0
Thursday 2 Apr 2020 20:52

ایثار کے ذریعے کرونا وائرس سے مقابلہ

ایثار کے ذریعے کرونا وائرس سے مقابلہ
تحریر: اختر شگری

خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور باقی تمام مخلوقات سے افضل اور برتر بنا کر زندگی بخشی ہے تو ہمیں بھی اللہ کی ذات پر پورا ایمان اور یقین رکھنا چاہیئے اور اس کی اطاعت و بندگی سے روگردانی کرتے ہوئے رفو چکر ہونے سے کچھ شرم و حیا کرنی چاہیئے۔ اس میں نہ شک ہے نہ انکار کی گنجائش کہ خالق کائنات رحیم بھی ہے اور کریم بھی ہے، مگر تعجب اس بات پر ہے کہ ہم اپنے مفادات کے غلام اور اپنے نفس کے سامنے بے بس ہیں، ہمارے ضمیر مردہ اور ہمارے جذبات ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ نہ ہمیں خالق کی عبادت کا سلیقہ آتا ہے، نہ مخلوق پر رحم کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے، نہ کسی معصوم یتیم بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا آتا ہے، نہ کسی مظلوم کی حمایت کرکے اسے اس کے حقوق تک رسائی میں مدد دے سکتے ہیں اور نہ کسی ظالم و جابر کے سامنے سینہ تان کر نہی عن المنکر کرنے کی ہم میں ہمت ہے، ہم تو بس اپنے مفادات و ضروریات کا بت بنا کر اس کی پرستش میں مصروف ہیں۔

اس قاتل واٸرس نے تو پوری دنیا کا پہیہ جام کرکے رکھ دیا ہے، لوگ بے روزگار بیٹھے ہیں، کاروباری اور تاجر حضرات کی پریشانی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، امپورٹ، ایکسپورٹ، فضائی اور بحری رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں نفسا نفسی کا عالم ہے۔ دنیا کی فرعون صفت سپر پاور حکومتیں بھی اس منحوس وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور اور بے بس دکھائی دے رہی ہیں۔ اس حالت میں خدا را ہم اپنے آپ پر، دوسروں پر اور ملک و ملت پر رحم کریں، اپنی اور دوسروں  کی حفاظت کریں۔ ڈاکٹر حضرات کے مشوروں اور تدابیر پر عمل کریں، دیگر حفاظتی اقدامات کرنے والے ادارے خاص طور پر فوج، پولیس، رینجرز اور دیگر رضاکاروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں، خود بھی گھروں میں محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔ یہ اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے بھاگنے کا وقت نہیں ہے، غریبوں کی مدد کرنے اور بےبسوں کا سہارا بنے کا وقت ہے۔ مریضوں کے علاج معالجے اور ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا وقت ہے اور یہ ایثار و فداکاری کرنے کا وقت ہے۔

ایثار کا لغوی معنی: قربانی دینا، فدا کاری اور دوستی ہے۔ اصطلاحی معنی: اصطلاح میں دوسروں کو فائدہ پہنچانا اور اپنے مفادات پر دوسروں کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ قربانی سے مراد صرف سنت ابراہیمی کی بجا آوری، حاجی حضرات کا منیٰ میں اور باقی عوام کا گھروں میں (10 ذی الحجہ) کو دنبہ یا کوئی اور جانور ذبح کرنا نہیں ہے اور نہ صرف میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنا مراد ہے، بلکہ تن، من اور دھن کی قربانی دینا مراد ہے۔ اس وائرس سے بچاؤ اور مقابلہ فرد واحد کے بس کی بات نہیں ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلے ایثار کی ضرورت ہے۔ کبھی ڈاکٹر حضرات کو جان کی فکر کیے بغیر مریض کے علاج معالجہ کیلئے قیمتی جان دیکر دار فانی کو خیر باد کرنا پڑتا ہے تو کبھی کسی تاجر یا کاورباری شخص کے عطا کردہ عطیات سے کسی کی جان میں جان آتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ کبھی کسی جاہل نادان اور "میرا جسم میری مرضی" کے مالک کی بے احتیاطی اور ہدایات و تدابیر پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہوتے ہوئے دیکھ کر آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہوتی ہے۔

اگر ہم غور و فکر کریں تو یہ ایثار کسی خاص برادری، مذہب یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ کسی خاص مدت تک کے لیے محدود ہے، تاریخ کے اوراق پلٹا کر اس کے بہت سارے نشانات ڈھونڈ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس میں اچھی خاصی کمزوریوں کا سامنا رہا ہے، مگر تمام ادیان میں، روایتی اور جدید دونوں، قربانیوں کی اقسام موجود ہیں اور لوگوں نے مختلف طریقوں سے ایثار کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ اسلام کے علاوہ زرتشت، بت پرست اور کنفوشئیس کی تعلیمات میں بھی قربانی اور ایثار پر زور دیا گیا ہے ان مذاہب میں بھی ہرطرح کی مدد، دوستی اور احسان نہایت احتیاط اور شفقت کے ساتھ ایک اہم عنصر بھی رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عیسائیت، یہودیت اور اسلام میں قربانی کو ایک اہم ترین ایمانی اور اخلاقی عنصر کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس کا تورات، انجیل اور قرآنی آیات میں ذکر ملتا ہے۔

اسلام نے 14 سو سال پہلے جو تعلیم عالم انسانیت کو دی ہے، آج یہود و ہنود مصیبت کی گھڑی میں اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ اسلام نے صفائی اور پاکیزگی کو ایمان کا جز قرار دیا ہے، وضو اور غسل کی تاکید کی ہے، حرام گوشت کو کھانے کی ممانعت کے ساتھ درس ایثار، حقوق و فرائض کی بجاآوری پر بھی زور دیا ہے، انصاف اور عدل قائم کرنے کی تاکید کی ہے۔ رحم و کرم کی فضیلت بیان کی ہے اور جو کچھ آج نشر ہو رہا ہے، سب کچھ قرآنی آیات اور اللہ کے نبی رحمت اللعالمین کے فرامین کی روشنی میں بتایا جا رہا ہے، نہیں تو ان کے پاس کہاں سے آئی ایسی مرتب اور لاجواب تدابیر۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر کسی ملک میں ایسی وباء پھیلے تو وہاں کے لوگوں کو چاہیئے کہ جب تک بیماری ختم نہ ہو، سفر سے اجتناب کریں، تاکہ یہ بیماری کسی اور جگہ منتقل نہ ہو۔ اگر اس بیماری کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو جائے تو اس کا حشر و نشر شہداء کے ساتھ ہوگا۔" کیونکہ اس نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کیا، مگر دوسروں کی جانوں کی حفاظت کی اور انہیں لقمہ اجل بننے سے محفوظ رکھا ہے، یہ وہ فرامین ہیں، جنہیں چودہ سو سال پہلے میرے نبی نے ارشاد فرمایا تھا۔ آج چودہ سو سال بعد عمل ہوتا دیکھا جا رہا ہے، ایک ملک سے دوسرے ملک کے زمینی، ہوائی اور بحری رابطے بند کر دیئے گئے ہیں، وہ بھی بیماری کے پھیل جانے کے بعد، کاش ان کو پہلے عقل آتی اور فرمان نبی کریم پر قبل از وقت عمل کرتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑھتے۔

عصر حاضر میں حکمرانوں کی اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مالی استطاعت بخشی ہے، ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ دوسروں کا خیال رکھیں، یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھریں، کسی غریب گھر کے چولہے بجھنے نہ دیں، کسی یتیم کی آہ و بکا آسمان تک نہ پہنچے دیں،  مزدور گھرانے کا بچہ روٹی کے نوالے کے لیے نہ ترسے اور خدا کرے ایسا نہ ہو کہ کسی بیوہ کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بیچاری روزمرہ ضروریات کی قلّت کے باوجود زندگی بسر کرتی رہے اور اپنے غریب خانے میں بھوک اور پیاس کی شدت سے سسکیوں کی تاپ برداشت نہ کرتے ہوئے چل بسے۔ ایسی موت کے حدیث کی روشنی میں ہم سب جوابدہ ہیں۔

قیامت والے دن ہم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تم مزے مزے کے کھانے کھاتے رہے اور میرا نیک بندہ بھوک کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ یہ کہاں کا انصاف اور کہاں کی عدالت ہے اور تمہیں جو مال اور اختیارات دیئے گئے ہیں، اس میں غریبوں کے حقوق بھی شامل ہیں۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی ہمسائیگی میں ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھیں۔ اگر آج ہم کسی کی مدد کریں گے تو اللہ بھی ہماری مدد کرے گا۔ ہم کسی کا خیال رکھیں تو اللہ بھی ہمارا خیال رکھے گا۔ دعا ہے کہ خدواند ہم سب کو ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے آمین۔آمین
خبر کا کوڈ : 854300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش