0
Saturday 23 May 2020 11:22

رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا اہم نکتہ

رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب کا اہم نکتہ
اداریہ
یوم القدس کے دن لائیو خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے جن سات نکات کو بیان کیا ہے، اُس میں ایک نکتہ مقاومت و استقامت کا دوام اور جہادی سرگرمیوں کو غزہ سے باہر دوسرے علاقوں میں پھیلانے سے متعلق ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اسی اہم نکتے میں مقاومت اور جہاد کو مسئلہ فلسطین کا حل قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس بات کی تاکید کی ہے کہ مذاکرات، معاہدے اور غیروں پر بھروسہ کرکے بات چیت سے غاصب اسرائیلی حکومت کبھی بھی فلسطین کو نہیں چھوڑے گی۔ آپ اس نکتہ میں واضح پیغام دیتے نظر آتے رہے ہیں کہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ بغیر استقامت و مقاومت و مزاحمت کے فلسطینیوں کو ان کے غصب شدہ حقوق مل جائیں تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہے۔

یاسر عرفات سے لیکر محمود عباس نے آج تک جتنے مذاکرات یا معاہدے کیے ہیں، وہ سب کے سب فلسطین اور فلسطینیوں کے خلاف گئے ہیں۔ ہر معاہدے اور مذاکرہ میں فلسطین کو کچھ کھونا پڑا ہے، لیکن جب بھی فلسطینیوں نے اسقامت و مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو کامیابیوں نے اُن کے قدم چومے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کیمپ ڈیوڈ ہو یا اوسلو معاہدہ ان دونوں معاہدوں سے مسئلہ فلسطین کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ اگر اب بھی ماضی سے سبق حاصل کیے بغیر ساز باز یا مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تو فلسطین اور اہل فلسطین کے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا۔

لہٰذا رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ مزاحمت و مقاومت کے سلسلہ کو نہ صرف جاری رکھا جائے، بلکہ جس طرح غزہ کے اندر جہادی قوتیں فعال ہیں اور اس علاقے میں مضبوط دفاع کیوجہ اسرائیلی زمینی اور لشکری جنگ سے خوفزدہ ہیں، اگر یہی مسلح جدوجہد غزہ سے باہر بالخصوص غرب اردن جیسے علاقوں میں بھی شروع ہو جائے تو غاصب اسرائیل نئے سلامتی بحران میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 864520
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش