1
Friday 28 Feb 2020 19:05

ڈالر نامی اسلحہ

ڈالر نامی اسلحہ
تحریر: احمد فرہادی

15 جنوری کے دن امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط ہوئے جس کی رو سے چین نے آئندہ دو برس میں امریکہ سے 200 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا۔ شاید بظاہر یوں دکھائی دے کہ بین الاقوامی اقتصادی تعلقات پرامن اور دوستانہ ہونے لگے ہیں لیکن اس ظاہر کے نیچے ایسی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں جو دکھائی نہیں دیتیں۔ امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں، ٹیکس عائد کرنے اور بلیک لسٹ میں شامل اداروں کو تجارت سے محروم کرنے کے ذریعے انجام پانے والی اقتصادی بدمعاشی اب کسی سے پنہان نہیں رہی۔ دنیا کے ممالک ڈالر پر استوار عالمی نیٹ ورک سے باہر نکلنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ کوششیں عالمی سطح پر ایک متوازن مالیاتی نظام تشکیل پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں لیکن ساتھ ہی عالمی معیشت کیلئے کئی خطروں کا بھی باعث بن سکتی ہیں۔ ٹرمپ حکومت اپنی مالی طاقت کے بل بوتے پر چین، ایران، روس اور دیگر ممالک حتی اپنے اتحادیوں جیسے یورپی یونین اور ترکی کے خلاف اقدامات انجام دے رہی ہے۔ ایران کے خلاف عائد ہونے والی حالیہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایک ایسی معیشت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بینک، تیل کی صنعت اور کشتی رانی پہلے سے ہی شدید اقتصادی پابندیوں کی شکار ہے۔

عالمی تجارت اس قدر ڈالر کے گرد گھومتی ہے کہ ایک عرصے سے حتی دیگر ممالک کی آپس کی تجارت بھی امریکی کرنسی، بینکوں اور مالیاتی نظام کی جانب رجوع کئے بغیر ممکن نہیں رہی۔ کم از کم نصف مالیاتی مچلکے ڈالر میں جاری کئے جاتے ہیں۔ بیرون ملک ٹرانزایکشنز کی اکثریت بھی آخرکار نیویارک پر جا کر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد ڈالر کو ایک جیوپولیٹیکل اسلحہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پالیسی کو مزید آگے بڑھایا اور اقتصادی پابندیوں کو خارجہ سیاست کے ایک اہم ہتھکنڈے کے طور پر بروئے کار لائے۔ انہوں نے حتی امریکہ کے اتحادی ممالک کو بھی نہیں بخشا اور انہیں بھی سیکنڈری پابندیوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ جو بھی امریکہ کی بلیک لسٹ میں شامل حکومتوں سے مالی تعاون کرے گا وہ سزا کے طور پر امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہو جائے گا۔ امریکہ کی طاقت کا راز یہ ہے کہ یہ ملک دیگر مالی اداروں کو اپنے مالیاتی نظام تک رسائی سے روک سکتا ہے اور یوں انہیں گوشہ گیری کا شکار کر کے اقتصادی طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا نتیجہ زیادہ تر مدمقابل مالی ادارے کی نابودی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

اب تک مختلف ممالک کی جانب سے ڈالر کی سلطنت ختم کرنے اور امریکہ کی اقتصادی بدمعاشی کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف قسم کی کوششیں انجام پائی ہیں۔ روس نے بہت حد تک اپنی تجارتی سرگرمیاں، بیرونی قرض اور بینکوں کی ملکیت کو ڈالر سے عاری کیا ہے۔ روس کی بڑی بڑی گیس کی کپنیاں اپنے تجارتی معاہدے مقامی کرنسی یعنی روبل میں لکھتی ہیں۔ روس، چین اور بھارت آپس میں ایسے دو طرفہ اور سہ طرفہ معاہدے انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت ان کی تجارت مقامی کرنسی میں انجام پانے لگے۔ اسی طرح یہ ممالک بین الاقوامی پے منٹ سسٹم SWIFT کے مقابلے میں متبادل نظام متعارف کروانے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں کیونکہ یہ سسٹم بھی درحقیقت امریکہ کے اثرورسوخ میں ہے۔ یورپی ممالک ایک نیا سسٹم Instex چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سسٹم یورپی ممالک کو امریکہ کی مالی پولیس سے بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرے گا اور وہ اپنی مرضی سے عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔ دوسری طرف یورپی ممالک سے لے کر چین تک مختلف اسٹیٹ بینکوں نے ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروانے کی بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدام عالمی سطح پر تجارت کے اخراجات کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مندرجہ بالا اقدامات ڈالر کیلئے قابل توجہ خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انسٹیکس ابھی چالو نہیں ہوا جبکہ SWIFT کا متبادل نظام بھی عمل کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔ اگرچہ 2000ء سے اب تک عالمی سطح پر ڈالر کے ذخائر 70 فیصد سے کم ہو کر 60 فیصد رہ گئے ہیں لیکن اب بھی عالمی تجارت میں ڈالر کا پلڑا بھاری ہے۔ دوسری طرف ڈالر کے ممکنہ حریف میں بہت زیادہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ یورو اس وقت بنیادی مشکلات کا شکار ہے جن میں سے ایک مشترکہ بینک یونین کا فقدان ہے۔ اس کے باوجود دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ڈالر سے رہائی کی تحریک پیدا ہو چکی ہے اور اگر بالفرض امریکی حکومت عالمی سطح پر اقتصادی اقدامات میں نرمی بھی برتتا ہے تو بھی یہ تحریک مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی۔ مستقبل دور میں عالمی سطح پر ڈالر کے ذخائر میں توازن ایجاد ہونے کے باعث عالمی مالیاتی نظام بہتر ہونے کی امید ہے۔ مزید برآں، ڈالر کا موجودہ تسلط خود امریکہ کیلئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بازار سے حاصل ہونے والے سود کی شرح کم ہو رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 847349
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش