نزول کو  یاد آوری  اور خدا کی جانب  رجوع کرنے کا  سبب قرار دیا ہے۔ "وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ" (9) ہم نے جب بھی کسی قریہ میں کوئی نبی بھیجا تو اہل قریہ کو  نافرمانی پر سختی اور پریشانی میں ضرور مبتلا کیا کہ شاید وہ لوگ ہماری بارگاہ میں تضرع و زاری کریں، "وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَ نَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ" (10) اور ہم نے آل فرعون کو  قحط اور ثمرات کی کمی کی گرفت میں لے لیا کہ شاید وہ اسی طرح  نصیحت حاصل کرسکیں۔ "ظهر الفساد فی البر"۔ لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے  تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں (11)۔ و بلوناھم الخ۔ (12) اور ہم نے انہیں آرام اور سختی کے ذریعے آزمایا  تاکہ شاید راستہ پر آجائیں۔

4۔  اولیاء کرام  کی زندگی میں بلاؤں کی حکمت:
قرآن مجید کی آیات اور بہت سی احادیث  سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محنتیں اور بلائیں  اولیاء الٰہی اور خدا کے صالح بندوں کی زندگی میں الطاف الٰہی اور آخرت میں عالی مقامات میں پہنچنے کی شرط ہیں، خدا فرماتا ہے : "أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ" (13) کیا تمہارا خیال ہے کہ تم آسانی سے جنت میں داخل ہو گے جب کہ ابھی تمہارے  سامنے سابق امتوں کی مثال پیش نہیں آئی جنہیں فقر و فاقہ اور پریشانیوں نے گھیر لیا اور اتنے جھٹکے دیئے گئے کہ خود رسول اور ان کے ساتھیوں نے  یہ کہنا شروع کردیا کہ آخر خدائی امداد کب آئے گی تو آگاہ ہوجاؤ  کہ خدائی امداد بہت قریب ہے۔

"وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ اُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ"۔(14) اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے  اور اے پیغمبرﷺ آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیں  جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں کہ ان کے لئے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے  اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ ہشام بن سالم نے امام صادق ؑ سے روایت کی ہے  کہ  آپ (ع) نے فرمایا: "انّ اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الذین یلونهم ثم الامثل  فالامثل" (15) سلیمان بن  خالد نے بھی امام صادق علیہ السلام  سے روایت کی ہے کہ فرمایا: "انه لیکون للعبد منزلة عندالله فما ینالها الا باحد الخصلتین اما بذهاب ماله  او ببلهة فی جسده" (16)۔ عبداللہ بن یعفور جو زیادہ بیمار رہتا تھا، نے امام صادق (ع) سے اپنی بیماریوں کی شکایت کی تو  امام نے فرمایا، "یا عبداللہ (بن یعفور) لو یعلم المومن  ماله من الاجر  فی المصائب  لتمنی انه  قرض  بالمقاریض"۔ (17)

حاصل سخن
مصائب کی دو قسمیں ہیں: (1) فردی و محدود  (2) نوعی و مطلق ۔۔انسان کے اعمال  مصائب اور بلاؤوں  کے واقع ہونے میں دخیل ہیں، سارے مصائب اور بلا ئیں انسان کی خلقت کی غایت اور حکمت کے موافق ہیں، اس لئے کہ غرض خلقت انسان معنوی جاوید کمالات تک پہنچنا ہے اور یہ مصائب غافلین کے لئے بیدار کرنے والی گھنٹی، صالحین کے لئے رشد و نمو اور ارتقاء کے اسباب ہیں اور گنہگاروں کے گناہ کا کفارہ ہیں، مذکورہ فوائد اخروی غرض کے پیش نظر تھے لیکن دنیوی زندگی کے پیش نظر  دو چیزوں کی جانب  توجہ کرنا ضروری ہے،
1۔  گروہی یا  فردی منفعت سے قطع نظر عالم کے مختلف اطراف میں ساکن لوگوں کے منافع کا ملاحظہ کرنا  لازم ہے۔
2۔  ان چیزوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جو مشکلات اور مصائب سے روبرو ہونے کے نتیجے میں انسان کے ہاتھ آتی ہیں، یعنی وہ تازہ اختراعات و اکتشافات جو انسان کی مادی زندگی میں اس کی صلاح و فلاح کا سبب بنتی ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

حوالہ جات:
1۔ آل عمران /191
2۔ اسراء/85
3۔ نسآء/ 19 
4۔ روم 41
5۔ اعراف96
6۔ شوری 30 
7۔ انشراح ۔5۔8
8۔ علق 76
9۔ اعراف/ 94
10۔ اعراف / 130
11۔ روم /41
12۔ اعراف /168
13۔ بقرہ 214
14۔ بقرہ / 155۔ 157
15۔ کافی ج 2  حدیث
16۔ کافی ج 2/ حدیث 23
17]۔ ایضا" حدیث 23V
خبر کا کوڈ : 847306
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش