0
Tuesday 17 Mar 2020 19:52

جہاد بالقلم کی اہمیت

جہاد بالقلم کی اہمیت
تحریر: عارف حسین

حق و حقیقت اور سچائی تک پہنچنے کیلئے کتاب و قلم بہترین ذریعہ ہے۔ جب سورج افقِ عالم پر نمودار ہوتا ہے تو کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے، حتی ننھے ننھے پودے بھی اس کی کرنوں سے نمود کا رزق حاصل کرتے ہیں اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں۔ تاریکیاں کافور اور کوچہ و بازار اجالوں سے بھر جاتے ہیں۔ اسی طرح عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی تجلییوں سے اسلام کا سورج جب طلوع ہوا تو دنیا کے ہر فرد نے اس آفتابِ پرنور سے اپنی بساط و لیاقت کے مطابق فیض اٹھایا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے مشعل حق (عِلْمٌ) لے کر آئے اور دنیا کی علم و آگہی کی پیاس کو حق و حقیقت کے چشمے سے سیراب کیا۔ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی عقل کی قوت کو استعمال میں لاکر اس چشمہ سے کتنا مستفید ہوتا ہے۔؟

نامعلوم سے معلوم اور ناشناخت سے شناخت تک کا سفر اور اس کی جستجو کرنا  فطرتِ انسانی کا لازمہ ہے۔ اسی لیے خداوند قدوس نے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر سب سے پہلی وحی جو کی ہے۔ وہ کچھ اس طرح ہے: "اقراء بسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراء وربک الاکرم، الذی علم بالقلم"۱۔ اشاعتِ اسلام کے سلسلہ میں رسول اکرم نے بڑے بڑے بادشاہوں کو قلم کے ذریعے سے ہی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ قلم ہی کا ثمر ہے کہ قرآن کریم جن الفاظ میں نازل ہوا تھا، انہی الفاظ میں چودہ سو سال گزرنے کے باوجود بھی محفوظ ہے۔ رسول پاک (ص) نے فرمایا: "علم کو قید کرو! عرض ہوا قید سے کیا مراد ہے؟ فرمایا:"یعنی علم کو لکھو." ایک اور جگہ پر فرمایا: "علم کو لکھ لیا کرو، کیونکہ جب تم لکھو گے نہیں یاد نہیں کر سکو گے" فرمایا: "لکھو اور اپنے علم کو بھائیوں میں پھیلاؤ، اگر اس دنیا سے چلے جاؤ تو کتابت کو اپنے بیٹوں کیلئے وراثت میں چھوڑو، کیونکہ لوگوں پر ایک ایسا پرآشوب دور آئیگا کہ جس میں لوگ اپنے مکتوبات کے علاوہ کسی اور چیز سے مانوس نہیں ہونگے۔" ۲۔

 تمام نیکیوں سے بڑھ کر ایک نیکی ہے، لیکن شہادت سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں اور دوسری طرف فرماتے ہیں کہ "علماء کے قلم کی روشنائی شہداء کے خون سے افضل ہے" ۳۔ اور یہ علماء کے قلم کی روشنائی ہے، جس نے اسلام کو زندہ رکھنے کی خاطر تعلیماتِ پیغمبر کو سپرد قرطاس کیا اور اسی سے شہداء کو اس بلند مقام  کے حصول پر آمادہ کیا۔ اس فریضہ کی انجام دہی کی پاداش میں دشمن نے علماء کے سروں کو تن سے جدا کرکے دیواروں میں چن دیا۔۔۔ جلاوطن کر دیا، قید کر دیا، اولاد کو قتل کر دیا، حتی مال و انعام و رتبہ تک چھین لیا۔ مجاہد، جنگجو اور صاحب شمشیر اسی قلم کے ذریعے سے ہی مقامِ شہادت کو پاتے ہیں اور قلم کی شمشیر اٹھا کر دین اور عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر ظلم و ظالم کے مقابلے میں ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے. حتیٰ راہِ خدا میں خون کے قطرہ آخر کو بہانے سے بھی نہیں کتراتے۔۔۔
اگر قلم کی اس قدر اہمیت نہ ہوتی تو خداوند متعال قلم کی قسم نہ کھاتا چنانچہ  فرما رہا ہے: "ن، والقلم وما یسطرون۔"۴۔

عجیب قسم ہے، جو یہاں کھائی جا رہی ہے۔۔۔ سرکنڈے کا ایک ٹکڑا  یا اس کے مشابہ کوئی چیز اور سیاہ رنگ کے سطریں جو ایک صفحہ پر لکھی جاتی ہیں۔ حقیقت میں  یہ وہی چیز ہے جو تمام انسانی تمدنوں کی پیدائش، علوم کی پیشرفت، افکار کی بیداری، مذہب کے تشکیل پانے کا سرچشمہ، نوع بشر کی آگاہی، معارف کا مخزن، مفکرین کے افکار کی پاسداری، علماء کے فکری اتصال کی کڑی، بشر کے حال و ماضی کو ملانے اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور یہی نوکِ قلم بشر کی سرنوشت رقم کرتی ہے۔ قلم کے طاقت سے ہی ایک صالح معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ قلم کی حرمت اور تقدس کا حق اسی صورت میں ادا کیا جاسکتا ہے، جب قلمکار حقائق اور حق و صداقت کو بیان کرنے کیلئے زہر کا پیالہ پینے کی جرات و ہمت رکھتا ہو۔ ایسے قلمکاروں کا اٹھا ہوا قلم قوموں کی تقدیر کو بدلنے  اور معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ قلم اور عمل نے ہی خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی قوموں کو بیدار کیا ہے۔۔۔۔

تاریخ شاہد ہے کہ سقراط، افلاطون، علامہ اقبال، حافظ، سعدی، امام خمینی، شہید مطہری، کارل مارکس، جارج جرداق اور علامہ نقی نقن جیسی شخصیات نے اپنے عمل اور قلم کے بل بوتے پر سوئی ہوئی قوموں کا جگایا ہے۔ آج دنیا اس قدر ترقی کرچکی ہے کہ خلا میں انسانوں کی آباد کاری کی بات کر رہی ہے۔ لیکن جس قدر دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، اتنا ہی ہمارے معاشرے میں حقیقی اہل قلم افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے، اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ آہستہ آہستہ تمام شعبہ ہائے زندگی(نظام تعلیم و تربیت، نظام حکومت اور نظام اقتصاد) مغرب (صیہونزم) کے ہاتھوں پروان چڑھ رہے ہیں۔ جب نظام  تعلیم و تربیت غرب(صیہونزم) کے ہاتھ میں ہو تو جب چاہے، جیسے چاہے نصاب سازی و افراد سازی (جو کسی بھی معاشرے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے) کرکے نظام تعلیم اور نظام حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو لے آتے ہیں۔

تاکہ اپنا نظام تعلیم و تربیت اور نظام حکومت تمام اقوام عالم پر نافذ کرسکیں۔ جو کہ انکا (صیہونزم) عقیدہ اور دلی آرزو بھی ہے، اسی آرزو کا نام گریٹر اسرائیل ہے۔ لہذا اس منصوبے کے خلاف جہاں کہیں، جو بھی مقاومت کرے (چاہے علمی ہو، جنگی ہو، سیاسی ہو یا اقتصادی و ثقافتی) اس کے لیے شیطانی حکمت عملی اپناتے ہیں اور روش ہای مقاومت کو سرنگوں کرنے کے لیے مختلف جہتوں سے منصوبہ بندی کرتے ہیں.۔ کبھی درندہ صفت گروہ بنام داعش، النصرہ، بوکو حرام، طالبان وغیرہ بھیجتے ہیں تو کبھی خفیہ دہشتگرد تنظیموں کا بنام رفاحی ادارے معاشرے میں نفوذ کرواتے ہیں، تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جاسکے اور مقاومت کو روکا جاسکے۔ اگر یہ روش ناکام ہو یا خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو رہے ہوں تو درجہ انسانیت و حیوانیت سے نیچے گر جاتے ہیں اور عالمی سطح پر حیاتیاتی جنگ مسلط کر دیتے ہیں۔ جیسے دور حاضر میں کرونا وائرس کو پھیلایا، تاکہ اقتصاد عالم کو اس قدر ضعیف کر دیا جائے کہ تمام اقوام ان کے در سے بھیک مانگیں اور یہ ان سے اس کے بدلے جو چاہے منوائیں۔۔۔

اگر نگاہ دوڑائیں تو ہزاروں مثالیں چشم بینا سے عقل کے دریچوں میں مانند نور جھانکیں گی۔ ہند، کشمیر، فلسطین وغیرہ میں مسلمانوں پر ظلم جو ہو رہے ہیں، ان کے خلاف کسی کو بولنے نہ دینا اور ڈیل آف صدی کے خلاف جو مقاومت کا ایک محاذ بن رہا تھا، اس کو مختلف ممالک کے نظام تعلیم، حکومت اور میڈیا میں موجود اپنے کارندوں کے ذریعے سے دبا دینا، ان کی اولین ترجیح ہے، چاہے اس کے لیے حیاتیاتی دہشت گردی کریں یا فکری، سیاسی، علمی و اقتصادی و ثقافتی طور پر اذہانِ اقوام کو مغلوب و مفلوج کریں۔ ایسے میں مقاومت کے چشمہ سے خون کے ساتھ اگر قلم کی سیاہی بھی روان ہو جائے تو باطل کے ایوانوں میں ایک سونامی برپا کرکے اس کے قصر کو زمین بوس کرسکتی ہے۔۔۔۔ اسی لیے مقاومتِ قلم کی کمی اور اس کی طاقت دونوں آج شدت سے محسوس کی جا رہی ہیں۔

بقول امجد اسلام امجد (کالم نگار) "دور حاضر میں ادب اور ادبی رسائل کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، سنجیدہ اور خالص ادب میں اگر فیس بک پر شیئر کرنے والی تحریروں کو بھی شامل کیا جائے، تب بھی اس کی تعداد کم ہے۔ اگر اس معاشرے کو ادب گریز کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جہاں تک حلقے میں ادب کے قارئین کا تعلق ہے، یہ بھی مسلسل سکڑتا اور بکھرتا جا رہا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے نت نئے کھلنے والے راستوں پر ایک ایسی بھیڑ جمع ہوگئی ہے، جسے خود بھی پتہ نہیں کیا چاہتی ہے؟" جس کے نتیجے میں ہماری نئی نسل اسلامی اصول زندگی سیکھنے کے بجائے غرب سے "ہمارا جسم ہماری مرضی" اور "فیمینزم" جیسے اصول سیکھ رہی ہے۔ انسانی اقدار کے بجائے غربی اقدار کو اپنا رہی ہے، جو کہ انسانیت اور انسانی اقدار  کے نام پر ایک دھبہ ہیں۔

بس ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایک ایسا گروہ کمر بستہ ہو کر قیام کرے، جو نئی نسل کو غربی اقدار اور غرب زدگی کی دلدل سے نکال کر انسانی اقدار کے راستے پر چلائے اور محمد و آل محمد (ص) کے بتائے ہوئے راستوں پر چلائے۔۔۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک نظام تعلیم میں اقبال و مطہری جیسے لوگ پیدا نہ ہوں۔۔۔ ہمیں ایک مکمل آئیڈیالوجی اور مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ دن رات ایک کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں فرمایا: "ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینهون عن المنکر واولئک هم المفلحون۔" ۵.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
۱۔ سورہ علق 1..4
۲۔ منیة المرید
۳۔ احیا علوم غزالی
۴۔ سوره قلم 1,2
۵۔ آل عمران  104
خبر کا کوڈ : 851181
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش