0
Sunday 5 Apr 2020 19:18

مقبوضہ کشمیر، کووڈ 19 کا قہر اور انٹرنیٹ کی بندش

مقبوضہ کشمیر، کووڈ 19 کا قہر اور انٹرنیٹ کی بندش
رپورٹ: جے اے رضوی

مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ برس 5 اگست سے انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ تاجر طبقہ اور خاص طور پر طلاب و میڈیا کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔ حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ برس کے ماہ اگست سے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب کرونا وائرس کے قہر کے باعث لاک ڈاؤن کی پریشانیاں سہنے پر مجبور ہیں۔ اب جبکہ سالِ رواں کے دوران حکومت نے جموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میں کسی حد تک اپنے رویہ میں تبدیلی لائی ہے، جس کے نتیجہ میں لاک ڈاؤن سے قبل ہی انٹرنیٹ کی محدود بحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہو پا رہی ہیں، جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ حکومت نے اپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف 2 جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں، جو کہ یہاں کے صارفین کے ساتھ ایک مذاق ہی ثابت ہو رہا ہے۔

موبائل کمپنیاں تو صارفین سے 4 جی ڈیٹا پیک کا پیسہ وصول کرتی ہیں لیکن اسے ستم ظریفی کہا جائے یا بدقسمتی کہ صارفین کو 4 جی پیک کے عوض صرف 2 جی انٹرنیٹ کی خدمات میسر ہیں، کیا یہ حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سے صارفین پر ظلم کرنے کی پالیسی تو نہیں ہے یا پھر حکومت اور موبائل کمپنیوں کے درمیان آپسی ملی بھگت کا کھلا نتیجہ ہے۔ صارفین کا خیال ہے کہ یہ ٹیلی کام کمپنیوں کی اپنے صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی تو نہیں ہے یا حکومت کی طرف سے یہاں کے عوام کے ساتھ سوتیلے پن کا افسوناک حربہ تو نہیں ہے۔؟ بظاہر تو یہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ جس سے ڈیجیٹل انڈیا پر بھی ایک بدنما دھبہ لگ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے عوام کے نام ایک کڑا پیغام ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ دلی کی حکومت نے جموں و کشمیر کو سوائے سیاسی چراگاہ کے اور کچھ سمجھا ہی نہیں ہے۔

لال قلعے کی فصیل سے جموں و کشمیر کو بھارت کا تاج کہنے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ جس جموں و کشمیر کو وہ بھارت کا تاج کہتے ہیں، وہاں جدید ٹیکنالوجی کے اِس دور میں لوگوں کو انٹرنیٹ جیسی اہم خدمات سے بدستور محروم رکھا گیا ہے۔ لاکھ منت سماجت اور مطالبات کے باجود بھی جموں و کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی ایک خواب بن کر رہ گیا۔ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایک طرف پبلک مقامات کے ساتھ ساتھ بینکوں میں جانے سے روک لگ چکا ہے جبکہ ای بینکنگ پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف وادی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ پر 4 جی رفتار بدستور بند ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کو مجبوراً بینکوں اور دیگر جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ کئی ریاستوں میں اِی کلاسز شروع کی جاچکی ہیں اور اسکول و کالج بند رہنے کی صورت میں طلبہ و طالبات کو انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن پڑھایا جاتا ہے، لیکن جموں و کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ پر حکومتی قدغن بدستور جاری ہے۔

کورونا وائرس نے ایک عالمی وبائی صورت اختیار کر لی ہے اور اب تک اس وائرس میں مبتلاء ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگئی ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس مہلک وباء کی وجہ سے ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، جس کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کے لئے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اگرچہ جموں و کشمیر میں بھی سرکاری سطح پر کئی اقدامات اْٹھائے جا رہے ہیں، تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔ اس ضمن میں لوگوں کے پبلک مقامات، یہاں تک کہ عبادت گاہوں میں جانے پر بھی پابندی ہے۔ حکومت کی جانب سے گھروں میں ہی بیٹھے رہنے پر آئے روز نئے نئے احکامات صادر کئے جا رہے ہیں، لیکن عوام کی جانب سے 4 جی انٹرنیٹ خدمات بحالی کی مانگ حکومت کے ٹھنڈے بستے میں ہے۔ بھارتی حکومت عوام کی اِس مانگ کو لیکر مکمل طور ہٹ دھرمی اپنائے ہوئے ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے رویہ میں نرمی لاکر 4 جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کو ممکن بنائے، وگرنہ یہ صاف عیاں ہو رہا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں اور سرکار کی باہمی ملی بھگت سے لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک اور جمہوری دعوے پر طمانچہ ہے۔ آخر میں کشمیری عوام کی زبانی بھارتی حکومت کے نام بس یہی پیغام ہے کہ اچھے دن کب آئیں گے، جس کا آپ ببانگ دہل دعویٰ کرتے جا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 854843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش