?>?> آزادى فلسطين فقط نعرہ نہيں بلکہ ہمارے دلوں سے نکلتى ہوئى آواز ہے - اسلام ٹائمز
0
Friday 22 May 2020 10:42

آزادى فلسطين فقط نعرہ نہيں بلکہ ہمارے دلوں سے نکلتى ہوئى آواز ہے

آزادى فلسطين فقط نعرہ نہيں بلکہ ہمارے دلوں سے نکلتى ہوئى آواز ہے
تحرير: سيده طاہره موسوى
مرکزى جنرل سيکرٹرى
اصغريہ خواتين علم و عمل تحريک پاکستان


ماه مبارک کا آخرى جمعہ یعنی جمعة الوداع رمضان المبارک کے متبرک و روحانی مہینہ میں آنے والا آخری جمعہ مسلمانوں کے درمیان زیادہ فضیلت اور بابرکت تصور کیا جاتا ہے۔ یہ جمعہ ہمیشہ ایسے ایام میں آتا ہے، جب رمضان المبارک کے آخری عشرے کی عظیم بابرکت راتوں یعنی شبِ قدر کا سلسلہ جاری ہوتا ہے اور ان کے اختتام یا درمیان میں جمعة الوداع آتا ہے۔ یہ دن مذہبی فضیلت اور عبادت کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت کا دن قرار دیا گیا ہے۔ جہاں جمعة الوداع کو دنیا بھر کے مسلمان مذہبی اور عقیدتی رسومات سے انجام دیتے ہیں، وہاں اس دن کی اہمیت عالمی سطح پر "یوم القدس" کے عنوان سے اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یعنی جمعة الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جانا، نہ صرف عالم اسلام کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یوم القدس کا جب نام آتا ہے تو انسان کے ذہن میں فوراً خیال آجاتا ہے، ۱: بیت المقدس، 2: انبیاءؑ کی مقدس سرزمین۔

جی ہاں وہى مظلوم فلسطینوں کی سرزمین جہاں پر ہزاروں انبیاءؑ کی آمد رہی اور پھر معراج کى رات بهى رسول خداؐ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ جو کہ فلسطین میں واقع ہے، یہاں لایا گیا تھا۔ سرزمین فلسطین اور وہاں رہنے والی مظلوم قوم 1948ء سے عالمی سامراج کی شیطانی چالوں کا نشانہ بن کر یہاں قائم کی جانے والی ایک یہودیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے شکنجہ میں ہے۔ یہاں کے مظلوم لوگ گذشتہ ایک سو برس سے اس زمین پر "صہیونیوں" کی مکاریوں اور فریب کاریوں کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ صہیونیوں کے مقاصد میں جہاں فلسطین پر یہودیوں کے لئے علیحدہ ریاست قائم کرنا تھا، وہاں بیت المقدس پر بھی صہیونی اپنا مکمل تسلط چاہتے ہیں۔ مگر صہیونی آج تک اپنی چال میں کامیاب نہیں ہو پائے اور نہ کبھی ہوپائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہ امریکی حکومت اور صدر ٹرمپ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ بیت المقدس پر صہیونیوں کا مکمل قبضہ ہو جائے، ليکن وہ ناکام ہيں اور ناکام رہيں گے۔

ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یعنی یوم القدس جو نہ صرف فلسطین کے مظلوموں کی حمایت کا دن ہے، بلکہ قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرنے کا دن بھی ہے۔ یوم القدس ایک ایسا دن ہے، جس کو علماء اور فقہاء نے اسلام اور مسلمین کا دن قرار دیا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینیؒ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا ہے اور اس دن کو دنیا بھر کے مظلوموں کا دن قرار دیا ہے۔ مظلوم فلسطین میں ہو یا کشمیر میں، یہ یوم القدس سب مظلوموں کا دن ہے۔ یہ دن فلسطین کا دن ہے، یہ دن کشمیر کا دن ہے، یہ دن افغانستان کے ان مظلوموں کا دن ہے، جن کو داعش جیسے ظالم دہشت گردوں نے حالیہ دنوں اسپتالوں میں قتل کیا ہے۔ یہ دن عراق کا دن ہے کہ جہاں عالمی دہشت گرد امریکہ کے ہاتھوں ہزاروں عراقیوں کا قتل ہوا ہے۔ یہ دن یمن کا دن ہے کہ جہاں گذشتہ پانچ برس سے انسانی زندگیاں موت کی لکیر تک جا پہنچی ہیں اور اس کا سبب امریکی سرپرستی میں عرب حکمرانوں کی یمن پر مسلط کردہ جنگ ہے۔

حقیقت میں یوم القدس مسلمانوں اور انسانیت کے اتحاد و یکجہتی کا دن ہے۔ یہ دن دنیا بھر کی ایسی اقوام کا دن ہے کہ جن پر عالمی سامراجی قوتوں نے ظلم و ستم کر رکھے ہیں۔ یہ دن مظلوموں کا دن ہے۔ یہ دن ظالم کے خلاف نفرت اور بیزاری کا دن ہے۔ جمعۃ الوداع یوم القدس ایک ایسا عالمگیر دن ہے کہ جو فلسطین سے لے کر کشمیر تک کے مظلوموں کی داد رسی اور ان کے لئے ایک نئی امید کی کرن کی مانند ہے۔ یوم القدس جہاں ملت فلسطین کو تقویت بخشتا ہے، وہاں ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے ان مظلوم اور نہتے انسانوں کو بھی ایک نوید سحر سناتا ہے، جو گذشتہ ستر سالوں سے ہندوستان کے ریاستی جبر اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ آئيں اس سال یوم القدس کے دن پاکستان بھر میں متحد ہو کر فلسطین و کشمیر کى عوام سے بھرپور یکجہتی کریں۔ فلسطین و کشمیر سے یکجہتی کرنا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے موقف سے تجدید کرنا ہے۔

یوم القدس دنیا بھر کے حریت پسندوں کو درس دیتا ہے کہ ظالم کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی قوم و قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کے خلاف احتجاج بلند کيا جائے اور مظلوم کسی بھی قوم، قبیلہ، رنگ و نسل سے ہو، اس کی حمایت میں کھڑے ہونا چاہیئے، آواز بلند کرنى چاہیئے۔ موجودہ حالات میں یوم القدس ایسے موقع پر آیا ہے کہ جب ایک طرف دنیا کو کورونا وائرس کا سامنا ہے، لیکن ایسے حالات میں بھی دنیا کے غیور انسانوں کی طرح پاکستان کى عوام نے فلسطین کی مظلوم عوام کو فراموش نہیں کیا اور یوم القدس کے موقع پر مظلوموں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکها ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے جمعة الوداع یوم القدس کو فلسطینى عوام سے یکجہتی کریں اور دنیا کی ظالم قوتوں کو یہ پیغام دیں کہ ہم عالمی دہشت گرد امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف اور فلسطین مظلوموں کے ساتھ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 864200
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش