0
Saturday 14 Mar 2020 21:16

امریکہ عراق سے نکل جاو

امریکہ عراق سے نکل جاو
اداریہ
عراق میں امریکی سرکردگی میں سرگرم اتحاد کے سرکاری بیان کے مطابق گذشتہ بدھ کی رات کو مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے بغداد کے التاجی فوجی اڈے پر پندرہ راکٹ فائر کیے گئے۔ جس کے نتیجے میں دو امریکی فوجی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گیا، جبکہ اس حملے میں بارہ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وہ مسئلہ کہ جسے واشنگٹن جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ ہے کہ عراقی پارلیمنٹ میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد عراق سے امریکی انخلاء پر مبنی بل کے منظور ہونے کے بعد بھی عراق میں امریکی اور اس کے اتحادی افواج کی موجودگی، بنیادی طور پر غیرقانونی اور عراق کے قومی اقتدار اعلیٰ کی آشکارہ خلاف ورزی ہے۔ اس بناء پر اس وقت عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی غاصبانہ شمار ہوتی ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پینٹاگون نے عراقی حکومت کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے یہ انتقامی کاروائی انجام دی ہے اور حتیٰ حملے کے ارادے یا ان مقامات پر حملہ کرنا چاہتا ہے، ان سب باتوں سے بغداد حکومت کو آگاہ کرنے کی بھی زحمت نہیں کی ہے۔

درحقیقت عراق میں امریکیوں کا رویہ بالکل غاصب حکومت کے رویوں جیسا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے التاجی فوجی اڈے پر حملے میں حشدالشعبی کے گروہوں منجملہ کتائب حزب اللہ عراق کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ حشد الشعبی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس حملے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے کس بنیاد پر عراق کے مختلف حصوں اور حتیٰ کربلا میں زیرتعمیر ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے؟۔ اس درمیان ایک مسئلہ کہ جس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی وہ یہ ہے کہ امریکہ عراق میں داعش سے مقابلے کے بہانے اپنی فوجی موجودگی باقی رکھنا چاہتا ہے جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں عراقیوں کی بڑے پیمانے پر کامیابی اور داعش کے خلاف حشدالشعبی کی کاری ضربیں عراق میں اس دہشت گرد گروہ کا شیرازہ بکھرنے اور اس کی مکمل شکست پر منتج ہوئی ہیں۔

یہ ثمرات اور کامیابیاں ایسے عالم میں حاصل ہوئی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی اتحاد کے اقدامات نے عملی طور پر داعش کے خلاف جنگ میں کوئی مدد نہیں کی ہے اور ایک لاحاصل اتحاد ثابت ہوا ہے۔ شام کے رکن پارلیمنٹ جوخدار کہتے ہیں کہ حشد الشعبی پر مسلسل حملے درحقیقت داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی خدمت کے لیے ہیں۔ بہرصورت عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے عراقی فوج کے امریکہ سے نکل جانے کی بل کی منظوری کے بعد بھی امریکہ، امن و سلامتی قائم کرنے اور داعش سے مقابلے کے بہانے بدستور عراق میں ڈٹٓا ہوا ہے، تاہم عراقی عوام بھی، امریکی اتحاد کی عراق میں موجودگی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اس کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 850350
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش