0
Friday 28 Feb 2020 21:30

بھارت میں فسادات اور مجرمانہ خاموشی

بھارت میں فسادات اور مجرمانہ خاموشی
تحریر: ارشاد حسین ناصر

بھارت میں انسانیت کے خلاف ننگے جرائم ہو رہے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دلی یاترا کے وقت جو کچھ یہاں کی مسلم اقلیت کیساتھ ہوا، وہ سفاکیت و بربریت کی ایک داستان ہے، جسے برسوں بھلایا نہ جا سکے گا۔ انڈیا کے شہر دلی میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے متعصبانہ مذہبی فسادات جنھوں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں ہونے والے سب سے زیادہ خطرناک اور ہولناک فسادات ہیں۔ یاد رہے کہ متنازع شہریت کے قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان معمولی جھڑپوں سے شروع ہونے والے فسادات نے یک لخت ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر لی اور انہوں نے تیزی سے دارالحکومت کے گلی کوچوں اور جھونپڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی پولیس جان بوجھ کے یا تو ہنگاموں سے نظریں چراتی دکھائی دی یا پھر مسلح جتھوں اور آگ و خون کا کھیل کھیلنے والوں کو شہر کی سڑکوں پر بلا روک ٹوک ہنگامہ آرائی کرتے دیکھتی رہی۔

اس دنگا فساد میں مساجد، گھروں اور دکانوں اور کاروباری مراکز پر حملے کیے گئے، بعض مقامات پر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کیا گیا۔ فسادیوں اور آتش زنوں نے تشدد سے پردہ ہٹانے والے صحافیوں کو روکا اور ان کے مذہب کی تصدیق کی۔ سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مسلح افراد زخمی مسلمان مردوں کو قومی ترانہ پڑھنے پر مجبور کرتے اور ایک نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ پیٹتے نظر آئے۔ یہ بھی رپورٹ  ہوا ہے کہ خوفزدہ مسلمان خاندان شہر کے مخلوط محلے چھوڑنے لگے، فساد اور تشدد کرنے والوں نے کھلے عام مسلمانوں کو دھمکایا ہے کہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ بعض مسلمان خاندانوں کو ان کے محلے والوں نے پناہ دی اور بلوائیوں سے بچایا۔ دلی میں انتخابات میں مرکز میں حکمران مودی کی جماعت کو شکست ہوئی ہے اور عام آدمی پارٹی نے اپنی حکومت بنائی ہے۔

بھارت خود کو دنیا کی جمہوریتوں کا چیمپئن سمجھتا ہے اور دنیا بھی اسے بے حد اہمیت دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک عرصے سے جاری یہاں منافرانہ قوانین کی آڑ میں ایک خاص طبقے کا استحصال کیا جا رہا ہے، جسے عام ہندوستانی نے بھی محسوس کیا ہے۔ شاہین باغ میں ہونے والے کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی دھرنے میں سب قومیتوں اور مذاہب کے پیروکاروں نے شرکت کی ہے اور مودی سرکار سے اعلان براءت کیا ہے، مگر اس کے باوجود عالمی مہذب دنیا مودی کو سر پہ اٹھائے پھرتی ہے۔ امریکہ نے اسے اپنے ملک میں جیسا پروٹو کول دیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ عالمی ادارے جیسے انسانی حقوق کی تنظیمیں، جمہوری حکومتیں اور تشدد سے نفرت کرنے والوں نے مودی کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ سب کے سامنے ہے، کس طرح یہاں کے باسیوں کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی ہیں۔ کرفیو اور آگ و خون کا کھیل جاری ہے، کشمیر میں بھڑکنے والے آگ آج پورے بھارت میں دیکھی جا رہی ہے۔

متنازعہ قانون پاس کرکے اور موجودہ فسادات کروا کر مودی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل بھارت میں بے حد مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسی جمہوریت اور تہذیب پر ہزار بار لعنت، جو اپنے ہی ملک کے شہریوں کو درجہ بندی میں تقسیم کر دے اور انہیں مذہب کی بنیاد پر استحصال کا نشانہ بنائے۔ ایسا مہذب دنیا میں سرکاری سطح پر ہونا بے حد افسوسناک اور باعث تشویش ہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے یہ سب کچھ عالمی میڈیا اور آزادی افکار کے گیت گانے والوں نے ہضم کر لیا اور ڈکار تک نہیں مارا۔ دہلی میں جو جلائو گھیرائو اور توڑ پھوڑ نیز انسانیت کے تذلیل ہوئی، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے کئی ایک بار ایسا ہوچکا ہے۔ جامعہ ملیہ کی لائبریری میں جس طرح پڑھائی میں مشغول طلباء و طالبات کو سرکاری وردی میں ملبوس غنڈوں نے بری طرح پیٹا، اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔

ایسا لگ رہا تھا کہ دشمن ملک کی فورس نے حملہ کر دیا ہے، جبکہ دہلی کے حالیہ سانحات میں بھی جس طرح دہشت گرد گروہ آر ایس ایس کے غنڈے سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کو اپنی سفاکیت اور درندگی کا نشانہ بنا رہے تھے، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ مساجد اور عبادت گاہوں پر جو توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا اور انہیں جلایا گیا، اس پہ ہر درد مند مسلمان اور انصاف پسند انسان کو خون کے آنسو رلا رہا ہے، لوگوں کی ساری عمر کی کمائی ان سے چھین لی گئی، گھر سے بے گھر کر دیا گیا، عزتیں پائمال، مال و اسباب لوٹ لئے گئے اور وحشت و خوف کی ایسی فضا پیدا کر دی گئی، جس کے بعد مسلمان متاثرین کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ ویسے بھی جن کے بھرے گھر جلا کر راکھ کر دیئے گئے اور ان کے پاس سوائے تن کے کپڑوں کے کچھ نہیں بچا، وہ جائیں تو کہاں جائیں۔

اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی کانفرنس اور ساری مہذب دنیا سمیت ہمارے مذہبی و سیاسی قائدین، نیز اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان میں بہت ہی فعال این جی اوز مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مسلمان بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور امت مسلمہ کے نام نہاد رہبری کے دعویدار اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ مظلوموں کی پکار کوئی بھی نہیں سن رہا، ایسے میں کرونا کو سازش نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے، جس نے سب کی بولتی بند کرر دی ہے۔ کرونا وائرس بھی جیسے چند خاص ممالک میں بھیجا گیا ہے، چین اور ایران کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے متاثرین کی تعداد یورپ میں بھی ہے اور امریکہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ ہم کرونا پہ بات نہیں کرتے، اصل مسئلہ عالمی اجارہ داری اور مفادات کا ہے، بھارت اس وقت یہود و ہنود گٹھ جوڑ قائم کرچکا ہے۔

اس گٹھ جوڑ میں امریکہ، سعودیہ اور عرب ممالک بھی شریک ہیں، جس کے باعث بھارت کے خلاف کوئی بھی بات نہیں کرتا، حالانکہ انہی دنوں میں ہمارے خلاف ایف اے ٹی ایف نامی عالمی ادارے نے شکنجہ سخت کیا ہوا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہمیں اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے، جس کے باعث ہم ہر وقت پابندیوں کے ڈر سے وہ سب کچھ بھی کرتے ہیں، جس کی اجازت کسی بھی مملکت اور آزاد ریاست یا غیرت مند قوم کی حمیت و غیرت نہیں  دیتی۔ بھارت میں حکمران جماعت اور اس کے مسلح بازو آر ایس ایس کی کارروائیاں سب کے سامنے ہیں، اس کے باوجود دنیا نے آنکھوں پہ کالی سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔ ہاں ایک بات سب ہی جانتے ہیں کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں اور کمزور اقوام کے خلاف مظالم اس کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دینگے اور بھارت مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر رہیگا۔
خبر کا کوڈ : 847379
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش