0
Wednesday 1 Apr 2020 11:03

عراق میں امریکی سازشیں

عراق میں امریکی سازشیں
اداریہ
امریکہ کورونا کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق میں بغاوت کی غرض سے  عوامی رضاکار فورس کی چھاونیوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور متحدہ عرب امارات میں ہونے والی حالیہ امریکی فوجی مشقیں بھی اسی سازش کا حصہ تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 مارچ کو متحدہ عرب امارات میں ہونے والے امریکی فوجی مشقوں کے لیے صحرائی علاقے میں ایک ایسا فرضی شہر بسایا گيا تھا، جو بالکل عراقی شہروں اور خاص طور پر دارالحکومت بغداد سے ملتا جلتا ہے۔ ان مشقوں میں متحدہ عرب امارات کی فوج کے علاوہ تین ایسے عراقی مسلح گروپ بھی شریک تھے، جن کا اس ملک کی مسلح افواج یا سکیورٹی اداروں سے کوئی تعلق نہیں۔ مشقوں کے دوران اونچی عمارتوں، مساجد اور مقدس مقامات پر ہیلی بورن یا چھاتہ بردار فوج اتارنے کے علاوہ، اسٹریٹ فائٹنگ اور بکتر بند گاڑیوں کو آبی راستوں سے گزارنے کے عمل پر زیادہ توجہ دی گئی۔

بعض میڈیا رپورٹس میں اس جانب بھی اشارہ کیا گيا ہے کہ ان مشقوں میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے اہلکار بھی، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے ساتھ شریک تھے۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں انجام دی گئيں، جب امریکی فوجی حکام نے کورونا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں فوجیں مشقیں منسوخ کر دی ہیں، امریکہ نے بغداد اور اربیل میں قائم اپنے سفارت خانے اور قونصلیٹ کے کارکنوں کو عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ امریکہ نے عراق میں اپنے بعض فوجی اڈے بھی خالی کر دیئے، جبکہ اس کے اتحادی ملکوں نے بھی عراق سے اپنے فوجیوں کو قبل از وقت باہر نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ عراق میں اپنے سفارت خانے کو بغداد کے گرین زون سے صوبہ الانبار میں قائم سب سے بڑے فوجی اڈے عین الاسد منتقل کرنا چاہتا ہے۔ عین الاسد چھاونی میں سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ اس تناظر میں کیا جا رہا ہے کہ یہ چھاونی عراق میں امریکہ کی سب سے بڑی اور محفوظ چھاونی ہے اور امریکی طیارے اور ڈرون چوبیس گھنٹے اس علاقے پر پرواز کرتے رہتے ہیں، جبکہ اسے پیٹریاٹ میزائل سے حال ہی میں لیس کیا گيا ہے۔

کیا یہ سارے اقدامات عراق اور اس خطے کے خلاف کسی بڑے سازشی منصوبے کا حصہ ہیں۔؟ امریکہ کے لیے اس سازش کی تکمیل اور تمام اہداف کا حصول انتا آسان نہیں ہوگا، بلکہ مجوزہ امریکی سازش کی ناکامی کے امکانات زیادہ  قوی دکھائی دے رہے ہیں۔ البتہ ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا کی عالمگيریت اور اس کے امریکہ کے اندر سرایت کر جانے کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی فوج کے لیے فی الوقت عراق اور علاقے میں کسی نئی آویزش کی سکت نہیں ہے اور عراق سے مزید امریکہ فوجیوں اور دیگر اہلکاروں کے انخلا کی توقع کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس وقت امریکی فضائیہ کے اہلکاروں سمیت تین سو کے قریب امریکی فوجی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور جو جنگ ویتنام کے بعد امریکہ کو پہنچنے والے سب بڑا خسارہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 853950
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش