?>?> فلسطین کا پس منظر  - اسلام ٹائمز
0
Friday 22 May 2020 07:39

فلسطین کا پس منظر 

فلسطین کا پس منظر 
تحریر: علی عمران طور

1887ء میں یہودیوں کی ایک تنظیم بنام صیہونیزم (zionism) وجود میں آئی، جس کا رہنما آسٹریا سے تعلق رکھنے والا یہودی صحافی Theodor Herzl تھا۔ اس تنظیم کا نام بیت المقدس میں موجود پہاڑیوں کے نام پر رکھا گیا، جنہیں zion کہا جاتا ہے اور zionism کا مطلب یہی ہے کہ zion کی طرف واپسی۔ ان کا نعرہ یہ تھا کہ تمام یہودی اپنی آبائی زمین جسے وہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ قبل چھوڑ چکے تھے، وہاں واپس جائیں اور یہودی ریاست کا قیام کریں اور آہستہ آہستہ پوری زمین پر اپنی حکومت قائم کریں۔۔۔۔ اس وقت خلافت عثمانیہ کا دور تھا اور جس طرح بہت سارے مسلمان آباد علاقوں میں ان کی حکومت تھی، فلسطین بھی اسی کے ماتحت تھا، لیکن اس کا کنٹرول یہاں مضبوط نہ تھا، جس کی وجہ سے 1887 میں اس سرزمین میں یہودیوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔ اس تنظیم کے وجود میں آنے سے قبل اس خطے میں 20 ہزار یہودی آباد تھے، لیکن 1887 کے بعد یہودی یہاں آباد ہونا شروع ہوئے۔

جنگ عظیم اول میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا، لیکن جرمنی بری طرح سے شکست کھا گیا اور برطانیہ اس جنگ میں کامیاب ہوا اور یوں خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا اور اس سلطنت کے ماتحت علاقے تقسیم کر دیئے گئے۔ کچھ علاقوں پر فرانس اور کچھ پر برطانیہ نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا۔ برطانیہ کے ماتحت آنے والے ممالک میں فلسطین بھی شامل تھا۔۔۔ 1917ء میں برطانوی حکومت جو کہ فلسطین پر حاکم تھی، اس نے Balfour Declaration کے نام سے ایک اعلامیہ جاری کیا، جس کے مطابق انہوں نے یہودیوں کو اس سرزمین میں آباد کرنا تھا اور یوں وہ یہودی جو پہلے zionism تنظیم کی سوچ کے مخالف تھے، وہ بھی حامی ہوگئے اور دھڑا دھڑ فلسطین کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ ابتداء میں انہوں نے زمینیں خریدیں اور زمینوں کی قیمت بھی حد سے زیادہ دی اور فلاحی کام کا بھی دکھاوا کیا۔ اقتصاد اپنے قابو میں کی اور یوں اپنا اثر و رسوخ بنایا۔

جب ان کا نفوذ بڑھا تو انہوں نے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق دہشت گردانہ کارروائیاں شروع کر دیں، زمینوں پر قبضے شروع کر دیئے۔ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے لگے اور آہستہ آہستہ وہاں کے مقامی فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے لگے اور ان کی ان ظالمانہ کارروائیوں میں فلسطین میں موجود برطانوی حکومت کی مکمل حمایت انہیں حاصل تھی۔ 14 مئی 1948ء میں برطانیہ نے رسمی طور فلسطین سے نکلنے کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی یہ سرزمین کو zionists کے حوالے کر دی۔ اسی دن اسرائیل نے اپنے غاصبانہ وجود کا اعلان کیا۔ امریکہ نے چند گھنٹے کے بعد ہی اسے بطور ریاست قبول کیا، دوسرے نمبر پر ایران نے اسے قبول کیا، اس کے بعد آہستہ آہستہ امریکہ کے حواری ممالک اسے قبول کرتے گئے۔۔۔

عرب ممالک نے اس کو قبول نہ کیا، عربوں نے اسرائیل کے خلاف 3 جنگیں لڑیں۔ 1948ء میں ہی پہلی عرب و اسرائیل جنگ ہوئی، جس میں 5 ممالک مصر، اردن، شام، لبنان اور عراق شامل تھے۔ لیکن اس میں عرب ممالک کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا اور الٹا اپنے ہی کچھ علاقے اسرائیل کو کو دے بیٹھے۔ اب اسرائیل 78 فیصد علاقوں پر قابض ہوچکا تھا اور بقیہ 22 فیصد علاقہ فلسطینیوں کے ہاتھ میں تھا، جو دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک حصہ غزہ کا علاقہ و دوسرا مغربی کنارہ۔ یہ دونوں علاقے بھی جدا جدا تھے اور درمیان میں اسرائیل موجود تھا۔۔۔ دوسری جنگ 1967ء میں لڑی گئی، اس میں تین عرب ممالک مصر، اردن اور شام اسرائیل کے خلاف لڑے، مگر اس جنگ میں بھی عربوں نے شکست کا منہ دیکھا اور ساتھ اپنے علاقے بھی گنوائے۔ مصر نے صحرائے سینا، شام نے گولان کی پہاڑیاں اور اردن نے دریائے اردن کا مشرقی علاقہ۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل نے یروشلم پر بھی مکمل قبضہ جما لیا اور 5 لاکھ یہودی آباد کر دیئے، مسجد اقصیٰ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا، ساتھ غزہ کا علاقہ بھی ہتھیا لیا۔۔۔

تیسری جنگ 1973ء میں لڑی گئی، اس میں صرف مصر و شام نے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی، لیکن پھر سے ناکامی ہی دیکھنے میں آئی۔ عربوں نے جب بارہا اسرائیل سے شکست کھائی تو آخرکار ان کے حوصلے پست ہوگئے اور 1978ء میں پہلا عرب ملک جس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا، وہ مصر تھا، جس نے اس شرط پر کہ اسرائیل مصر کا صحرائے سینا واپس کر دے گا اور مصر فلسطین کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لے گا۔ اس وقت مصر کا حاکم انور سادات تھا، جس نے یہ معاہدہ کیا اور اس معاہدے کو "Camp David" معاہدے کا نام دیا گیا۔ اس کے ایک سال بعد اردن نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے اسے قبول کرلیا، شام نے بھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کئے، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے، کیونکہ اسرائیل کسی بھی صورت گولان کی پہاڑیاں شام کو واپس دینے کے لئے آمادہ نہ ہوا۔

فلسطینی عوام جو ان عرب حکمرانوں سے آس لگائے بیٹھی تھی کہ یہ ہمیں ہمارا کھویا ہوا حق واپس دلائیں گے، ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا، جب ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اسرائیل کو قبول کر لیا اور فلسطینی عوام کی حمایت سے دستبردار ہوگئے۔ اسی وقت عالم اسلام میں ایک نئی شخصیت ابھر کر سامنے آئی، جنہیں دنیا امام خمینی (رہ) کے نام سے جانتی یے۔ امام نے camp david کو ذلت آمیز معاہدہ قرار دیا اور انقلاب اسلامی کے رونما ہوتے ہی فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کر دیا اور ایران میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کو فلسطین کے سفارتخانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ امام خمینی (رہ) نے آکر جو عظیم کام انجام دیئے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ فلسطین جو ایک عربی مسئلہ سمجھا جاتا تھا، امام نے اسے اسلام و مسلمانوں کا مسئلہ قرار دیا۔ ساتھ ہی اسے حکومتوں کے چنگل سے نکال کر عوامی بنا دیا اور ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم حمایت مظومین فلسطین قرار دیا، جسے آج پوری دنیا میں باضمیر انسان و اقوام مناتی ہیں۔ اس کے بعد کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔

اگر ہم تھوڑا سا مطالعہ و تحقیق کریں کہ کس طرح انقلاب اسلامی کی برکت سے اس ناامید ملت کے اندر پھر سے ایک امید کی لہر دوڑ پڑی۔ خصوصاً امام خمینی (رہ) کی تجویز پر حزب اللہ کا وجود میں آنا اور ان کا اسرائیل کو بری طرح سے شکست دیکر لبنان سے باہر نکالنا۔ یہ عوامل درحقیقت باعث بنے کہ فلسطینی عوام کے اندر پھر سے امید کی ایک نئی روح بیدار ہوئی اور انہوں نے مزاحمت شروع کر دی۔ 1987ء میں انتفاضہ اول کا آغاز ہوا، حماس جیسی مبارز تنظیم وجود میں آئی، جس کے نتیجے میں فسلطین نے مغربی کنارے کے کافی علاقے آزاد کروا لئے۔ یہ پہلی بار تھا جب فلسطینیوں نے اپنے علاقے اسرائیل سے آزاد کروائے۔ سال 2000ء میں پورے لبنان سے حزب اللہ نے اسرائیل کو نکال باہر کیا۔ یہ دیکھ کر فلسطینیوں کو پھر سے حوصلہ ملا اور انہوں نے انتفاضہ دوم کا آغاز کیا اور اس کے نتیجے میں 2005ء میں غزہ کا علاقہ بھی اسرائیل سے آزاد کروا لیا گیا۔

فلسطین کی مظلومیت میں عرب حکمرانوں کی خیانت کا بڑا عمل دخل ہے، ایک تو دوسرے ممالک کے عرب حکمران جو آج تک امریکہ و اسرائیل کی آغوش میں بیٹھے ہیں و ساتھ خود کو فسلطین کے رہنماء کہلانے والے یاسر عرفات جیسے خائن جنہوں نے اوسلو معاہدہ کرکے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اسرائیل کے خلاف مبارزانہ و مجاہدانہ کوشش کرنے والی تنظیموں کو کچلنا شروع کیا۔ ساتھ ہی اس خائن نے اسرائیلی وزیراعظم کو امن پسند و امریکی صدر کو حقوق بشر کا علمبردار قرار دیا۔ جس کے نقش قدم پر آج کا نام نہاد فلسطینی رہنما محمود عباس چل رہا ہے، جس کا کام اسرائیل کا دفاع و مجاہدانہ تنظیموں کو کچلنا ہے۔ بس یہاں آخری بات کہتا چلوں کہ ہمیں ہمارے رہبر معظم سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی کے بیان پر ایمان ہے، جنہوں نے فرمایا ہے کہ ان شاء اللہ اسرائیل مزید 25 سال نہیں دیکھ پائے گا۔ اللہ تعالیٰ مظلوم فسلطینیوں کی مدد فرمائے و ظالمین کو انہی مظلومین کے ہاتھوں نیست و نابود فرمائے۔(آمین)
خبر کا کوڈ : 864198
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش