2
Saturday 23 May 2020 05:58

آیت اللہ خامنہ ای کا اسرائیل شکن خطاب اور حواس باختہ صہیونی رژیم 

آیت اللہ خامنہ ای کا اسرائیل شکن خطاب اور حواس باختہ صہیونی رژیم 
تحریر: ذاکر حسین میر

بتایا جاتا ہے "حتمی حل" یا "یہودیوں کا آخری حل" ایک علامتی کوڈ تھا، جسے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کو تاراج کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ آج سے تقریباً 75 برس قبل جرمن کے دارالحکومت برلن میں واقع وانزے کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں نازی حکومت کے اعلیٰ ترین قیادت کے لوگ شریک تھے۔ اجلاس میں سب اس بات پر متفق ہوئے کہ یہودیوں کے مسئلہ کا آخری اور حتمی حل یہ ہے کہ انہیں یورپ سے ہی ختم کر دیا جائے۔ "ہولوکاسٹ پروٹوکول" کے نام پر موجود واحد دستاویز کے مطابق اس وقت یورپ میں یہودیوں کی مجموعی آبادی گیارہ ملین کے قریب تھی اور ہولوکاسٹ کے نام پر صرف تین دن میں 33 ہزار یہودی قتل ہوئے۔ ہولوکاسٹ کی کہانی واقعی ہے یا نہیں، یہ اپنی جگہ مگر یہ بات حتمی ہے کہ غاصب اسرائیل اپنے ناجائز تسلط کے دفاع میں ہمیشہ سے ہولوکاسٹ کا سہارا لیتا رہا ہے۔ چنانچہ یہودیوں کے تحفظ کا احساس اور پھر اسرائیل کی شکل میں ایک ناجائز حکومت کی تشکیل کا ہولوکاسٹ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہولوکاسٹ حساس ترین مسائل میں سے ایک ہے۔
عالمی قدس کی مناسبت سے حال ہی میں آیت اللہ خامنہ ای کے آفیشل پیج پر شائع ہونے والے پوسٹرز اسرائیلیوں اور اس کے اتحادیوں کے لئے سخت پریشانی کا سبب بنے ہیں۔ تینوں پوسٹرز میں ایران کے خرمشہر کی آزادی کا جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی دو پوسٹرز :انگلش اور عربی والے میں فسلطین کی آزادی کی خوشخبری دی گئی ہے، جبکہ فارسی والے پوسٹر میں آٹھ سالوں پر محیط ایران عراق جنگ کی طرف اشارہ ہوا ہے اور ساتھ ہی یہ جملہ لکھا ہوا ہے: "ایک اور خرمشہر آزاد ہوگا، حتمی حل؛ ریفرنڈم تک مقاومت" یعنی فلسطین مقاومت کا دوسرا خرمشہر ہوگا، جو قدس بریگیڈ، سپاہ پاسداران، حزب اللہ اور دیگر مقاومتی تحریکوں کے ذریعے فتح ہوگا۔ ان تصاویر کا شائع ہونا ہی تھا کہ اسرائیلی اور ان کے چیلوں کی طرف سے  بے چینی اور اضطراب کی ایک عجیب کیفیت سامنے آئی۔ "حتمی حل" کی اصطلاح نے ایک دفعہ پھر غاصب صہیونی حکومت کے کمر شکستہ وزیراعظم کو ماضی کی یاد دلائی ہے اور تب سے چیخ رہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر یہودیوں کو دوبارہ وہی دھمکی دے رہا ہے، جو انہیں ماضی میں نازی حکومت کی طرف سے ملی تھی۔

جبکہ آیت اللہ خامنہ ای کے ٹویٹر پیغام میں واضح طور پر یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ وہاں پر آباد تمام قوموں کے ریفرنڈم سے ہی ممکن ہے اور جس چیز کو ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے، وہ یہودی نہیں بلکہ اسرائیل کی ناجائز حکومت ہے۔ خامنہ ای کی جنگ نتن یاہو اور اس کی بزدل وحشی حکومت سے ہے، جو پہلے سے ہی فلسطین کے نہتے مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ دوسری طرف قابض ریاست کا غیر مشروط اتحادی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہتا ہے: علی خامنہ ای دنیا میں دہشتگردوں کا سب سے بڑا حامی ہے، خامنہ ای نہ صرف جنگ جہانی دوم میں یہودیوں کے قتل عام کا منکر ہے اور نہ صرف اسرائیل مخالف گروہوں کو مالی اور جنگی مدد کرتا ہے، بلکہ نازی حکومت کے یہود کش نعروں کی تبلیغ کر رہا ہے۔ کیا کسی ایسے شخص پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔؟ کیا اس طرح کے عزائم رکھنے والے شخص کے ہاتھ میں ایٹمی اسلحہ ہونا دنیا کے لئے خطرناک نہیں ہے۔؟

غاصب اسرائیلی اور اس کے اتحادی مذکورہ بیانات سے حواس باختہ دنیا سے ہمدردیاں جمع کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھے کہ عالمی یوم قدس کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ایک خصوصی خطاب میں نہ صرف قدس کی آزادی، فلسطینوں کی غیر مشروط حمایت، غاصب صہیونی حکومت کے خلاف جہاد اور اسرائیل مخالف تمام مقاومتی تحریکوں کی پشت پناہی  کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسی کو جاری رکھنے اعلان کیا، بلکہ دوٹوک الفاظ میں ایک دفعہ پھر اسرائیلیوں اور اسکے اتحادیوں کے شیطانی منصوبے کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے کہا دنیا کی امنیت اور انسانیت کے لئے وہ لوگ خطرہ ہیں، جو کسی کی سرزمین کو غصب کر لیتے ہیں، انہیں طاقت کے زور پر اپنے گھر سے باہر کرتے ہیں اور دسیوں سال تک اسی تاریخی ستم کے تسلسل کے ذریعے درندگی اور انسان دشمنی کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔

دہشتگردی کی پشت پناہی وہ لوگ کر رہے ہیں، جو ان خونخوار بھیڑیوں کو عسکری اور غیر عسکری وسائل فراہم کرتے ہیں، انہیں ایٹمی ہتھیار سے لیس کرتے ہیں اور نیل سے فرات تک کے علاقوں پر قبضہ جمانے کا خفیہ نقشہ بنا کر دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے ماضی میں صدام جیسے بے رحم انسان کو کیمیکل ہتھیار فراہم کئے، تاکہ لاکھوں بے گناہ اور نہتے لوگوں کو نہایت ہی بے رحمی کے ساتھ قتل اور مفلوج کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ میں ثبت ہے۔ یہی وہ قوتیں ہیں، جنہوں نے داعش جیسی انسان دشمن تنظیم کو لوگوں پر مسلط کیا، انہیں عسکری و غیر عسکری مدد فراہم کی اور عراق اور شام کے مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ ذبح کرکے ظلم و ستم کی نئی داستانیں  رقم کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی ہمیشہ مظلوموں کی مدد اور حمایت کرتا رہے گا۔

یہ انقلاب اسلامی ہی ہے، جس نے مغربی طاقت کے بل بوتے پر عرب ملکوں میں قبضہ جمانے کی اسرائیلی کوششوں کو نئے چیلنجزز سے دوچار کر دیا۔ وہ اسرائیل جس کے سامنے عرب طاقتیں جھک گئیں اور انہوں نے اسرائیل کو ناقابل شکست طاقت کے طور پر قبول کر لیا۔ آج صیہونی ریاست ایک طرف حزب اللہ کے جوانوں اور دوسری طرف فلسطین کی عوامی مقاومت سامنے بے بس ہے۔ انقلاب اسلامی نے غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم اور وہاں کے مومن، دلیر اور جرات مند مجاہدین کے جذبہ مقاومت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا کہ انہیں اسلحہ فراہم کیا جائے، تاکہ وہ اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کر سکیں اور یہ درست فیصلہ تھا، جس کے نتیجہ میں الحمداللہ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ فلسطینی اپنی تمامتر طاقت کے ساتھ اسرائیلی درندگی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

اس وقت مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے دو بڑے آپشنز سامنے ہیں: پہلا آپشن  ٹرمپ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے دیا ہوا سینچری ڈیل ہے اور دوسرا آیت اللہ خامنہ ای کا تجویز کردہ راستہ ہے۔ سینچری ڈیل کے تحت فلسطین کی سرزمین کو تقسیم کیا جائے گا۔ فلسطینیوں کو غزہ اور کرانہ باختری میں محدود کیا جائے گا، جبکہ وہ چاروں طرف سے اسرائیلیوں کے محاصرے میں ہوں گے۔ فلسطینی عوام نے پہلے سے ہی اس معاہدے کو مسترد کر دیا اور مقاومت کو جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں فلسطین کے حامیوں نے بھی اس جعلی اور یک طرفہ معاہدے کو فلسطینیوں کے خلاف ایک بڑی سازش قرار دیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کا دیا ہوا سینچری ڈیل منصوبہ فلسطین کے حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے "حتمی حل" کے عنوان سے جو تجویز دی ہے، وہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں موجود حقائق، وہاں کے لوگوں کی بالادستی اور ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہے۔ اس تجویز کے تحت فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے وہاں کی عوام کرے گی۔ وہاں پر آباد لوگ چاہے مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا عیسائی، سب ملکر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ البتہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ناجائز اسرائیلی حکومت ہے، جسے صرف مقاومت کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ "حتمی حل ریفرنڈم تک مقاومت " جسے غاصب اسرائیلی اور اس کے اتحادی یہودی ہولوکاسٹ کا نام دے رہے ہیں، حقیقت میں صہیونی غیر مشروع حکومت کا خاتمہ ہے، جو طاقت، جہاد اور مقاومت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اگرچہ کرونا  سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر اس سال یوم القدس کے موقع پر غاصب اسرائیل اور شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف لوگوں کا سمندر سڑکوں پر تو نہ آسکا، لیکن "سنصلی فی القدس" عنقریب ہم قدس میں نماز پڑھیں گے، کے نمایاں پیغام کے ساتھ آیت اللہ خامنہ ای کے اسرائیل شکن خطاب نے ایک دفعہ پھر اسرائیلیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 864359
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش