0
Friday 22 May 2020 00:50

یوم القدس

یوم القدس
تحریر: بنت الہدیٰ

موجودہ فلسطین یعنی۔۔
اطراف میں بلند کی گئی دیواروں سے گھِرا ایک شہر نما قید خانہ۔۔۔!
ہم آزاد شہروں کے باسی بھلا کیا جانیں۔۔
کہ ایک شہر نما قید خانے کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔۔۔؟
ہم جانتے ہی نہیں۔۔
اور جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے بھلا۔۔۔
کہ ہمارے شہر تو آزاد ہیں۔۔۔
جن میں اپنے وطن کا پرچم لہرانے والوں کو اسی پرچم میں لپیٹ کر تدفین کے لیے گھر نہیں بھیجا جاتا۔۔
ہم نے آزادیوں کی ہمیشہ سے صرف داستانیں سُنی ہیں۔۔

شہر کی سڑکوں پر بےگناہ قتل ہوتے ہوئے لوگ نہیں دیکھے۔۔
ہم نے کبھی اپنے آباو اجداد کی سرزمین پر اجنبیت اور خوف محسوس نہیں کیا۔۔
ہم نے کبھی اپنے بچپن میں گلی محلے میں کھیلتے ہوئے غلیل سے دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کا نشانہ نہیں لیا۔۔
ہماری آنکھیں سلامت ہیں، انہیں آزادی کے خواب دیکھنے کے تاوان میں نکالا نہیں گیا۔۔
ہماری ماوں بہنوں کی عزتیں محفوظ ہیں۔۔
ہم نے کبھی اپنی حرمت کے محافظ بھائیوں کو بے بسی سے چینختے نہیں سنا ہے۔۔۔
ہم نے ماوں کی گودی میں سوئے ہوئے شیرخواروں کو سیاہ چوڑے بوٹوں کی ٹھوکر سے زخمی ہوتے دیکھا ہوتا تو شاید ہم بھی ان کے دُکھوں پر ذرا چینختے
ان کے حق اور آزادی کے لیے آواز بلند کرتے۔۔
ان کا ساتھ دیتے۔۔۔

غزہ کی پٹی کے نیچے دبی ہوئی فریادوں کو اپنی آواز دے کر دنیا کے ہر کونے میں پہنچاتے۔۔
مگر کس لیے کرتے ہم یہ سب
کہ ہم تو محفوظ ہیں۔۔!!
اپنے آزاد شہروں میں۔۔
مسجد اقصی کی بوسیدہ عمارت سے نکلتی زیتون کی شاخ لہو سے سرخ ہوتی رہے۔۔۔
ہمیں کیا۔۔۔۔۔؟
ہم تو آزاد ہیں۔۔!
#القدس_لنا #فلسطین #بیت_المقدس #اسرائیل_مردہ_باد
خبر کا کوڈ : 864142
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش