1
Wednesday 20 May 2020 22:23

اتحاد اور عقل سے جنگ

اتحاد اور عقل سے جنگ
تحریر: نذر حافی

ناسمجھی کی انتہا ہے، عقل کے ساتھ دشمنی آسمان کو چھو رہی ہے، اتحاد کے نام پر اہانت کا سلسلہ جاری ہے، محبت کے نام پر نفرت کا کاروبار ہو رہا ہے، کچھ تو سمجھ نہیں رہے اور کچھ جان بوجھ کر اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ بعض لوگوں کو بہت شوق ہے کہ کسی نہ کسی بہانے فرقہ واریت کے شعلے بڑھکتے رہیں اور ان کا کاروبار چمکتا رہے۔ دینِ اسلام میں دو بنیادی مقدس طبقات ہیں، اہلبیتؑ اور صحابہ کرام ؓ، انہی دو طبقات کی بنیاد پر مسلمانوں کی شناخت بھی قائم ہے۔ صحابہ کرامؓ سے روایات اہلِ تشیع اور اہلِ سنت دونوں لیتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اہلِ تشیع رسولﷺ کے بعد رسول کی اتباع، سنت اور سیرت کا منبع رسولﷺ کے اہلبیتؑ کو سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ تشیع کے ہاں قرآن مجید کی تفاسیر، عقائد اور احکام کے بارے میں وہی کچھ ملے گا، جو نبی پاک ﷺ کے بعد امام علیؑ، حضرت فاطمہ زہراؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ  اور اُن کے جانشین اماموں سے ملے گا۔

جبکہ اہلِ سنت کے ہاں وہی کچھ معتبر ہے، جو صحابہ کرام ؓسے ملتا ہے، وہ اگر اہلِ بیت سے بھی کچھ نقل کرتے ہیں تو تبرک کے طور پر ہی ہوتا ہے۔ اہلِ سُنت کی روایات، تفاسیر اور عقائد و احکام کا انحصار صحابہ کرام ؓ کے فرمودات پر ہے۔ یہ فرق اور تفریق صدرِ اسلام سے مسلمانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس میں قطعاً کوئی جھگڑے کی بات نہیں ہے، یہ تحقیق کا مسئلہ ہے، جو آدمی اپنی تحقیق کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ رسولﷺ کے بعد اُن کے اہلِ بیتؑ سے خالص اسلام ملے گا، وہ رسول کے اہل بیتؑ سے متمسک ہو جاتا ہے اور جو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ رسولﷺ کے بعد رسول ﷺ کے صحابہ ؓ سے حقیقی اسلام ملے گا تو وہ صحابہ کرام کا دامن تھام لیتا ہے۔

یہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ تحقیق، اطمینان اور کشفِ حقیقت کی بات ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر شیعہ شانِ اہلبیتؑ میں اور اہل سنت شانِ صحابہ ؓ میں غلو کریں گے تو پھر بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا، مبالغہ اور غلو صرف کسی کو خدا کا شریک کہہ دینا ہی نہیں ہے، بلکہ اپنی پسندیدہ شخصیات یا نظریئے کو خلافِ عقل و منطق جھوٹ اور سچ ملا ملا کر بڑھاتے جانا بھی مبالغہ اور غلو ہے۔ اسی طرح اگر اہلِ تشیع یہ کہیں کہ دنیا میں صرف وہی مسلمان ہے، جو اہلبیتؑ کا پیروکار ہے۔ باقی سب نعوذ باللہ گمراہ، کافر، منافق اور مرتد ہیں تو یہ سراسر مبالغہ اور غلو ہے۔ چونکہ اہلِ تشیع کے کسی امام ؑ نے ایسا نہیں کیا، اسی طرح  نعوذ باللہ کسی بدکردار شخص کو اہلِ بیتؑ میں شامل قرار دینا، اُسے نمونہ عمل اور مقدس کہنا یہ بھی گمراہی، غلو اور مبالغہ ہے۔

دوسری طرف اگر اہل سنت یہ کہیں کہ ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، وہ صحابی ہے، تو یہ بھی مبالغہ اور غلو ہے، چونکہ نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو کفار نے بھی ہے، اب اگر کوئی یہ کہے کہ جس نے کلمہ پڑھا اور نبی پاک کو دیکھا تو وہ صحابی ہے تو یہ بھی مبالغہ ہے، چونکہ قرآن مجید میں منافقین کا بھی متعدد مرتبہ ذکر آیا ہے اور مکمل سورہ منافقون بھی نازل ہوئی ہے، منافقین کلمہ بھی پڑھتے تھے اور بار بار نبی پاک ﷺ کو بھی دیکھتے تھے۔ پس تقویٰ اور حُسنِ کردار جس طرح اہلِ بیتؑ کیلئے ضروری ہے، اُسی طرح صحابہ کرامؓ کیلئے بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص حضرت امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو صرف اس لئے امام مانتا ہے کہ وہ رسولﷺ کے نواسے تھے، تو یہ اسلامی تعلیمات نہیں ہیں، رسولﷺ کا نواسہ ہونا یہ امام حسن ؑو حسینؑ کی  شناخت ہے، لیکن اُن کا امام ہونا اُن کے علم، تقوے، حُسنِ اخلاق اور کردار کی وجہ سے ہے۔

بالکل ایسے ہی جیسے نبی اکرمﷺ اپنے ہاشمی و قریشی ہونے کی وجہ سے نبیؐ نہیں تھے، بلکہ ہاشمی و قریشی ہونا تو آپ کی شناخت تھی، آپ کی نبوت کی دلیل آپ کی صداقت اور امانت یعنی آپ کا کردار ہے۔ آپ نے اپنی دعوت تبلیغ میں کبھی یہ نہیں کہا کہ مجھ پر ایمان لاو، چونکہ میں آلِ ابراہیم ؑ اور ہاشمی و قریشی ہوں، بلکہ آپ نے  اپنے کردار کو پیش کیا اور کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر حملہ کرنے والا ہے تو کیا مان جاو گئے!؟ سب نے پیغمبرؐ کے کردار کی وجہ سے کہا کہ آپ صادق اور امین ہیں، اگر آپ کہیں گے تو ہم ایمان لائیں گے۔۔۔ اسی صادق اور امین پیغمبرؐ نے جب یہ کہا کہ میرے بعد میرے بارہ جانشین ہونگے اور وہ سب کے سب قریش میں سے ہونگے، تو قریش میں سے ہونا اُن آئمہ ؑ کا معیار نہیں ہے بلکہ قریشی ہونا اور آلِ رسولﷺ سے ہونا اُن کی شناخت ہے، معیار وہی علم، تقویٰ اور کردار ہے۔

پس اگر کوئی امام علیؑ، حضرت فاطمہ ؑ اور امام حسن و حسینؑ اور ان کی نسل سے دیگر نو اماموں کو صرف آلِ رسولﷺ اور قریشی ہونے کی وجہ قبول کرتا ہے تو اس کی معلومات ناقص اور اس کا ایمان مطلوب نہیں ہے۔ ایمانِ مطلوب یہ ہے کہ امام آل رسولﷺ میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا بڑا عالم، باکردار اور متقی بھی ہو کہ اُس کے دشمن بھی یہ گواہی دیں کہ یہ اعلم، صادق اور امین بھی ہے۔ متقی اور باکردار ہونے کی شرط جس طرح اہل بیتؑ کیلئے ضروری ہے، اُسی طرح صحابہ کرام کیلئے بھی ضروری ہے، اگر کوئی اس سلسلے میں کسی بھی طرف سے غلو اور مبالغہ کرے گا تو اس سے یقیناً بدکردار اور بُرے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ جب ہم بدکردار لوگوں کو بھی مقدس لوگوں میں شام کر دیں گے تو پھر جھگڑے ہونگے، فساد ہوگا اور مسائل بنیں گے۔ مثلاً جب دو آدمی لڑیں، ایک جارح اور باغی ہو جبکہ دوسرا باکردار، متقی اور خدا و رسول کا مطیع ہو اور ہم لوگ اِن دونوں کو ایک جیسا کہیں اور جو صحیح ہے، اُس کا ساتھ نہ دیں اور جو غلط ہے، اُسے غلط کہہ کر روکیں نہیں تو معاشرہ ایک دن بھی قائم نہیں رہ سکتا۔

جب صحیح اور غلط کو مخلوط کر دیا جائے اور عدالتیں سب کو ایک جیسا کہہ کر چھوڑ دیں تو پھر  ایک دن بھی  نظام نہیں چل سکتا، آیئے سوچئے کہ اس طرح حق و باطل کو ملا کر ہم قیامت تک جہانِ اسلام کو کیسے چلا سکتے ہیں!؟؟؟ خود قرآن مجید کے نزول کا ایک اہم فلسفہ یہی ہے کہ وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ۔۔۔۔۔ حق کو باطل کے ساتھ مخلوط نہ کرو۔۔۔ اس موضوع پر قرآن مجید نے متعدد آیات میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ کی ساری حیات مقدسہ تو حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں صرف ہوگئی ہے۔ وہ مشہور واقعہ کہ ایک عورت کو چوری کے جرم میں نبی پاکؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا، جب نبیؐ نے سزا سنائی تو سفارشیں کی جانے لگیں، اس پر نبیؐ نے فرمایا اگر میری بیٹی بھی جرم کرتی تو اُسے سزا دیتا، لمحہ فکریہ ہے کہ جو نبیﷺ اپنی بیٹی کو غلط کام کرنے پر سزا دیتا ہے تو کیا وہ اپنے اصحاب کو چھوڑ دے گا!؟

یہ شیعہ و سُنی کی بات نہیں بلکہ انسانی اقدار، فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کی بات ہے، آپ کسی غیر جانبدار اور غیر مسلم سے ہی پوچھ لیجئے، کسی کیمونسٹ، ہندو یا عیسائی سے ہی پوچھ لیجئے کہ کیا سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، قاتل اور مقتول، ظالم اور مظلوم، کھرا اور کھوٹا، برابر ہیں!؟ کیا غلط کو صحیح کے برابر قرار دینا اچھی بات ہے!؟ غیر مسلم بھی یہی کہے گا کہ نہیں ہرگز نہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ پس اگر کوئی بھی فرقہ مبالغہ اور غلو کرے گا تو پھر اتحاد نہیں ہوسکتا، پھر توہین ہوگی، اہانت ہوگی، فساد ہوگا، اختلاف ہوگا اور جھگڑے ہونگے، لہذا  قرآن و احادیث، عقل و منطق اور تاریخی حقائق کی روشنی میں جو جیسا ہے، اُس کو بغیر کسی غلو اور مبالغے کے ویسا ہی مان لیا جائے تو پھر وحدتِ اسلامی اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔ یاد رکھئے! تاریخ، سچائی، منطق اور حقیقت کے برعکس چلنا یہ عقل کے ساتھ دشمنی ہے اور عقل کے ساتھ جنگ کرکے ہم  منتشر تو ہوسکتے ہیں، متحد نہیں ہوسکتے۔
خبر کا کوڈ : 863921
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش