1
Thursday 14 May 2020 17:03

امام علیؑ کی کردار کُشی اور میڈیا

امام علیؑ کی کردار کُشی اور میڈیا
تحریر: رضوان نقوی

 امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں۔ آپ کے بارے میں بہت زیادہ فضائل بیان ہوئے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ذوالعشیرہ میں آپ کو اپنا وصی و جانشین معین فرمایا۔ شب ہجرت جب قریش، رسول خدا کو قتل کرنا چاہتے تھے تو آپ رسول اللہ کے بستر پر سو گئے، اس طرح حضورؐ نے مخفیانہ طریقہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ اس ایثار اور جانثاری کی بدولت قرآن مجید میں آپ کی شان میں آیت کریمہ بھی نازل ہوئی۔(سورہ بقرہ، 207) مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی تقریباً 300 آیات مبارکہ آپ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہیں۔ مدینے میں جب مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قائم ہوا تو رسول خدا نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ علماء کے مطابق، امام علی بہت سے علوم کے مبتکر اور سرچشمہ ہیں۔ ساتویں صدی ہجری کے اہل سنت عالم دین ابن ابی الحدید کا ماننا ہے کہ امام علی تمام فضائل کی بنیاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فرقہ اور گروہ خود کو آپ سے منتسب کرتا ہے۔ تقریباً اکثر تصوف اسلامی اپنے سلسلہ کو امیر المومنین سے منسوب کرتے ہیں۔

خلیفہ چہارم کا دور حکومت اسلامی تاریخ کا اہم ترین اور درخشاں ترین دور تھا؛ جس میں آپ نے عدل و عدالت کی بنیاد پر اسلامی حکومت کو قائم کیا۔ آپ عدل و انصاف میں بہت شدید تھے۔ بعض مورخین اور مصنفین نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ اپنی شدت عدالت کی وجہ سے ہی شہید کئے گئے ہیں۔ امام علی نے خلفائے ثلاثہ کے 25 سالہ دور خلافت میں سیاسی اختلافات کے باوجود تربیتی، علمی اور سماجی امور میں امت کی خدمت جاری رکھی۔ جیسے جمع آوری قرآن کریم، جو مصحف امام علی کے نام سے مشہور ہے، مختلف امور میں خلفاء کو مشورہ دینا، جیسے قضاوت، انفاق، غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا، زراعت و شجرکاری، کنویں کھودنا، مساجد تعمیر کرنا و اماکن و املاک وقف کرنا، جن کی سالانہ آمدنی چالیس ہزار دینار تک ذکر ہوئی ہے۔ اسی طرح سے خلفاء آپ سے قضاوت جیسے مختلف حکومتی امور کے بارے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔

آپ نے خلیفہ سوم کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قبول کیا۔ آپ اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو بطور خاص اہمیت دیتے تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ عرب و عجم، ہر مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی خاندان یا قبیلے سے ہو، بیت المال میں سب کا حصہ برابر ہوگا۔ امام علی دینی امور، قانون کے دقیق اجرا اور صحیح طریقے سے حکومت چلانے کے معاملے میں بیحد سنجیدہ تھے۔ یہی سبب تھا، جس نے آپ کو بعض افراد کے لئے ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ آپ اس راہ میں حتی اپنے نزدیک ترین افراد کے ساتھ بھی سختی سے پیش آتے تھے۔ امام علی کے مطابق حاکم کا حق اپنی رعیت پر اور رعیت کا حق اپنے حاکم پر، بزرگ ترین حقوق میں سے ہے، جسے پروردگار نے قرار دیا ہے اور یہ کاملاً دو طرفہ ہے۔ دونوں طرف سے حقوق کی رعایت بیحد ثمرات کی حامل ہے۔

جس وقت حضرت نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر منصوب کیا تو انہیں تمام لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مہربانی، خوش اخلاقی اور انسانی سلوک سے پیش آنے کی نصیحت فرمائی۔ حضرت امیر کو اپنی مختصر حکومت کے عرصے میں تین سنگین داخلی جنگوں یعنی جمل، صفین اور نہروان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان جنگوں کو رونما کرنے میں بنیادی کردار شام کی حکومت پر قابض معاویہ کا تھا۔ معاویہ نے امیرالمومنین کی حکومت کو گرانے اور آپ کی شخصیت کو مسخ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ آپ کے خلاف ہر قسم کا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اس زمانے کے ذرائع ابلاغ میں خطباء، منبر، نماز جمعہ کے خطبات، حکومتی نمائندے اور راوی حدیث شامل ہیں۔ جن کے ذریعہ سے حکومتیں اپنے مقاصد حاصل کرتی تھیں۔ شامی حکومتی مشینری نے اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دو بہت ہی خطرناک کام انجام دیئے۔ ایک خطیبوں کے ذریعے منبروں سے امیرالمومنین کو لعن کرنا اور دوسرا راویان حدیث کے ذریعہ سے بنی امیہ کی فضیلت میں جعلی حدیثیں گھڑنا تھا۔

حضرت علی علیہ السلام پر لعن طعن کی ابتدا معاویہ بن ابی سفیان کے حکم سے ہوئی۔ اس حکم کے تحت علی بن ابی طالب اور ان کے خاندان کو اموی حکومت کی تمام مساجد میں جمعہ کے خطبات میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جب معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو گورنر بنایا تو سعد کو حکم دیا اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے کہ تم ابو تراب یعنی علی ابن ابی طالب پر لعن نہ کرو۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں؛ جس کے بعد میں کبھی علی پر لعن نہیں کرسکتا۔ سعد بن ابی وقاصؓ نے مندرجہ ذیل تین وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے حکم ماننے سے انکار کر دیا:
قرآن کے مطابق حضرت علی اہل بیت میں سے ہیں۔ پیغمبر اسلام کے مطابق علی کا تعلق ان سے ایسا ہی ہے جیسے ہارون کا تعلق موسیٰ سے تھا۔ پیغمبر اسلام نے جنگ خيبر کا پرچم علی بن ابی طالب ہی کو عطا کیا تھا اور اللہ نے ان کو فتح سے نوازا۔

سعد بن ابی وقاصؓ نے معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا کہ اگر تم میری گردن پر آرہ بھی چلا دو تو تب بھی میں کبھی علی پر لعن نہیں کروں گا۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 424) تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجر عسقلانی، طبقات الکبریٰ میں ابن سعد اور تاریخ طبری میں ابن جریر طبری لکھتے ہیں: "حجاج ابن یوسف نے محمد بن قاسم کو لکھا کہ حضرت عطیہ بن سعد عوفی کو طلب کرکے ان سے حضرت علی پر سب و شتم کرنے کا مطالبہ کرے اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو چار سو کوڑے لگا کر داڑھی مونڈ دے۔ محمد بن قاسم نے انکو بلایا اور مطالبہ کیا کہ حضرت علی پر سب و شتم کریں۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو محمد بن قاسم نے ان کی داڑھی منڈوا کر چار سو کوڑے لگوائے۔ اس واقعے کے بعد وہ خراسان چلے گئے۔ جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے، تب اس نے حضرت علی پر لعن طعن کی روایت کو سرکاری طور پر ختم کیا۔

حضرت علی المرتضیٰ نے اپنے اصحاب کو جنگ صفین میں معاویہ کو لعن کرنے اور برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور اس عمل کی تردید کی۔ علی بن ابی طالب کی فوج میں حجر بن عدی اور عمرو بن حمق نے مُعاویہ اور اہل شام پر لعنت کی، مولا علی نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم حق پر نہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہم حق پر ہیں، لیکن میں تمہارے لعن و تشنیع کرنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
(الاخبار الطوال، صفحہ 165) نہج البلاغہ میں آیا ہے کہ امام علی نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے ساتھیوں میں سے چند لوگوں کو سنا کہ وہ شامیوں پر لعن طعن کر رہے ہیں تو آپ نے ان کو اس کام سے منع فرمایا۔ (نہج البلاغہ، خطبہ، 206) معاویہ وہ پہلا شخص تھا، جس کے دور حکومت میں جعل حدیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو افراد اہل بیت کی مذمت میں احادیث جعل کرتے تھے، معاویہ سرکاری طور پر ان کی کی پشت پناہی کرتا اور ان کو مال و اکرام سے نوازتا تھا۔(ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 63)

معاویہ کی مدح میں اس قدر احادیث جعل ہوئیں کہ ابن تیمیہ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے۔ ابن تیمیہ نے حدیث طیر کے رد میں لکھا ہے: معاویہ کے فضائل میں بہت زیادہ احادیث جعل کی گئیں اور مستقل کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ حدیث کے اہل دانش افراد اسے درست اور صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔(ابن تیمیہ منہاج السنہ النبویہ، ج 7، ص 371) اہل سنت کے معروف مصنف ابن ابی الحدید نے اپنے استاد ابو جعفر اسکافی سے نقل کیا ہے کہ معاویہ نے صحابہ اور تابعین کے ایک گروہ کو جعل احادیث کے لئے مامور کیا؛ تاکہ وہ ایسی من گھڑت احادیث کو بیان کریں کہ جس کے باعث مسلمان حضرت علی سے نفرت کرنے لگیں۔ معاویہ ان خدمات کے عوض ان کو قیمتی تحائف اور انعامات کا لالچ دیا کرتا تھا۔ لہذا صحابہ میں سے ابوہریرہ، عمرو ابن عاص، مغیرہ ابن شعبہ اور تابعین میں سے عروہ ابن زبیر نے اتنی زیادہ احادیث کو جعل کیا کہ معاویہ ان سے بہت خوش تھا۔(شرح نہج البلاغہ، ج 4، ص 73)

معاویہ نے اپنے زمانے کے میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے امیرالمومنین اور اہل بیت علیہم السلام پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے۔ آپ کی فضیلتوں کا انکار کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے چاہنے والوں میں سے کوئی آپ پر لعن نہ کرتا تو اسے شہید کر دیا جاتا۔ معاویہ نے کئی بزرگ صحابہ اکرام کو اسی لئے شہید کروا دیا کہ انہوں نے حضرت علی پر لعن نہ کی، ان میں حجر ابن عدی بھی شامل ہیں، جن کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ آج بھی اگر ہم میڈیا کے کردار کو دیکھیں کہ کس طرح ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا دیا جاتا ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کس طرح نان ایشوز کو ایشوز بنا دیا جاتا ہے اور ایشوز پر بات ہی نہیں کی جاتی۔ آج بھی استعماری اور طاغوتی طاقتیں انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اسلام فوبیا اور مسلمانوں کو دست و گریبان کرتی ہیں، تاکہ اس ذریعہ سے دنیا پر اپنی حکومت قائم رکھیں۔

میڈیا اور اس کی پروپیگنڈہ مشینری نے کئی اسلامی ممالک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اس میں یقیناً ہماری سادہ لوحی اور جہالت بھی شامل ہے۔ آپ شام کی مثال لے لیں، کس طرح تباہی پھیلائی گئی اور ایک اسلامی ملک کو برباد کر دیا گیا۔ اسی طر ح انٹرنیشنل پروپیگنڈہ مشینری ایران کے خلاف زہر اگلتی ہے، جسے عام لوگ قبول بھی کر لیتے ہیں۔ آج یمن کی صورت حال کو ہی دیکھ لیں، کس طرح اس کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ آپ کشمیر اور فلسطین کی مثال لے لیں، میڈیا حقیقت کو یا تو بالکل بیان نہیں کرتا یا سچ اور جھوٹ کو اس طرح مخلوط کرکے بیان کرتا ہے کہ اکثریت کنفیوز ہو جاتی ہے اور حقیقت تک نہیں پہنچ پاتی۔ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ زمانے کے ولی خدا اور امام کو مسجد میں شہید کر دیا جاتا ہے اور ایک شامی مسلمان دوسرے سے سوال کرتا ہے کہ علی کا مسجد سے کیا تعلق تھا؟ کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟ تاریخ اور تحقیق سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ بلاشبہ مولا علیؑ کی مظلومیت اور لوگوں کے گمراہ کرنے میں اموی و شامی میڈیا کا کلیدی کردار تھا۔
خبر کا کوڈ : 862742
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش