1
Sunday 10 May 2020 15:30
بحوالہ ڈاکٹر جعفر شہیدی

امام علی ؑ کی شہادت کے پیچھے کار فرما عوامل

امام علی ؑ کی شہادت کے پیچھے کار فرما عوامل
تحریر: سید رمیز الحسن موسوی
نور الہدیٰ مرکز تحقیقات اسلام آباد(نمت)


ڈاکٹر جعفر شہیدی مرحوم ایران کے ممتاز معاصر مؤرخ اور محقق ہیں۔ جن کا شمار ایسے علماء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے تاریخ اسلام اور سیرت کے باب میں جدید اسلوب اپنایا ہے۔ اُن کی کتابیں پڑھنے کے بعد انسان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا ہونے لگتے ہیں، جو اُسے تاریخی موضوعات میں مزید تحقیق و جستجو کی طرف لے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے تاریخ اور سیرت کے باب میں چند کتابیں لکھیں ہیں، جن میں ایک کتاب ’’علی از زبان علی یا زندگانی امیر مؤمنان علی ؑ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، جس میں اُنھوں نے امام علی علیہ السلام کی سوانح حیات کو قلمبند کیا ہے اور اپنے مخصوص اسلوب کے ساتھ سیرت امام علی ؑ کو پیش کیا ہے۔ وہ اپنی دوسری کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی اپنے قاری کے ذہن میں سوالات کا انبار لگا دیتے ہیں، جس کے بعد قاری خود بخود تحقیق اور جستجو کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں اُنھوں نے اس کتاب میں حضرت امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں بھی کچھ سوالات اُٹھائے ہیں، جو سیرت امیر المؤمنین ؑ کے قاری کے لئے تحقیق کے نئے زاویئے پیش کرتے ہیں کہ:

کیا امیرالمؤمنین کی شہادت کے واقعے کو اسی طرح سمجھنا اور جاننا چاہیئے کہ جس طرح پیش کیا جاتا ہے۔؟ کیا امیرالمؤمنین ؑ کے قتل کی منصوبہ بندی کے ساتھ دوسرے دو لوگوں کے قتل کا منصوبہ حقیقی تھا یا کوئی ڈرامہ تھا کہ جس کے بعد وہ دو لوگ تو بچ جاتے ہیں اور شیعوں کا امام اور پیشوا قتل ہو جاتا ہے۔؟ یعنی دوسرے دو افراد کا بچنا اتفاقی تھا یا منصوبہ بندی کا حصہ تھا؟ کیا خوارج ہی امام علی ؑ کے قاتل ہیں اور امام علی ؑ کے دوسرے دشمن بری الذمہ ہیں۔؟ کیا قطام نام کی خوبصورت عورت اس منصوبے کا حصہ تھی یا وہ اتفاقی طور پر عبدالرحمن ابن ملجم جیسے ’’زاہد و باتقویٰ‘‘ خارجی کے راستے میں آئی تھی اور وہ بھی وہی چاہتی تھی، جو ابن ملجم مرادی چاہتا تھا۔؟ کیا یہ ایک افسانہ نہیں، جو تاریخ میں تکرار کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے اذہان کو اصل قاتل سے منحرف کئے ہوئے ہے۔؟

یہ سب سوالات اس کتاب میں شھادت امام علی ؑ کے بارے میں ڈاکٹر شہیدی مرحوم کی تحریر پڑھ کر پیدا ہوتے ہیں اور انسان کے ذہن میں تاریخ اسلام کے درد ناک واقعے کے بارے میں تحقیق و جستجو کے نئے افق پیدا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم کتاب ’’علی از زبان علی‘‘ سے اقتباس پیش کریں، ڈاکٹر سید جعفر شہیدی مرحوم کا علمی تعارف کرانا ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ اس تحریر کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے اور قاری اُٹھائے گئے ان سوالات کو تاریخ کے ایک ایسے محقق کے سوالات کے طور پر لے کہ جس نے برسہا برس تک تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا ہے اور تاریخ کے ذریعے مسلمان معاشروں کی تربیت کی ذمہ داری پوری کی ہے۔ یقیناً اردو زبان قارئین کے لئے یہ تحریر شہادت امام علی  علیہ السلام کے موقع پر مطالعے اور تحقیق کے نئے اُفق روش کرے گی۔

ڈاکٹر سید جعفر شہیدی مرحوم
فارسی ادب اور تاریخ کے مشہور محقق اور استاد ڈاکٹر سید جعفر شہیدی کی پیدائش 1921ء میں ایران کے شہر بروجرد میں ہوئی۔ اُنھوں نے ابتدائی تعلیم، عربی ادبیات، دینی علوم اور فقہ و اصول کی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔ 1941ء میں آپ نجف اشرف کی عظیم دینی درسگاہ تشریف لے گئے اور وہاں اس زمانے کے علمائے عظام آیت اللہ حاجی سید یحییٰ یزدی، آیت اللہ حاجی میرزا حسن یزدی، آیت اللہ العظمیٰ حاجی میرزا ہاشم آملی اور بعد میں آیت اللہ العظمیٰ ابوالقاسم خوئی   سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ نجف اشرف میں سات سال قیام کے بعد 1948ء میں واپس تہران تشریف لائے۔ آپ نے 1949ء میں اپنا تحقیقی کام مرحوم استاد دہخدا کے ساتھ لغت نامہ میں شروع کیا اور 1951ء میں ثانوی اسکولوں میں تدریس کے ساتھ ساتھ لغت نامہ پر تحقیقی کام جاری رکھا۔ 1953ء میں دانش کدہ معقول و منقول اور 1956ء میں تہران یونیورسٹی کے دانشکدہ ادبیات سے فارسی زبان و ادب میں بی اے کیا اور 1961ء میں اسی یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1963ء میں لغت نامہ کے نائب صدر اور 1967ء سے اس کے صدر مقرر ہوئے۔ اسی سال آپ نے مرحوم ڈاکٹر معین کے ساتھ فرہنگ فارسی کی تیاری شروع کی۔

ڈاکٹر شہیدی نے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کی دعوت پر علمی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کے لئے مختلف ممالک کا سفر کیا، جن میں اردن، مصر، الجزائر، عراق، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بیجنگ یونیورسٹی سے آپ کو اعزازی پروفیسر کی ڈگری عطا کی گئی۔ ڈاکٹر شہیدی کی بعض تصانیف حسب ذیل ہیں:
جرائم تاریخ (٣جلد) فارسی، کتاب فروشی حافظ تہران ١٩٥٠ء
چراغ روشن در دنیای تاریک، فارسی، انتشارات علمی، تہران ١٩٥٦ء
در مسیر خانہ خدا، طبع دانش نو تہران ١٩٧٧ء
پنجاہ سال بعد، فارسی، طبع امیر کبیر ١٩٧٩ء سولہویں طباعت، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ١٩٩٣ء
شرح لغات و مشکلات دیوان انوری، فارسی، پہلی اشاعت انجمن آثار ملی ١٩٧٩ء، دوسری اشاعت انتشارات علمی و فرہنگی ١٩٨٣ء
تاریخ تحلیلی اسلام تا عصر بنو امیہ، فارسی، مرکز نشر دانشگاہی تہران، ١٩٨٣ء
عرشیان، فارسی، نشر معشر قم ١٩٩٢ء
شرح مثنوی مولانا روم، جلد چہارم (مرحوم استاد فروزانفر کے کام کا تکملہ) انتشارات علمی و فرہنگی تہران ١٩٩٤ء

 علی از زبان علی، فارسی، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ١٩٩٧ء اس کتاب کا ترجمہ سید حسنین عباس گردیزی کے قلم سے اردو میں ہوچکا ہے۔
زندگانی فاطمة الزھراء، فارسی انتشارات امیر کبیر تہران، اُرد وترجمہ: حیات فاطمة الزہراء، ناشر مرکز تحقیقات اسلامی، اسلام آباد پاکستان
زندگانی علی ابن الحسین، فارسی، انتشارات امیر کبیر ایران، یہ کتاب بھی سید حسنین عباس گردیزی نے اُردو زبان میں منتقل کی ہے۔
اسی طرح نہج البلاغہ کا فارسی ترجمہ بھی ڈاکٹر شھیدی کے قلم سے ہوا ہے، جس کو 1369 ش میں جمہوری اسلامی ایران میں کتاب سال قرار دیا گیا ہے۔
ذیل میں جو اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں، یہ ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب ’’علی از زبان علی‘‘ کے اردو ترجمے سے ماخوذ ہیں، جو ممتاز مترجم سید حسنین عباس گردیزی نے کیا ہے۔ ہم فاضل مترجم کے مشکور ہیں کہ اُنھوں اپنی اس غیر مطبوعہ علمی کاوش سے استفادہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

شہادت امام علی ؑ کے متعلق عمومی رائے
امام علی علیہ السلام کی شہادت کے واقعے کے بارے میں تاریخ میں جو عمومی رائے پائی جاتی ہے، اُس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیدی لکھتے ہیں: ’’امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں اوائل کے مؤرخین کی تمام روایات جسے شیعہ اور اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، سے مجموعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علیؑ کی شہادت خوارج کی سازش کا نتیجہ تھی۔ ان روایات کو تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی، ارشاد مفید، طبقات ابن سعد، بلا ذری اور واقدی کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ نہروان کے اختتام پر خوارج کے لوگ آپس میں جمع ہوئے، اپنے مقتولین پر گریہ اور ان کی عبادت و پارسائی کی تعریفیں کرنے لگے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ یہ تمام فتنے تین اشخاص کی وجہ سے واقع ہوئے ہیں، علیؑ، عمرو بن عاص اور معاویہ۔ جب تک یہ تین افراد زندہ ہیں، مسلمانوں کا کوئی کام سیدھا نہیں ہوگا اور ان میں سے تین افراد ان تینوں کو قتل کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔

عبدالرحمن بن ملجم کا تعلق بنی مراد سے تھا، اس نے علیؑ کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔ بنی تمیم کے بُرک بن عبداللہ نے معاویہ کو اور بنی تمیم کے عمرو بن بکر نے عمرو بن عاص کو مارنے کی ذمہ داری لی۔ اس کام کو کب انجام دیا جائے؟ کہنے لگے ماہ رمضان میں یہ مسجد میں آتے ہیں، لہذا اسی مہینے میں ان کا کام تمام کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ماہ رمضان کی گیارہ یا تیرہ یا سترہ یا شیعوں کے بقول انیسویں رات کو اس کام کے لئے مقرر کیا۔ کیونکہ ان تین راتوں میں وہ مسجد میں آنے کے پابند ہیں۔ جو شخص عمرو عاص کو قتل کرنے کے پر مامور تھا، اس نے اس رات عمرو عاص کی جگہ پر آنے والے ایک اور شخص کو قتل کر دیا۔ جس نے معاویہ کو مارنا تھا، اس نے اسے ضرب ماری، اس کی تلوار اس کی ران پر لگی اور وہ زخمی ہوگیا اور دوا استعمال کرنے سے وہ مرنے سے بچ گیا۔ البتہ عبدالرحمن بن ملجم اپنے خبیث ارادے کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔"[1]

کیا حقیقت حال یہی ہے؟
اس کے بعد ڈاکٹر شہیدی تاریخ کی اس عموی رائے پر چند سوالات اُٹھاتے ہوئے قاری کو اس درد ناک واقعے کے پیچھے چھپے عوامل کے بارے میں مزید تحقیق و جستجو پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’کیا حقیقت حال یہی ہے؟ کہنا چاہیئے کہ اس میں شک و تردید کی گنجائش ہے۔ ابتداء ہی سے اس کے جعلی ہونے کے آثار نمایاں ہیں، اس کہانی کا خاکہ کسی ماہر داستان نویس نے تیار  کیا ہے، جیسے ماہ رمضان میں یہ تینوں مسجد میں آتے ہیں اور انیسویں کی شب ان کا مسجد میں آنا حتمی ہے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ انیسویں کی رات علیؑ کو ابن ملجم نے ضربت ماری۔ لیکن جو عمرو عاص کو مارنے کے لئے کہا گیا تھا، اس نے کیوں خارجہ نامی آدمی کو مارا؟ کیا وہ عمرو کو نہیں جانتا اور پہنچانتا تھا؟ اور اس کو نہیں پہچان سکا؟ اس رات عمرو مسجد میں کیوں نہ آیا؟ کیا کسی نے اسے قتل کے منصوبے سے آگاہ کر دیا تھا۔؟

حقیقی صورتحال
ڈاکٹر شہیدی جیسے محقق تاریخ کے لئے حقیقی صورت حال واضح ہے اور اُن کا تاریخی وجدان کہ جو برسوں کے تاریخی مطالعے اور تحقیق کے بعد پیدا ہوا ہے، اس عمومی تاریخی تاثر کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چونکہ برسوں تاریخ اسلام کی گھتیاں سلجھانے والے محقق کے لئے شام کی حکومت کا میکیا ولی انداز سیاست بھی روشن ہے اور حکومت شام کے سیاستمداروں کی سیاسی نفسیات بھی۔ جس کا تقاضا فقط ایک ہی ہے کہ کسی طرح اپنا مقصد حاصل کیا جائے، خواہ جس کی خاطر انسانی قدریں پائمال ہوتی ہیں یا دینی اقدار کی بنیادیں ہلتی ہیں۔ یہ وہی سیاست ہے کہ جو اپنے مقصد کی خاطر قرآن کو نیزوں پر بلند کرتی ہے اور نواسۂ رسول امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے صلح کرنے کے بعد اسے پاؤں کے نیچے روند ڈالتی ہے۔ ایسی سیاست کے سامنے علی ؑجیسے زہد و تقویٰ کے مجسمے کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس طرح کی منصوبہ بندی کرنا کوئی بعید نہیں ہے۔

اسی لئے ڈاکٹر شہیدی تاریخی قرائن کی مدد سے حقیقی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جو بات زیادہ درست اور صحیح ہے، وہ یہ ہے کہ اس منصوبے اور سازش کے تانے بانے پہلے کوفہ میں اور پھر دمشق میں تلاش کرنے چاہیئے۔ معاویہ کو علم تھا کہ جب تک علیؑ زندہ ہیں، خلافت کا حصول اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اشعث بن قیس اندرونی طور پر حضرت علیؑ کے ساتھ نہ تھا۔ ابن ابی الدنیا جو کہ 281 ہجری میں دنیا سے رخصت ہوا، اس کی تصنیف طبری اور یعقوبی سے پہلے کی ہے، اس نے اپنی کتاب ’’مقتل الامام امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ‘‘ میں اپنی اسناد سے عبد الغفار بن قاسم انصاری سے یوں بیان کیا ہے: ’’میں نے بہت ساروں سے سنا ہے کہ رات کو ابن ملجم اشعث کے پاس تھا۔ جب سحر کا وقت ہوا، اس نے اسے کہا: ’’ صبح ہوگئی ہے۔‘‘[2] اگر ان تینوں نے آپس میں مل کر منصوبہ بنایا تھا، پھر ابن ملجم کو اشعث کے ساتھ مسجد میں رات گزارنے اور اس سے گفتگو کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا یہ بات قابل قبول ہے کہ جو شخص خفیہ طور پر علیؑ کو قتل کرنا چاہتا ہے، وہ اپنا راز دوسرے کو بتائے۔؟؟

بلا ذری نے اپنی کتاب ’’انساب الاشراف‘‘میں لکھا ہے: "کہتے ہیں کہ ابن ملجم اس رات اشعث بن قیس کے پاس تھا اور اس کے ساتھ بڑی سرگوشیاں کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اشعث نے اس سے کہا: ’’اٹھو کہ صبح نے تجھے پہچان لیا ہے۔‘‘[3] حجر بن عدی نے اس کی بات کو سن کر کہا: ’’اے کانے (ایک آنکھ والے) اسے تم نے قتل کر دیا۔‘‘[4] اس کے بعد ڈاکٹر شہیدی قتل علی ؑ کی سازش کے مزید قرائن پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جس دن حضرت علیؑ کو ابن ملجم نے ضربت لگائی، اسی دن صبح اشعث نے اپنے بیٹے کو علیؑ کے گھر بھیجا، تاکہ وہ یہ دیکھے کہ علیؑ کا کیا حال ہے۔ وہ گیا اور واپس آکر اس نے بتایا کہ ان کی آنکھیں اندر دہنس چکی ہیں۔ اشعث نے کہا: "خدا کی قسم! یہ اس شخص کی آنکھیں ہیں کہ ضربت نے اس کے مغز کو متاثر کیا ہے۔"[5]

کیا خوارج بری الذمہ ہیں؟
ڈاکٹر شہیدی کے نزدیک قتل علی ؑ کے جرم میں خوارج بری الذمہ نہیں ہیں، بلکہ وہ  اپنی تاریخی حماقت کی وجہ سے اس سازش میں استعمال ہونے والا عنصر ہے، اصل چہروں پر پردے پڑے ہیں؛ لہذا وہ لکھتے ہیں: ’’میں معاصر اباضی مؤرخ، شیخ سلمان یوسف بن داؤد کی طرح یہ نہیں کہوں گا کہ خوارج علیؑ کے دوست تھے اور ان کے قتل میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور قبیلہ بنی مراد جس سے ابن ملجم کا تعلق تھا، وہ خوارج میں شمار نہیں ہوتا۔ ابن ملجم اور دیگر دو افراد کا قصہ معاویہ کے کہانی سازوں کا من گھڑت ہے۔ اگرچہ میں نے اس کی موجودگی میں اس کے اپنے ملک الجزائر میں اس کی کتاب پر تنقید کی ہے اور اسے خط لکھ کر بھی اس پر اعتراضات کئے ہیں۔‘‘[6]

سازش کے اصل کردار
وہ قتل علی ؑ کی سازش کے اصل چہروں سے پردہ اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’لیکن اگر کوئی یہ کہہ کر جیسا کہ مشہور ہے، علیؑ کی شہادت اس سازش کے نتیجے میں نہیں ہوئی تو اس کی رائے کو حقیقت سے زیادہ دور نہیں سمجھتا۔ میں پھر یہ کہتا ہوں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ اگر ہم اس دھاگے کا سرا پکڑیں اور آگے بڑھیں تو ہم کوفہ میں اشعث تک اور پھر وہاں سے دمشق تک جا پہنچیں گے۔ اشعث دلی طور پر حضرت علیؑ سے ناراض تھا، کیونکہ علیؑ نے  اسے قبیلہ کندہ پر حکومت حاصل کرنے سے روکا تھا، نیز انہوں نے منبر پر اسے منافق اور کافر کا بیٹا کہا تھا۔ شہرستانی ملل و نحل میں لکھتے ہیں: "جن افراد نے حضرت علیؑ کے خلاف شورشیں کیں، ان میں سے اشعث سب سے آگے تھا اور دین سے سب سے زیادہ نکلا ہوا تھا۔"[7]

قطام کون ہے؟
اس واقعے میں قطام نامی عورت کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیدی لکھتے ہیں: ’’اصلی کہانی سے زیادہ عجیب ایک قطام نامی عورت کا اچانک کہانی میں داخل ہونا ہے کہ جونہی ابن ملجم نے اسے دیکھا تو پورے دل و جان سے اس پر عاشق ہوگیا اور قطام کی داستان سے زیادہ عجیب خود قطام ہے۔ طبری اسے ایک مقدس اور پاکیزہ عورت کے طور پر جانتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ وہ جامع مسجد میں اعتکاف میں بیٹھی تھی کہ ابن ملجم دو آدمیوں کے ساتھ اس کے پاس مسجد میں آیا اور انہوں نے کہا: ’’ہم نے قتل علیؑ پر ایکا کر لیا ہے۔‘‘ ابن اعثم کوفی نے اس کا تعارف ایک بوالہوس اور فاحشہ عورت کے طور پر کرایا ہے۔ وہ یوں لکھتا ہے: ’’علی ؑ نے خارجیوں سے جنگ کے بعد کوفہ کا رخ کیا۔ ابن ملجم ان سے پہلے کوفہ پہنچا اور اس نے لوگوں کو خوارج کے مارے جانے کی خوشخبری سنائی۔ اسی دوران اس کا گزر ایک گھر کے پاس سے ہوا تو اس نے وہاں سے ساز و طبنور اور طبلے کی آواز سنی تو اسے اچھی نہ لگی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں شادی کی محفل ہے، اس نے لوگوں کو موسیقی اور ساز و طبلے سے منع کیا۔ عورتیں گھر سے باہر نکل آئیں، ان کے درمیان ایک قطام نامی عورت بھی تھی، جس کے باپ کا نام اصبغ تمیمی تھا، وہ ایک حسین عورت تھی۔

عبدالرحمن نے اسے دیکھا، اس کے چال ڈھال کو دیکھ کر اسے دل دے بیٹھا اور اس کے پیچھے چل پڑا اور اسے کہنے لگا: کیا تو شادی شدہ ہے یا کنواری ہے۔؟ اس نے جواب دیا: ’’کنواری ہوں۔‘‘ کیا تو ایسا خاوند نہیں چاہتی، جو ہر لحاظ سے تیری مرضی کے مطابق ہو۔؟ ’’مجھے ایسے خاوند کی ضرورت ہے، لیکن میرے بزرگ ہیں، مجھے ان سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے، میرے ساتھ آؤ۔‘‘ ابن ملجم اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں تک کہ وہ ایک گھر تک پہنچ گیا۔ قطام اندر چلی گئی اور اس نے اچھا لباس پہنا اور اپنے ساتھی سے کہا: ’’اس شخص سے کہو کہ گھر کے اندر آجائے اور مجھے دیکھ لے تو پردہ گرا دینا۔‘‘ ابن ملجم گھر میں داخل ہوا اور قطام کو دیکھا اور پردہ گرا دیا۔ اس نے پوچھا: "میرا مسئلہ حل ہوا ہے یا نہیں؟" اس نے کہا: "میرے بڑوں نے میری شادی کے لئے تین شرطیں رکھی ہیں، تین ہزار درہم، غلام اور ایک کنیز مجھے دینا ہوگی۔" ’’میں راضی ہوں‘‘ ابن ملجم نے جواب دیا۔

عورت نے کہا: ’’ایک اور شرط بھی ہے۔‘‘ وہ کونسی؟ جواب ملا: علیؑ ابن ابی طالب کو  قتل کرو گے!" ابن ملجم نے کہا: ’’انا للہ وانا الیہ راجعون! کون علیؑ کو قتل کرسکتا ہے، جو یگانہ شہسوار، صف شکن اور ماہر نیزہ باز ہے۔‘‘ عورت نے کہا: ’’پریشان نہ ہو، میں مال نہیں چاہتی ہوں، لیکن علیؑ کو تمہیں ضرور قتل کرنا ہوگا، کیونکہ اس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔‘‘ ’’اگر تم ایک ضربت پر راضی ہوتی ہو تو میں تیار ہوں۔‘‘ عورت نے کہا: ’’مجھے منظور ہے، لیکن تمہیں اپنی تلوار میرے پاس گروی رکھنا ہوگی!" ابن ملجم نے اپنی تلوار اس کے پاس رکھی اور اپنے گھر چلا گیا۔ پھر علیؑ کوفے میں تشریف لائے، لوگوں نے آگے بڑھ کر خوارج پر فتح کی مبارکباد دی۔ علیؑ جامع مسجد میں آئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ منبر پر تشریف لے گئے اور ایک بہت اچھا خطبہ دیا، پھر اپنے بیٹے حسنؑ کی طرف منہ کرکے پوچھا: اے ابو عبداللہ! ماہ رمضان میں سے کتنے دن باقی ہیں۔؟ جواب ملا: "سترہ دن۔"

پھر آپؑ نے اپنی ریش جو کہ سفید ہوچکی تھی، پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: "خدا کی قسم! اسے لوگوں میں شقی ترین شخص خون سے رنگین کرے گا۔" اس کے بعد آپؑ شعر پڑھنے لگے، جس میں مرادی شخص کے ہاتھوں اپنے قتل ہونے کی خبر دی۔ ابن ملجم نے جب یہ سنا تو  آپؑ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: "اے امیرالمؤمنین! خدا کی پناہ یہ میرا دایاں اور بایاں ہاتھ ہے، اسے کاٹ دیں یا مجھے قتل کر دیں۔ علیؑ نے جواب دیا: ’’میں تمہیں کیسے قتل کروں، تم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ یہ جو شعر میں نے بطور مثال پڑھے ہیں، اس سے میری مراد تم نہیں ہو، البتہ مجھے پیغمبر اکرمؑ نے بتایا ہے کہ میرا قاتل بنی مراد کا ایک شخص ہوگا۔ اگر میں جانتا کہ تو میرا قاتل ہے تو میں تجھے قتل کرتا۔‘‘[8]

قطام  کی داستان کے من گھڑت ہونے کی دلیل
ڈاکٹر شہیدی اس داستان سرائی کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اور اس پر چند سوال اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس طرح کی تفصیل پہلے درجے کی کسی تاریخ اور سوانح کی کتابوں میں نہیں ملتی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ بعض کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے، وہ اسی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس قصے کے من گھڑت ہونے کے ثبوت اور علامات اسی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ابن ملجم حضرت علیؑ سے پہلے کوفہ پہنچا اور لوگوں کو خارجیوں کے مارے جانے کی خوشخبری سنائی۔ ابن ملجم کس طرف تھا؟ خوارج کے درمیان تھا یا لشکر علیؑ میں تھا؟ اگر وہ خوارج کے ساتھ تھا تو مارا جاتا یا بھاگ جاتا اور اگر لشکر حضرت علیؑ کے ساتھ تھا تو پھر اس نے حضرت علیؑ کو کیوں قتل کیا؟ اگر یہ کہا جائے کہ وہ از روئے نفاق علیؑ کے سپاہیوں میں گھسا ہوا تھا تو یہ درست نہ ہوا، کیونکہ خارجیوں میں جھوٹ اور نفاق بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسے ہوتے تو اپنی جان پر نہ کھیلتے۔ وہ تو خارجیوں میں سے تھا تو پھر لوگوں کو خارجیوں کے مارے جانے کی خوشخبری کیوں دے رہا تھا۔؟

2۔  ابن ملجم قطام کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگیا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے، اسے عشق بازی اور شادی کرنے کا کہاں موقعہ ملتا ہے اور وہ اس کے بارے میں سوچتا ہے اور اسی طرح کے دیگر اعتراضات جنہیں ہم نظر انداز کرتے ہیں۔
3۔ علیؑ نے کہا اگر میں جانتا ہوتا کہ تو میرا قاتل ہے تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ حضرت علیؑ کس طرح کسی ایسے شخص کو قتل کرسکتے ہیں، جس نے ابھی قتل کیا ہی نہیں ہے۔؟ مذکورہ کتاب میں آیا ہے کہ علیؑ کی شہادت کی رات ابن ملجم مست ہو کر قطام کے گھر میں سویا ہوا تھا، قطام نے اسے بیدار کیا اور کہا: ’’اذان کا وقت ہونے والا ہے، اٹھو اور ہمارے مطالبہ کو پورا کرو اور خوش و خرم واپس آؤ۔‘‘[9] کتاب کے فارسی مترجم نے اضافہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ہم نے تمہاری خواہش کو پورا کر دیا ہے، تم بھی اٹھو اور حاجت کو پورا کرو، واپس آؤ اور عیش کرو۔‘‘[10]

یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ اس رات قطام نے ایک اجنبی شخص ابن ملجم کو کیوں اپنے گھر سلایا؟ کیا اس کے بڑوں نے اس کی اسے اجازت دی تھی؟ کیا یہ بات ماننے والی ہے کہ ابن ملجم جس نے بڑا کام کرنے کا ارادہ کیا ہو، وہ مست ہو کر سوئے گا۔؟ لیکن بلا ذری نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا ہے:’’ابن ملجم کوفے میں آیا اور اپنے منصوبے کو خفیہ رکھا ہوا تھا، پھر اس نے علقمہ کی بیٹی قطام سے شادی کی، تین راتیں اس کے پاس رہا۔ تیسری رات قطام نے اسے کہا: "تم نے اپنی بیوی اور گھر سے کیا دل لگا لیا ہے اور جس مقصد کے لئے آئے ہو، اسے کیوں انجام نہیں دیتے ہو؟" اس نے جواب دیا: "میں نے اپنے دوستوں سے قول و قرار کیا ہوا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔"[11] ان تضادات سے مجموعی طور پر اس داستان کے من گھڑت ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ ظاہری طور پر قطام کی کہانی گھڑی گئی ہے اور اسے ان تین افراد کے ساتھ چپکایا گیا ہے، تاکہ وہ ذہنوں میں زیادہ رچ بس جائے۔

اس تبصرے کے بعد ڈاکٹر جعفر شہیدی لکھتے ہیں: ’’ان تفصیلات کو میں نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ ایک طرف تو میں یہ ثابت کروں کہ جیسا کہ لکھا گیا ہے، سراسر بے بنیاد ہے اور دوسری طرف یہ ظاہر کروں کہ اگلوں نے صرف کہانی کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے، اس کا تجزیہ و تحلیل نہیں کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک قصہ جو تیرہ صدیوں سے پڑھنے اور سننے والوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہے، وہ اس اور اس طرح کی دیگر تحریروں سے محو نہیں ہوگا۔ میرا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ لوگ ان نظریات کو چھوڑ دیں اور میری تحقیق پر عقیدہ رکھیں، میرا کہنا یہ ہے کہ اب تاریخ نویسی نے ایک نیا طرز اور اسلوب اختیار کیا ہے۔ بہتر ہے کہ نہ صرف اس قصے میں بلکہ مصنفین کی تمام باتوں کو نئے زاویئے سے چھانا اور پرکھا جائے۔ جس ماہ مبارک میں حضرت علیؑ منصب شہادت پر فائز ہوئے، اس میں اپنی افطاریوں کو تقسیم کیا ہوا تھا۔ ایک رات اپنے بیٹے حسنؑ، ایک رات اپنے فرزند حسینؑ اور ایک رات عبداللہ بن جعفر کے ہاں روزہ افطار فرماتے تھے اور دو یا تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے۔ پوچھا گیا کہ آپؑ اتنا کم کھانے پر کیوں اکتفا کرتے ہیں تو آپؑ نے فرمایا: "قضائے الٰہی کے آنے میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے، چاہتا ہوں خالی پیٹ رہوں۔"[12]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات

[1]۔ شہیدی، سید جعفر، علی از زبان علی (دفتر نشر فرھنگ اسلامی، تہران ۱۳۷۶ ش) ص۱۵۸۔۱۵۹
[2]۔ ابن ابی الدنیا (متوفیٰ 281 ہجری)، مقتل الامام امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب، ص: 36
[3]۔  "فضح الصبح فلاناً" صبح نے اسے آشکار کر دیا۔
[4]۔ بلا ذری انساب الاشراف ،ص: 493
[5]۔ مقتل الامیرالمؤمنین، ص: 37، طبقات ابن سعد، ج: 3، ص:37
[6]۔ شہیدی، سید جعفر، علی از زبان علی (دفتر نشر فرھنگ اسلامی، تہران ۱۳۷۶ ش) ص۱۶۰۔۱۶۱
[7]۔ الملل و النحل، ج:1، ص: 170
[8]۔ تاریخ ابن اعثم، ج:4، ص: 133۔136
[9]۔ تاریخ ابن اعثم، ج:4، ص: 139
[10]۔ ترجمہ الفتوح، ص: 751
[11]۔ انساب الاشراف، ص: 488
[12]۔ کنز العمال از جعفر بن ابی طالب، ج:13، ص: 190
خبر کا کوڈ : 861837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش