1
Monday 4 May 2020 21:37

ہماری تاریخ کیسی ہوگی

ہماری تاریخ کیسی ہوگی
تحریر: ڈاکٹر سید محمد جواد شیرازی
         Mjawad99@yahoo.com       
 

آج جب ہم اپنے سے پہلے کے زمانے کی تاریخ پڑھتے یا سنتے ہیں تو بہت سے درست اور غلط حقاٸق تک ہماری رساٸی ہو جاتی ہے۔ سنا ہے کہ ہر زمانے میں بادشاہ اپنے خاص لکھاری رکھتے تھے، جو ان کی مرضی سے تاریخ لکھتے تھے، لیکن کچھ گمنام لکھاری بھی ہر زمانے میں موجود ہوتے تھے، جن کی لکھی کتابیں آج تاریخ کے طالبعلموں کو حقاٸق تک رساٸی دیتی ہیں۔ چلیں مان لیں کہ آج سے سو سال بعد کوٸی لکھاری ہماری تاریخ لکھتا ہے تو مسلمانوں کو کن الفاظ سے یاد کرے گا۔ 2000ء عیسوی میں مسلمان 56 ممالک میں تقریباً پونے دو ارب کی آبادی پر مشتمل تھے، لیکن یہ دور عیساٸیوں کے تسلط کا دور تھا، وہ سب سے بڑی طاقت امریکہ کی لاٹھی سے تمام دنیا کو ہانک رہے تھے، امریکہ کٸی اسلامی ممالک پر بلا جواز چڑھاٸی کر دیتا تھا، اس نے اپنے ملک میں ہوٸی ایک دہشت گردی کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کر دیا، اس کے لیے تمام سہولیات اس کے ہمسایہ ممالک نے فراہم کیں۔ اس کے بعد عراق، لیبیا اور شام پر لشکر کشی کرکے آباد ملکوں کو کھنڈروں میں تبدیل کر دیا اور لاکھوں لوگوں کو اذیت ناک طریقوں سے قتل کر دیا گیا اور ان ممالک کے تمام معدنی ذخاٸر پر قبضہ کر لیا، اس کے علاوہ دیگر کٸی ممالک میں دہشت گردی کے نام پر لاکھوں لوگ قتل ہوگٸے۔

اس ساری صورتحال میں کروڑوں لوگ بے گھر ہوکر مختلف سرحدوں پر بنی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوگٸے۔ اس وقت چند اسلامی ممالک بے پناہ دولت مند تھے، کسی نے بھی نہ تو اپنی سرحدیں کھولیں اور نہ ہی کسی کی مدد کی، بلکہ ایک اسلامی ملک جو پوری اسلامی دنیا میں مقدس سمجھا جاتا تھا، اپنے کچھ اتحادی اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ایک کمزور اسلامی ملک پر چڑھ دوڑا اور حج بیت اللہ کی کماٸی سے لاکھوں مظلوم اور بے سہارا لوگوں کو قتل کرتا رہا۔ نہ اس قوم کے پاس اپنی دفاعی صلاحیت تھی اور نہ ہی مقابلہ کرنے کی سکت۔ لاکھوں لوگ جنگ، بھوک اور محاصرے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گٸے۔ اس زمانے میں کچھ مسلمان ایسے بھی تھے، جنہیں مسلمانوں کی اکثریت دوسرے درجے کا مسلمان سجھتی تھی، وہ کل مسلم آبادی کا ایک چوتھاٸی بھی نہیں تھے۔ وہ عیساٸیوں اور یہودیوں کے آگے جھکنے سے گریزاں تھے اور اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کے ساتھ برسر پیکار تھے، وہ ایمان کی طاقت سے سرشار تھے اور شھادت کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے۔

طاقت کے نشے میں چُور یہودیوں نے کٸی بار ان سے جنگیں لڑیں، لیکن پورے عربوں کو شکست دینے والے یہودی مٹھی بھر لبنانی جوانوں سے شکست کھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگٸے اور پھر انہی جوانوں نے فلسطینوں، عراقیوں اور یمنی مسلمانوں کو بھی قدرت للکار دی۔ انہوں نے عیساٸیوں اور یہودیوں کے منصوبوں کو خاک میں ملانا شروع کر دیا۔ پوری دنیا میں صرف ایک اسلامی ملک تھا، جو عیساٸیوں اور یہودیوں سے ہر محاذ پر ملکی سطح پر برسرپیکار تھا، وہ ایران تھا۔ پوری دنیا نے ان کا معاشی باٸیکاٹ کر رکھا تھا، مگر پھر بھی وہ خدا کی بادشاہت کو تسلیم کرتے تھے۔ کسی اور کو نہیں مانتے تھے اور پھر ناقابل تسخیر امریکا بھی اس کے مدمقابل آکھڑا ہوا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ امریکی فوجی اڈوں پر ایران نے اپنے ایک جنرل کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے کاررواٸی کی اور اس کے بعد اسے جرأت نہ ہوٸی کہ جوابی کاررواٸی کرے اور وہ شکست کا داغ ماتھے پر سجائے پسپا ہوگیا۔
خبر کا کوڈ : 860682
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش