?>?> فلسطین کا یوم نکبہ، 1948ء کا کورونا وائرس - اسلام ٹائمز
1
Tuesday 12 May 2020 17:03

فلسطین کا یوم نکبہ، 1948ء کا کورونا وائرس

فلسطین کا یوم نکبہ، 1948ء کا کورونا وائرس
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاونڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی


فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کی تاریخ 15 مئی 1948ء ہے۔ یہ وہ سیاہ ترین دن ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام کی مقدس سرزمین پر دنیا بھر سے لا کر بسائے جانے والے صہیونیوں نے عالمی استعماری قوتوں برطانیہ اور امریکہ کی پشت پناہی میں اپنا ناجائز اور غاصبانہ تسلط قائم کر لیا اور سرزمین فلسطین پر اسرائیل نامی ریاست کا وجود عمل میں لایا گیا۔ اس دن فلسطینی عربوں کو قیامت سے گزرنا پڑا۔ ایک طرف براہ راست صہیونی دہشت گرد تنطیموں نے فلسطینی عربوں کا قتل عام کیا، عزتوں کو تاراج کیا، فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کیا تو ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو فلسطین سے باہر بھی دھکیل پھینکا اور ایک ہی دن میں آٹھ لاکھ سے زیادہ مظلوم فلسطینی عرب اپنے ہی وطن اور گھر سے محروم کر دیئے گئے اور پڑوس میں موجود ریاستوں من جملہ لبنان، شام، اردن اور مصر میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس دن کی تباہی اور بربادی کو فلسطین کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ آج دنیا کی مہذب تاریخ میں ’’یوم نکبہ‘‘ یعنی تباہی و بربادی کا بہت بڑا دن کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ دن پوری دنیا میں فلسطین کے باشندوں اور فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع میں یوم نکبہ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلسطینی عوام یوم نکبہ کو ایک بہت بڑی تباہی اور قیامت کے دن سے تشبیہ دیتے ہیں، یقیناً یہ دن قیامت سے کم نہیں تھا کہ جب دوسری جگہ سے آئے ہوئے صہیونیوں نے فلسطین پر قبضہ کیا اور فلسطین کے اصل باشندوں یعنی فلسطینی عربوں کو اس سرزمین سے دھکیل پھینکا۔ یوم نکبہ 15 مئی کو منایا جاتا ہے اور اس دن فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی پر احتجاج کیا جاتا ہے۔ جہاں یہ دن تاریخ میں فلسطینیوں کی اپنی سرزمین سے بے دخلی کا دن ہے، وہاں موجودہ دور میں یہ دن اب فلسطینیوں کیلئے ان کے وطن واپسی کی تحریک کا ایک یادگار دن بن چکا ہے۔ یعنی فلسطینیوں کا حق واپسی۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک ایک ایسی تحریک ہے کہ جس میں فلسطین کے عوام کا نعرہ ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت بشمول عالمی ادارے بھی فلسطینیوں کے حق واپسی کو نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔

موجودہ حالات کہ جس میں دنیا کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کا شکار ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اس عالمی وباء کے مقابلہ میں بے بس نظر آرہے ہیں، ایسے حالات میں نوجوان نسل کے سامنے یہ حقائق ضرور بیان کئے جانے چاہئیں کہ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین پر 1948ء میں ایک ایسے کورونا نے حملہ کیا ہے کہ جس کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ اسرائیل 1948ء کا ایک ایسا کورونا وائرس ہے کہ جس نے گذشتہ 73 برس میں فلسطینیوں پر بے پناہ مظالم کی داستانیں رقم کر دی ہیں۔ آج اس 1948ء کے اسرائیل نامی کورونا وائرس کے باعث ہزاروں فلسطینی قید و بند میں ہیں، لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں، اپنی زمینوں اور اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں، غزہ کی پٹی مسلسل 13 برس سے اس اسرائیلی کورونا کے باعث لاک ڈائون کا شکار ہے، جہاں بیس لاکھ سے زائد انسانی جانیں موت کی آغوش کے قریب جا پہنچی ہیں۔

یہ وہ مختصر حالات ہیں کہ جن کو یہاں پر بیان کیا گیا ہے اور اگر فلسطین پر مسلط ہونے والے 1948ء کے کورونا وائرس اسرائیل کی ستم ظریفی اور ظلم کی داستانیں تحریر کی جائیں تو کئی سالوں کی محنت درکار ہوگی۔ بہرحال ان حالات کو یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حالیہ حالات میں جہاں دنیا ایک کورونا وائرس 2019ء کا مقابلہ کر رہی ہے، وہاں اس دنیا کو اس سوچ کی طرف متوجہ کروانا ہے کہ اگر دنیا کی غیور قوموں اور ان کی حکومتوں نے 1948ء میں دنیا میں وجود پانے والے کورونا وائرس یعنی اسرائیل کی روک تھام کی ہوتی تو شاید آج فلسطین میں خون کی ندیاں نہ بہائی جا رہی ہوتیں۔ لہذاٰ یہ بات کہنا بے جا نہیں ہے کہ موجودہ کورونا وائرس ہو یا 1948ء میں دنیا پر لگنے والا اسرائیل نامی کورونا وائرس، دونوں ہی دنیائے انسانیت کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔

سنہ48ء کا یہ کورونا وائرس مسلسل نت نئے انداز سے دنیا میں ظلم اور بربریت کی داستان رقم کر رہا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے سے لے کر دوسرے ممالک میں قتل و غارت کرنے جیسے اقدامات اسرائیل کے لئے عام نوعیت کی بات تصور ہوتی ہے۔ یہ اسرائیل نامی کورونا وائرس دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے من پسند افراد کو مالی مراعات سے نواز کر انارکی پیدا کرتا ہے تو ساتھ ساتھ دہشت گردی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ کشمیر کی بات کریں تو یہاں بھارتی جارحیت کو نت نئے انداز سے کشمیریوں پر جارحیت جاری رکھنے کے حربے سکھانے والا یہ جرثومہ اسرائیل ہے۔ آج فلسطین میں ہونے والے مظالم اور مقبوضۃ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو دیکھ کر واضح طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلحہ سے لے کر قتل و غارت اور ظلم کے طریقوں میں ایک سو فیصد مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ اسرائیل کورونا وائرس نہ صرف فلسطین پر قبضہ جمائے ہوئے ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔

پاکستان میں بھی چند ایک ایسے ناعاقبت اندیش افراد موجود ہیں کہ جو اس سنہ48ء کے کورونا وائرس کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں اور زر غلامی میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ بانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات اور افکار کو بھی روند ڈالا ہے، نظریہ پاکستان کی کھلم کھلا دھجیاں اڑاتے ہیں۔ آج جب کسی کو علم ہوتا ہے کہ اسرائیل نواز لوگ پاکستان کی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ چکے ہیں تو وہ حیرت سے منہ کھولے ہی رہ جاتا ہے۔ جب کوئی ایسا شخص کہ جس نے ماضی میں پاکستان کے دفاعی اداروں اور مسلح افواج میں خدمات انجام دی ہوتی ہیں اور پھر وہ نکل کر سامنے آتا ہے اور اسرائیل کی حمایت میں نت نئے انداز اپنا کر اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جس کا مقصد پاکستان کو بھی اس سنہ 48ء کے اسرائیل نامی کورونا وائرس کا شکار کرنا ہوتا ہے، یقیناً سنگین صورتحال ہے۔

موجودہ حالات میں کہ جب فلسطین سمیت دنیا بھر کو عالمی وباء کا سامنا ہے، وہاں فلسطین کو اس وباء کے ساتھ ساتھ سنہ48ء میں لگنے والی خطرناک صہیونی کورونا وائرس وباء کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کو ناپید کرنے اور فلسطین پر صہیونیوں کی غاصب ریاست اسرائیل کی مکمل اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش جاری ہے اور اس عنوان سے امریکی صدر نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت پہلے امریکہ نے امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے نکال کر یروشلم یعنی القدس شہر میں منتقل کیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا کہ القدس شہر غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت ہے، تاہم دنیا کے بیشتر ممالک نے امریکی فیصلہ اور اس اعلان کو یکسر مسترد کر دیا اور ثابت کیا کہ تاریخی و ثقافتی ہر اعتبار سے القدس شہر فلسطین کا ابدی دارالحکومت تھا اور ہے۔ لہذا امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ فلسطین سے متعلق قدس کے علاقہ کی شناخت کو اسرائیل کی حمایت میں تبدیل کر دیں اور پوری دنیا خاموشی سے اس فیصلہ کو مان لے۔

ان تمام حوادث کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ کے تحت فلسطینیوں پر دباو جاری ہے کہ وہ فلسطین کا سودا کر دیں، لیکن فلسطین کے تمام سیاسی و مذہبی عناصر نے متحدہ اور مشترکہ فیصلہ سناتے ہوئے امریکی صدر کی جانب سے پیش کی جانے والی صدی کی ڈیل کو مسترد کر دیا ہے اور اسیے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک وائرس یہ عرب حکمران بھی ہیں کہ جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور فلسطین کی شناخت کو مسخ کرنے کے ناپاک منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال حال ہی میں عرب ممالک میں ایک ایسا ڈرامہ سیریل نشر کیا جارہا ہے، جس میں نہ صرف فلسطین کی تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے بلکہ ڈرامہ کے مکالمہ میں غاصب اسرائیل کی حمایت اور اسرائیل کو قانونی جواز بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس ڈرامہ کے مکالمہ میں فلسطین کی سرزمین کو صہیونیوں کی سرزمین قرار دیا گیا ہے اور حتیٰ مکالمہ میں فلسطینیوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر بھی چشم کشائی کے ساتھ ساتھ صہیونیوں کے ظلم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین کے عوام پر 1948ء کے بعد سے ہر دن ہی نکبہ بن کر گزر رہا ہے اور فلسطین کو جہاں دنیا کے دیگر مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے، وہاں سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر باہر سے آکر بس جانے والے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل یعنی 1948ء کے کورونا وائرس کے مسلط ہونے کا مسئلہ ہے، جس سے آج بھی فلسطینی عرب نبرد آزما ہیں اور یہ فلسطینیوں کی مزاحمت ہی ہے کہ جس نے آج تک فلسطین کے مسئلہ کو حرارت اور دوام بخشا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے غیور انسانوں کے دلوں میں ایک انگیزہ پیدا کر رکھا ہے۔ اسرائیل اور حالیہ کورونا وائرس پوری دنیائے انسانیت کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 862314
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش