1
Thursday 21 May 2020 21:39

عالمی یوم القدس، ہم کہاں کھڑے ہیں

عالمی یوم القدس، ہم کہاں کھڑے ہیں
تحریر: محمد ثقلین واحدی
Msaqlain1412@Gmail.com

جب بھی قدس کے بارے میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہم بطور پاکستانی بیت المقدس سے اتنے بے خبر کیوں ہیں، کیوں ہم ان اقوام کے شانہ بشانہ نہیں کھڑے، جنہوں نے تحریک فلسطین کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب دنیا کے کسی حکمران کو دیکھتا ہوں جو یہ کہتا نظر آتا ہے کہ "ہم دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں" اور واقعاً مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے مقابل نظر بھی آتے ہیں تو افسردہ ہو کر سوچنے لگتا ہوں کہ اے کاش اتنا فخریہ نعرہ ہم بھی لگا سکتے، ہم بھی مظلوم کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ سکتے اور ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا مقابلہ کرسکتے۔ ہمارا وطن عزیز پاکستان جو درحقیقت مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا، ہمارے قائد بانی پاکستان کا یہ فرمان کہ "اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، اسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔" کیا ہمارے حکمران بانی پاکستان کے اس قول کو بھلا چکے ہیں کہ "یہ امتِ مسلمہ کے قلب میں ایک خنجر پیوست کیا گیا ہے۔"

سالہا سال سے غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر اسرائیلی یلغار جاری رہتی ہے، لیکن کبھی ہمارے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ قدس کے مخصوص دن کی مناسبت سے ہر سال رٹا رٹایا بیان جاری کر دیا جاتا ہے، ہم ریاستِ مدینہ سے نہیں، ریاستِ پاکستان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم دنیا بھر کی مظلوم اقوام خصوصاً فلسطینیوں کا ساتھ کیوں نہیں دے سکتے، کیا اس بارے میں ہمارے پاس کوئی واضح پالیسی ہے۔؟ جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے، اس سلسلے میں ہمیشہ کی طرح میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہمیں پاکستانی تاریخ میں کوئی ہیرو نہیں ملا اور اگر باہر سے ہی ہیروز ڈھونڈنے ہیں تو صرف ارطغرل ہی کیوں۔؟ کیوں حماس پہ ڈرامہ سیریل نہیں بنائے جا سکتے، کیوں اسماعیل ھنیہ ہمارا ہیرو نہیں ہوسکتا۔؟

غور طلب بات یہ ہے کہ 1948ء سے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے بعد سے آج تک امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، ٹرمپ کی اپنی بقاء اس ناجائز ریاست سے جڑی ہے، جس نے اپنی کامیابی کا صلہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرکے اور اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرکے دیا۔ امریکی پیروی میں اس کے حامی ممالک بھی بتدریج اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کر رہے ہیں، مگر مسلم ممالک اور خصوصاً ہم بطور پاکستانی کہاں کھڑے ہیں۔ ہمسایہ برادر اسلامی ملک ایران نے چند دن پہلے بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہمیں ایسا کرنے سے کونسی قوتیں روک رہی ہیں اور کیسی رکاوٹیں ہماری راہ میں حائل ہیں۔ بطور ایٹمی طاقت ہونے کے ہم میں اتنی جرات کیوں نہیں کہ ہم بھی ایسا اعلان کرسکیں اور ارضِ فلسطین میں اپنا سبز ہلالی پرچم لہرا سکیں۔

متاسفانہ آج ہماری قوم میں امریکی و اسرائیلی پشت پناہی کے ذریعے یہ بگاڑ پیدا کر دیا گیا ہے کہ قدس مسلم امہ کا نہیں بلکہ فلسطین اور اسرائیل کا داخلی معاملہ ہے، یا مثال کے طور پر پاکستان میں آپ کیوں قدس کے جلوس میں جا رہے ہیں، یہ تو فلاں فرقے سے مربوط ہے یا فلاں ملک کی خوشنودی کے لئے یہ جلوس نکالے رہے ہیں۔  اس جیسی ہزاروں غلط فہمیاں جو ہماری سادہ لوح پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں دشمن کی جانب سے ڈالی گئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں اس چیز کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسلم امہ اسوقت انتہائی نازک دور سے گذر رہی ہے۔ دشمن انتہائی ہوشیاری سے ہمارے اندر رخنہ اندازیوں میں مصروف ہے۔ شیعہ سنی کا نعرہ لگا کر ہمیں آپس میں لڑائے جانے کی کوششیں آج بھی عروج پر ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا فلسطین، کشمیر، یمن، شام ، عراق اور ان جیسے تمام شورش زدہ علاقوں میں آسمان سے میزائلوں کی صورت برستی آگ نے کبھی کسی سے پوچھا ہے کہ تم شیعہ ہو یا سنی، نہیں تو پھر ہم کیوں قدس سمیت مختلف معاملات کو کسی فرقے سے نتھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کب ہمارے وطن عزیز میں ایسا سورج طلوع ہوگا، جب ہم سرکاری طور پر اپنے سبز ہلالی پرچم کی چھاوں میں قبلہ اول کی آزادی کے لئے آواز بلند کرسکیں گے۔

یوم القدس حقیقت میں ان تمام اقوام عالم کا دن ہے، جو استکباری طاقتوں کے مظالم کا شکار ہیں اور خصوصاً مظلوم فلسطینی قوم جو 73 سالوں سے ظالم و جابر قوتوں کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے، شریف النفس مگر غیرتمند فلسطینیوں نے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے نہ صرف یہ کہ مسلح جدوجہد کی بلکہ پرامن مذاکرات بھی کئے، لیکن منحوس صیہونی ریاست کی فلسطینی علاقوں پر قبضے کی بھوک مٹنے کو نہیں آرہی۔ اب نیتن یاہو کھلے عام فلسطینی علاقوں پر قبضے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جو کہ جنیوا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہم بطور پاکستانی ایسے بیانات کو سنجیدہ لے سکتے ہیں یا خوابِ غفلت ہمارا مقدر ہے۔؟ خطے کی ایسی گھمبیر صورتحال میں ہماری عدم سیاسی بصیرت کیا گل کھلا سکتی ہے۔ شاید ہمیں اسکا اندازہ نہیں، ہمارا دشمن بھارت آئے روز اسرائیل سے  سفارتی و تجارتی تعلقات کو بڑھاوا دے رہا ہے، کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہے، آئے دن لائن آف کنٹرول پہ ہمارے جوانوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔ فلسطییوں کے لئے نہ سہی کشمیریوں کے لئے تو ہمیں ایک مضبوط پالیسی بنانی چاہِیئے، سوال مگر پھر بھی یہ ہے کہ پالیسی بنائے گا کون۔؟؟؟

آخر میں مَیں سلام پیش کرتا ہوں اپنی غیور پاکستانی ملت کو جنہوں نے وطن عزیز کی تاریخ میں آنے والے ہر ایسے حکمران کو جو اسرائیل کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا، واشگاف الفاظ میں مسترد کر دیا اور میں سمجھتا ہوں یہ عوامی  دباو کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمارا حکمراں طبقہ قائد اعظم محمد علی جناح (رہ) کے فرمان کے مطابق اسرائیل کو ناجائز ریاست سمجھتا ہے۔ دعاگو ہوں کہ رب العزت اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ان کی پاک آل اور ان کے اصحاب کرام کا صدقہ ناجائز اسرائیلی ریاست کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے اور فلسطین کے حقیقی وارثوں کو اپنی سرزمینِ مقدس پر امن کا دن دیکھنا نصیب ہو۔
خبر کا کوڈ : 864138
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش