0
Saturday 7 Mar 2020 14:43

مقام ِمصطفیٰﷺ بزبانِ علی المرتضیٰ علیہ السلام

(حضرت علی ؑ کے یوم ولادت 13 رجب المرجب (8 مارچ 2020ء) کی مناسبت سے خصوصی مضمون)
مقام ِمصطفیٰﷺ بزبانِ علی المرتضیٰ علیہ السلام
تحریر: سید اظہار مہدی بخاری
izharbukhari5@hotmail.com


امیرالمومنین، امام المتقین، یعسوب الدین، قائد الغرالمہجلین، امام المواحدین حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت آغوش کعبہ یا جوف ِکعبہ میں ہوئی تو سب سے پہلے جس ہستی کا دیدار کیا اور جس ہستی کے لعاب ِدہن سے اپنے آپ کو سیراب کیا، وہ ذات ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ لعاب دہن دینے اور پاک و طاہر زبان چسانے سے لے کر اللہ تعالےٰ کی معرفت کے آخری مرحلے تک نبی اکرم ؐ نے ایک ایک مرحلے پر، ایک ایک قدم پر، ایک ایک لمحہ علی ؑ کی تربیت فرمائی۔ اپنے بچپن اور لڑکپن سے ہی علی ؑ نے دفاع ِ رسالت اور حفاظت ِنبوت کے لیے ایک جاں نثار کی حیثیت سے اپنے آپ کو سامنے رکھا۔ اعلان ِ رسالت تو بہت بعد کی بات ہے، مگر اس سے پہلے مکہ کہ وادی میں نبی اکرم ؐ پر آنے والی ہر پریشانی کے سامنے ہمیشہ علی ؑ نے اپنا سینہ پیش کیا۔

دعوت ِ ذوالعشیرہ، شعب ابی طالب سے لے کر ہجرت مکہ تک مکی زندگی کا کوئی واقعہ اور لمحہ علی ؑ کی قربت سے خالی نہیں ہے۔ ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں بدر، احد، خندق اور خیبر میں علی ؑ کی نبی ؐ پر جاں نثاری سے لے کر "انا مدینۃ العلم و علی بابہا" اور "من کنت مولاہ فھذا علی مولا" کے اعزازات تک کون سا ایسا لمحہ تھا، جب علی ؑ اور نبی ؐ کی قربت میں کمی آئی ہو؟ خطبہ جمعۃ الوداع اور خطبہ الغدیر سے لے کر وصال ِ پیغمبر ؐ تک کونسی ایسی ساعت ہے، جس میں علی ؑ موجود نہ ہوں۔  آئیے نبی ؐ کے سب سے قریبی انسان علی ؑ کی زبانی اپنے بھائی، اپنے آقا و مولا، اپنے پیغمبر و رسول ؐ اور اپنے سید و سردار کے مناقب میں سے چند مناقب کا مطالعہ کرتے ہیں، تاکہ معلوم ہو کہ علی ؑ کی علمی و عقیدتی آنکھ نبی ؐ کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔؟

اپنے ایک خطبے میں علی ؑ اس طرح گویا ہوتے ہیں۔ اے اللہ، اے فرش ِ زمین بچھانے والے اور بلند آسمانوں کو (بغیر سہارے کے) روکنے والے، دلوں کو اچھی اور بُری فطرت پر پیدا کرنے والے۔ اپنی پاکیزہ رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں قرار دے اپنے عہد اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے، جو پہلی (نبوتوں کے) ختم کرنے والے اور بند (دنوں کے) کھولنے والے اور حق کے زور سے اعلان ِحق کرنے والے، باطل کی طغیانیوں کو دبانے والے اور ضلالت کے حملوں کو کچلنے والے تھے۔ جیسا ان پر (ذمہ داری کا) بوجھ عائد کیا گیا تھا، اُس کو انہوں نے اٹھایا اور تیری خوشنودیوں کی طرف بڑھنے کے لیے مضبوطی سے جم کر کھڑے ہوگئے۔ نہ آگے بڑھنے سے منہ موڑا، نہ ارادے میں کمزوری کو راہ دی، وہ تیری وحی کے حافظ اور تیرے پیمان کے محافظ تھے اور تیرے حکموں کے پھیلانے کے دھن میں لگے رہنے والے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے روشنی کو ڈھونڈنے والے کے لیے شعلے بھڑکا دیئے اور اندھیرے میں بھٹکنے والے کے لیے راستہ روشن کر دیا۔ فتنوں، فسادوں میں سرگرمیوں کے بعد دلوں نے آپ ؐ کی وجہ سے ہدایت پائی۔

انہوں نے راہ دکھانے والے نشانات قائم کئے، روشن و تابندہ احکام جاری کئے۔ وہ تیرے امین ؐ، معتمد اور تیرے علم ِمخفی کے خزینہ دار تھے اور قیامت کے دن تیرے گواہ اور تیرے پیغمبر ِبرحق اور خلق کی طرف فرستادہ رسول ؐ تھے۔ خدایا ان کی منزل کو اپنے زیر ِسایہ وسیع و کشادہ بنا اور اپنے فضل سے انہیں دہرے حسنات عطا کر۔ خداوندا تمام بنیاد قائم کرنے والوں کی عمارت پر اُن کی بنا پر وہ عمارت کو فوقیت عطا کر اور انہیں باعزت مرتبے سے سرفراز کر اور ان کے نور کو پورا پورا فروغ دے اور انہیں رسالت کے صلہ میں شہادت کی قبولیت و پذیرائی اور قول و سخن کی پسندیدگی عطا کر جبکہ آپ کی باتیں سراپا عدل اور فیصلے حق و باطل کو چھانٹنے والے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بھی ان کے ساتھ خوش گوار اور پاکیزہ زندگی اور منزل ِنعمات میں یکجا کر اور مرغوب و دل پسند خواہشوں اور لذتوں اور آسائش و فارغ البالی اور شرف و کرامت کے تحفوں میں شریک بنا۔(خطبہ نمبر70)

دو مزید مقامات پر علی المرتضیٰ ؑ نے حضور ِاکرم کی بعثت کا منظر اس طرح پیش کیا۔ پیغمبر ؐ کو اس وقت بھیجا کہ جب لوگ حیرت و پریشانی کے عالم میں گم کردہ راہ تھے اور فتنوں میں ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ نفسانی خواہشوں نے انہیں بھٹکا دیا تھا اور غرور نے بہکا دیا تھا اور بھرپور جاہلیت نے ان کی عقلیں کھو دی تھیں اور حالات کے ڈانواں ڈول ہونے اور جہالت کی بلاؤں کی وجہ سے حیران و پریشان تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سمجھانے بجھانے کا پورا حق ادا کیا۔ خود سیدھے راستے پر جمے رہے اور حکمت و دانائی اور اچھی نصیحتوں کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ (خطبہ نمبر 39)جب اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا تو عربوں میں نہ کوئی (آسمانی) کتاب پڑھنے والا تھا اور نہ کوئی نبوت و وحی کا دعوے دار۔ آپ نے اطاعت کرنے والوں کو لے کر اپنے مخالفوں سے جنگ کی۔

درآں حالیکہ آپ ان لوگوں کو نجات کی طرف لے جا رہے تھے اور قبل اس کے کہ موت ان لوگوں پرآ پڑے، ان کی ہدایت کے لیے بڑھ رہے تھے۔ جب کوئی تھکا ماندہ رک جاتا تھا اور خستہ و درماندہ ٹھہر جاتا تھا تو آپ اس کے سر پر کھڑے ہو جاتے تھے اور اسے اس کی منزل ِمقصود تک پہنچا دیتے تھے، یہ اور بات ہے کہ کوئی ایسا تباہ حال ہو، جس میں ذرہ بھر بھلائی نہ ہو۔ یہاں تک کہ آپ نے انہیں نجات کی منزل دکھا دی اور انہیں ان کے مرتبہ پر پہنچا دیا۔ چنانچہ ان کی چکی گھومنے لگی، ان کے نیزے کا خم جاتا رہا۔ خدا کی قسم میں بھی انہیں ہنکانے والوں میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ پوری طرح پسپا ہوگئے اور اپنے بندھنوں میں جکڑ دیئے گئے۔ اس دوران نہ میں عاجز ہوا، نہ بز دلی دکھائی، نہ کسی قسم کی خیانت کی اور نہ مجھ میں کمزوری آئی۔ خدا کی قسم میں (اب بھی) باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں گا۔(خطبہ نمبر 201)

تین مزید خطبات میں مولائے متقیان نے اپنے پیارے پیغمبر ؐ اور رحمت اللعالمین کے حوالے سے یوں ارشاد فرمایا۔۔ آخر اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا اور آن حالیکہ وہ گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تھے، جو بچپنے میں بھی بہترین خلائق اور سن رسیدہ ہونے پر بھی شرف ِکائنات تھے اور پاک لوگوں میں خو خصلت کے اعتبار سے پاکیزہ تر اور جود و سخا میں ابر صفت برسائے جانے والوں میں سب سے زائد لگاتار برسنے والے تھے۔(خطبہ نمبر 301) ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اُس (اللہ) کے عبد اور رسول ہیں۔ جو اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے ہر سختی میں پھاند پڑے اور جنہوں نے اس کے لیے غم و غصے کے گھونٹ پئے۔ جن کے قریبیوں نے بھی مختلف رنگ بدلے اور دور والوں نے بھی ان کی دشمنی پر ایکا کر لیا اور عرب والے بھی ان کے خلاف بگٹٹ چڑھ دوڑے اور دور دراز جگہوں اور دور افتادہ سرحدوں سے سواریوں کے پیٹ پر ایڑ لگاتے ہوئے آپ سے لڑنے کے لیے جمع ہوگئے اور عداوتوں کے (پشتازے) آپ کے صحن میں لا اُتارے۔(خطبہ نمبر 291)

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندہ و رسول ہیں۔ جنہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا کہ جب ہدایت کے نشان مٹ چکے تھے اور دین کی راہیں اجڑ چکی تھیں، آپ نے حق کو آشکار کیا۔ خلق خدا کی نصیحت کی ہدایت کی۔ ہدایت کی جانب رہنمائی فرمائی اور افراط و تفریط کی سمتوں سے بچ کر درمیانی راہ پر چلنے کا حکم دیا۔ خدا ان پر اور ان کے اہل بیت پر رحمت نازل کرے۔(خطبہ نمبر 391) ایک اور مقام پر علی ابن ابی طالب ؑ نے اپنے نبی ؐ کی آخری یادیں تازہ کرتے ہوئے فرمایا۔۔۔۔ پیغمبر ؐ کے وہ اصحاب جو (احکام شریعت کے) امین ٹھہرائے گئے تھے، اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میں نے کبھی ایک آن کے لیے بھی اللہ اور اس کے رسول ؐ کے احکام سے سرتابی نہیں کی اور میں نے اس جوانمردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے، پیغمبر ؐ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کے بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحلت فرمائی تو ان کا سرِ اقدس میرے سینے پر تھا اور جب میرے ہاتھوں میں ان کی روح ِطیب نے مفارقت کی تو میں نے (تبرکاً) اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لئے۔ میں نے آپ کے غسل کا فریضہ انجام دیا۔ اس عالم میں کہ ملائکہ میرا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ (آپ کی رحلت سے) گھر اور اس کے اطراف و جوانب نالہ و فریاد سے گونج رہے تھے۔ (فرشتوں کا تانتا بندھا ہوا تھا) ایک گروہ اترتا تھا اور ایک گروہ چڑھتا تھا۔ وہ حضرت پر نماز پڑھتے تھے اور ان کی دھیمی آوازیں برابر میرے کانوں میں آرہی تھیں۔ یہاں تک کہ ہم نے انہیں قبر میں چھپا دیا تو اب ان کی زندگی میں اور موت کے بعد مجھ سے زائد کون اُن کا حق دار ہوسکتا ہے۔؟ آیئے علی ؑ کے یوم ولادت کے موقع پر عہد کریں کہ علی ؑ کے نبی ؐ کے ساتھ ویسے ہی وفاداری کریں گے، جیسے علی ؑ نے کی اور جس کا تقاضا علی ؑ ہم سے کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 848448
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش