1
Tuesday 31 Mar 2020 23:09

عراق میں امریکہ کی مشکوک فوجی سرگرمیاں اور پس پردہ عوامل

عراق میں امریکہ کی مشکوک فوجی سرگرمیاں اور پس پردہ عوامل
تحریر: علی احمدی

گذشتہ چند دنوں سے امریکہ نے عراق میں انتہائی مشکوک فوجی سرگرمیاں جاری کر رکھی ہیں۔ عراق میں کئی چھوٹے چھوٹے فوجی اڈے بند کر کے اپنی تمام فورسز کو عین الاسد جیسے بڑے فوجی اڈوں میں جمع کر رہا ہے۔ عراق میں موجود اسلامی مزاحمتی گروہوں نے بھی ان مشکوک سرگرمیوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حزب اللہ بریگیڈز کے ترجمان محمد محیی نے اس بارے میں مقامی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "امریکہ کی یہ فوجی سرگرمیاں اتفاق نہیں اور فورسز کی معمولی نقل و حرکت بھی نہیں بلکہ امریکہ کی ان فوجی سرگرمیوں کے پیچھے کچھ خاص مقاصد کارفرما ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہ اس کے ناپاک عزائم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہم جب بھی امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں اس کی ذمہ داری بھی اٹھاتے ہیں اور باقاعدہ اعلان بھی کرتے ہیں۔ اسلامی مزاحمتی فورسز امریکہ کی جانب سے عراق میں باقی رہنے کیلئے انجام پانے والی کسی بھی قسم کی فوجی کاروائی کا بھرپور جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ حزب اللہ بریگیڈز عراق میں اس کے اہداف و مقاصد کی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے۔"

عراق کی پارلیمنٹ کی سلامتی و دفاع کمیٹی کے رکن کریم المحمداوی نے بھی کہا ہے: "گذشتہ چند دنوں میں امریکی فوجیوں کا اپنے بعض فوجی اڈوں سے انخلاء اتفاقی نہیں اور نہ ہی کرونا وائرس سے بچاو کی غرض سے انجام پایا ہے بلکہ یہ ایک نیا ڈرامہ ہے جس کے پیچھے خاص اہداف کارفرما ہیں۔ امریکی فوجیوں نے جو اڈے خالی کئے ہیں وہ چھوٹے ہیں جبکہ وہ عین الاسد، التاجی اور حریر جیسے بڑے فوجی اڈوں میں منتقل ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ عمل حقیقت میں پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ امریکہ کی حالیہ فوجی سرگرمیوں کا مقصد عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی اور شیعہ شخصیات اور لیڈران کو نشانہ بنانے کی غرض سے انجام پائی ہیں۔ امریکہ عراق میں ایک نئی جنگ شروع کرنے کے درپے ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کو بڑے فوجی اڈوں میں بھی اسی خاطر منتقل کیا ہے۔" یاد رہے فرانس کے خبررساں ادارے نے حال ہی میں اس حقیقت کو فاش کیا ہے کہ امریکہ نے اربیل اور صوبہ الانبار کے مغرب میں واقع اپنے فوجی اڈوں میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم نصب کیا ہے۔ دوسری طرف لبنان کے اخبار الاخبار نے بھی امریکہ کی جانب سے عراق میں نئی فوجی مہم جوئی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

الاخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے: "مستقبل قریب میں امریکہ اور عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کے درمیان ممکنہ فوجی ٹکراو کے شواہد دکھائی دے رہے ہیں۔ عراق کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قابض امریکی فوجی ہادی العامری کی سربراہی میں بدر آرگنائزیشن، قیس الخز علی کی سربراہی میں عصائب اہل الحق اور اکرم الکعبی کی سربراہی میں جنبش النجباء نیز حزب اللہ بریگیڈز کی میزائل یونٹس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یوں جن مقامات کو امریکہ ٹارگٹ کرنا چاہتا ہے ان کی تعداد 10 کے قریب ہے اور یہ عراق کے مرکزی اور مشرقی صوبوں میں واقع ہیں۔ اسی طرح باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ عراق کے بعض اعلی سطحی فوجی کمانڈر امریکہ کے ممکنہ حملوں کے وقت سے بھی باخبر ہیں۔" لبنانی اخبار اپنی رپورٹ میں مزید لکھتا ہے: "عراق کے باخبر سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ کی اس ممکنہ فوجی کاروائی کا وقت قریب ہے جبکہ امریکیوں نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے ان حملوں سے صرف نظر کرنے یا انہیں موخر کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں عراق سخت حالات سے گزرے گا۔ امریکی حکام عراق میں ان فوجی کاروائیوں کے ذریعے کرونا وائرس سے مقابلے میں اپنی شکست پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ صدارتی انتخابات میں جیتنے کیلئے کچھ خیالی کامیابیاں بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔"

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ خاص مقاصد کی خاطر عراق میں نئی فوجی مہم جوئی کرنے جا رہا ہے۔ امریکہ عراق میں دو بنیادی اہداف حاصل کرنے کے درپے ہے۔ ایک مقصد عراق میں کٹھ پتلی حکومت برسراقتدار لا کر امریکہ مخالف سیاست دانوں اور سیاسی رہنماوں کو عراق کے سیاسی میدان سے نکال باہر کرنا ہے۔ امریکہ کا دوسرا مقصد اسلامی مزاحمتی قوتوں خاص طور پر حشد الشعبی کو کمزور یا ختم کرنا ہے۔ عراق میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیاں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے دیگر حصوں میں کرونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر تمام فوجی سرگرمیاں روک دی ہیں۔ جبکہ عراق میں وسیع پیمانے پر امریکی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیارے پروازیں کرتے نظر آتے ہیں۔ عراق کے موجودہ حالات طوفان سے قبل خاموشی سے مشابہہ ہیں۔ یقینی طور پر امریکہ عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کو ختم یا کمزور نہیں کر سکتا اور وہ اس مقصد میں ناکام رہے گا۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ عراق کے عوام کی اکثریت بھی اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کے ناپاک عزائم سے بخوبی آگاہ ہے۔ امریکہ اس وقت عراقی عوام اور حکومت کی جانب سے ان کا ملک چھوڑ کر چلے جانے کے مطالبے سے روبرو ہے جبکہ عراق چھوڑ کا جانا بھی نہیں چاہتا لہذا اس ملک میں اپنی فوجی موجودگی باقی رکھنے کیلئے مایوسانہ تگ و دو میں مصروف ہے۔
خبر کا کوڈ : 853879
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش