11
Monday 8 Jun 2020 15:17

امام خمینی کے دور کی جیوپولیٹیکل صورتحال(2)

امام خمینی کے دور کی جیوپولیٹیکل صورتحال(2)
تحریر: محمد سلمان مہدی

امام خمینی ؒ کی زندگی کے پہلے 43 برسوں کی جیوپولیٹیکل صورتحال کے چند ناقابل نظر انداز واقعات پچھلی تحریر میں بیان ہوئے۔ زیر نظر تحریر میں مزید سترہ برسوں کی صورتحال پر طائرانہ نگاہ ڈالنے سے پہلے یہ یاد رہے کہ امام خمینیؒ کی قبل از انقلاب زندگی کے دوران میں دو خاندان بادشاہ ایران کی حیثیت سے مسلط رہے۔ یعنی ایران میں قاجاری خاندان کے بعد 1925ء تا 1979ء پہلوی خاندان کی حکمرانی رہی۔ اس دور کے پہلے حصے میں علماء کے لحاظ سے آیت اللہ سید حسن مدرس اور آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی، مسلح مقاومت کے لحاظ سے سید نواب صفوی، فدائیان اسلام اور مرجعیت کے لحاظ سے آیت اللہ العظمیٰ سید حسین بروجردی زیادہ مشہور کردار تھے۔ امام خمینیؒ کی پیدائش کے وقت ملک میں مظفرالدین شاہ قاجار کی حکومت تھی، جو اس خاندانی سلسلے کے پانچویں حکمران تھے۔ قاجاری خاندان کی ایک سو چالیس سالہ حکومت کا باقاعدہ آغاز آقا محمد خان قاجار کی حکومت سے 1788ء میں ہوا تھا۔ یعنی فرانس میں انقلاب اور نیپولین بوناپارٹ کی قیادت اور یورپی ممالک کی جانب سے دیگر علاقوں پر قبضہ کرکے اسے اپنی کالونی (نوآبادی) قرار دینے کا سلسلہ، یہ سب کچھ اس دور میں عروج پر تھا۔

مظفر کے بعد اسکا بیٹا محمد علی شاہ قاجار تخت نشین ہوا۔ یہ وہ دور تھا کہ برطانیہ و فرانس سامراج اس پورے خطے میں سامراجی سازشوں کا جال بچھا رہے تھے۔ محمد علی شاہ قاجار ولی عہد سلطنت تھا، تب آئینی نظام کی حمایت کیا کرتا تھا۔ حکمران بننے کے بعد اس نے مخالفت کی۔ اس کے باوجود آئینی انقلابی تحریک کے نتیجے میں ایران میں ایک تحریری آئینی دستاویز (قانون اساسی مشروطہ) کی تدوین ہوئی اور اس کے تحت محدود اختیارات کی حامل پہلی پارلیمنٹ 1906ء میں معرض وجود میں آئی۔ یہ سب کچھ ایک مسلسل مزاحمتی و احتجاجی تحریک کے سبب ممکن ہوا تھا۔ روسی لیاخوف کی قیادت میں پولیس نے آئینی تحریک کے افراد کو کچلا تھا۔ اس دور میں تبریز مزاحمت کا مرکز بنا۔ وہیں ستار خان اور باقر خان کی قیادت میں اپوزیشن کے حامی متحد ہوئے۔ یوں تو ایران کے دیگر علاقوں میں بھی تحریک چل رہی تھی، لیکن گیلان صوبے کے صدر مقام رشت میں زیادہ موثر اپوزیشن قیادت دیکھنے میں آئی۔ وہیں میرزا کوچک خان کی جنگلی تحریک بھی ایران کی انقلابی و مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گئی۔ تبریز کی مزاحمت کے نتیجے میں محمد علی شاہ قاجار روس میں پناہ نشین ہوا۔ فاتحین نے محمد علی شاہ کے 13 سالہ بیٹے احمد شاہ قاجار کو بادشاہ منتخب کر لیا۔ 1914ء میں ستار خان کی رحلت اور 1921ء میں میرزا کوچک خان جنگلی کی شہادت ہوئی۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جہاں سطلنت عثمانیہ کا سقوط ہو، وہیں روس میں زار سلطنت کا بھی سقوط ہوا۔ روس میں سوشلسٹ انقلاب آگیا، جو بعد میں سوویت انقلاب کے بعد روس کو سوویت یونین میں تبدیل کر گیا۔ زار روس کے سقوط کا نتیجہ یہ ہوا کہ روسی افواج کو ایران سے نکلنا پڑا۔ یاد رہے کہ ایک فوجی افسر رضا خان میر پنج کو احمد شاہ قاجار نے وزیراعظم نامزد کیا تھا۔ رضا خان کا آئیڈیل مصطفیٰ کمال اتاترک تھا۔ سال 1925ء میں اسی رضا خان میر پنج نے ایران میں اپنی پہلوی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ شاہ ایران جس کا سقوط انقلاب اسلامی کے نتیجے میں ہوا، وہ اسی رضا خان کا بیٹا محمد رضا پہلوی تھا، جو اس خاندان کے سلسلے کا دوسرا اور آخری بادشاہ تھا۔ پہلوی سلطنت کا ہدف ایران کو مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور کے ترکی جیسی مملکت میں تبدیل کرنا تھا، لیکن رضا خان میر پنج جب رضا شاہ پہلوی میں تبدیل ہوا تو آیت اللہ سید حسن مدرس نے علی الاعلان اس کی مخالفت کی اور ایک حقیقی انقلابی عالم دین کی حیثیت سے، ایک ہیرو کی حیثیت سے آیت اللہ مدرس، امام خمینی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرگئے۔ شاید وہی اثرات جو سید نواب صفوی نے امام خامنہ ای صاحب کے افکار پر مرتب کئے۔
 
رضا شاہ کی جانب سے اتا ترک کی مانند رسم الخط کی تبدیلی کی شدید مخالفت کرنے والوں میں ایک بڑا نام آیت اللہ العظمیٰ سید محمد حسین بروجردی کا تھا۔ محمد رضا پہلوی کے دور حکومت میں جو عالم دین قومی، سیاسی و پارلیمانی مزاحمت و مخالفت کی علامت بنے، ان میں مشہور نام آیت اللہ سید ابولقاسم کاشانی کا تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی تھی کہ محمد رضا کے باپ رضا خان کے دور میں ان کا کردار مخالفانہ نہیں تھا۔ نوجوانی سے آیت اللہ کاشانی غیر ملکی مداخلت کے شدید مخالف تھے۔ انہوں نے لڑکپن اور نوجوانی کا دور عراق میں گزارا تھا اور اس دوران برطانوی سامراج کے خلاف عراق میں مزاحمت میں شرکت بھی کی تھی۔ اسی بناء پر ان کی گرفتاری پر برطانیہ نے انعام مقرر کر دیا تھا۔ آج سے تقریباً ایک صدی قبل وہ ایران لوٹے تھے۔ بعد ازاں پارلیمانی سیاست کے فعال کردار بنے۔
 
ایرانی نیشنلسٹ سیاستدانوں میں مشہور نام محمد مصدق کا تھا۔ محمد رضا پہلوی شاہ ایران کے تحت وزیراعظم محمد مصدق تھے تو آیت اللہ کاشانی کچھ عرصہ مصدق کے اتحادی بھی رہے، لیکن ان دونوں کے آپسی اختلافات نے غیر ملکی مداخلت کے خلاف ایران کی قومی مزاحمت کو کمزور کیا۔ ورنہ ایران میں ایک مضبوط سیاسی اپوزیشن جبھ ملی ایران یا نیشنل فرنٹ کے نام سے 1949ء میں ہی قائم ہوچکی تھی اور اسی قومی محاذ کے حامیوں نے برطانوی مداخلت کے خلاف جدوجہد بھی کی تھی۔ محمد مصدق اسی گروپ کے رہنماؤں میں سے تھا اور رضا خان کے دور میں وہ صوبہ فارس کا گورنر بھی رہ چکا تھا۔ مصدق اور آیت اللہ کاشانی کے اس دور میں یعنی 1951ء میں ایران نے تیل کے شعبے کی نیشنلائزیشن کا قانون منظور کیا تھا۔   ایران میں خام تیل پر برطانیہ کا کنٹرول تھا۔ اینگلو پرشین آئل کمپنی کے عنوان سے برطانیہ نے 1908ء میں ایک کمپنی قائم کی تھی۔ ایران میں تیل کے ذخائر پر برطانوی کنٹرول اس کا ہدف تھا۔ بعد ازاں اس کا نام اینگلو ایرانین آئل کمپنی رکھا گیا۔
 
تب برطانیہ میں وزیراعظم ونسٹن چرچل کی حکومت تھی، جبکہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا میں صدر ہیری ٹرومین کی حکومت تھی۔ برطانیہ کی طرف سے ایران میں لارڈ پرائیوی سیل رچرڈ اسٹوکس کی قیادت میں وفد بھیجا گیا۔ گو کہ وفد کی قیادت کرنے والا ایک بڑا کاروباری آدمی تھا، جس کے برطانوی انٹیلی جنس ادارے سے قریبی تعلقات تھے۔ لیکن وفد میں دیگر اراکین کا تعلق برطانوی وزارت خارجہ، خزانہ و ایندھن و بجلی سے تھا۔  اگست 1951ء میں یہ وفد ناکام لوٹا۔ امریکا بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہا تھا۔ اس دور میں ڈیموکریٹک سیاستدان اور کاروباری شخصیت ولیم ایوریل ہیریمین سفارتکاری کے شعبے میں مہارت رکھتا تھا۔ وہ سوویت یونین اور برطانیہ میں امریکی سفیر بھی رہ چکا تھا۔ امریکی صدر ٹرومین کی حکومت میں وہ امریکا کا وزیر تجارت تھا۔ صدر ٹرومن نے اس کی قیادت میں ایک وفد ایران بھیجا تھا۔ جولائی 1951ء میں انہوں نے بھی ایرانی حکومت سے مذاکرات کئے۔ برطانیہ نے ایران کی جانب سے تیل کی نیشنلائزیشن کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا۔ ایران نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار سے ماوراء ہے۔ 22 جولائی 1952ء کو عالمی عدالت انصاف نے ایران کے موقف کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
 
ایک طرف یہ صورتحال تھی تو دوسری طرف ایران کے اندر تیل کو قومیائے جانے کے فیصلے کو عوام الناس کی بھرپور حمایت و تائید حاصل تھی۔ شاہ ایران نے محمد مصدق کو وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کرنے کی کوشش کی، مگر مصدق کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے محمد رضا پہلوی خود ایران سے فرار پر مجبور ہوا اور امریکی سی آئی اے اور برطانیہ کی مشترکہ مداخلت کے بعد محمد رضا کی کامیاب واپسی ممکن ہوسکی۔ یہ 1950ء کے عشرے کے واقعات ہیں۔ ایرانی تاریخ میں اسے کودتای 28 مرداد کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے، جبکہ امریکی سی آئی اے نے وزیراعظم مصدق کی حکومت کے خاتمے کے لئے اس خفیہ کارروائی کو آپریشن اجیکس کا نام دیا تھا۔ یعنی محمد مصدق اور آیت اللہ کاشانی جب ایرانی سیاسی منظر نامے کے مرکزی اور مشہور و مقبول چہرے تھے، تب امریکا اور برطانیہ نے مشترکہ آپریشن کرکے ایران میں محمد مصدق کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا اور ان کے آپسی اختلافات نے ایران کی قومی وحدت اور قوت کو کمزور کرکے رکھ دیا اور یہ کمزوری کامیاب امریکی و برطانوی مداخلت کا سبب بنی۔ ایران کے اندر امریکا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگیا۔ پہلوی حکومت نے سید مجتبیٰ میر لوحی المعروف نواب صفوی کی سزائے موت کا حکم دیا۔ سن 1956ء میں یہ سانحہ ہوا۔
 
بیسویں صدی کے ان عشروں کی ایرانی تاریخ مومن و متدین مسلمانوں کے دینی و ثقافتی و قومی حقوق اور آزادی سے محرومی پر مبنی تاریخ تھی۔ خواتین کے حجاب پر پابندی تھی تو اس کے خلاف تحریک چلانی پڑی۔ حکومتی صفوں میں اغیار کے ایجنٹ بھی اپنے غیر ملکی آقاؤں کی طرح طاقتور ہوچکے تھے۔ نواب صفوی ان کے خلاف مسلح مزاحمت کی علامت تھے اور محض 31 سال عمر تھی کہ جام شہادت نوش کیا۔ یہ مظلومیت اور ایرانی تاریخ کی یہ عبرتیں امام خمینیؒ کے دل و دماغ میں نقش تھیں کہ 1960ء کے عشرے کا آغاز بھی مزید منفی تحولات سے ہوا۔ سال 1961ء کے اوائل میں پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی۔ اس کے بعد حکومت نے آئین میں غیر آئینی طریقوں سے ترامیم کا آغاز کیا۔ آٹھ اکتوبر 1962ء کو ایرانی ذرایع ابلاغ نے خبر دی کہ حکومت نے ایک قانونی بل منظور کر لیا ہے تو اس میں صوبائی اور ضلعی کاؤنسل کے اراکین اور ووٹرز کی اہلیت میں مسلمان ہونے کی شرط ختم کر دی اور قرآن پر حلف کی شرط بھی ختم کر دی اور خواتین کو ووٹنگ کا حق دے کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، گویا خواتین کی پسماندگی کا سبب اسلام ہو، جبکہ خواتین سے متعلق قوانین تو انہی غیر ملکی طاقتوں کے منظور نظر قاجاری اور رضا خان پہلوی کے دور سے نافذ العمل رہے تھے۔
 
محمد رضا پہلوی کی شاہی حکومت کے دور میں اس مرحلے پر پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بعد ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مملکت ایران کے سرکاری مذہب اسلام اور مسلمانوں کے لئے مقدس ترین کتاب قرآن کو ریاستی معاملات سے خارج کر دیا گیا۔ یعنی اس قانون کے ذریعے کوئی بھی غیر مسلم اعلیٰ ایرانی حکومتی عہدوں پر منتخب ہوسکتا تھا۔ اس مرحلے پر ایران کی اسلامی شناخت کے دفاع میں امام خمینی نے مرکزی کردار کا آغاز کیا۔ انہوں نے دیگر علماء کے ساتھ ایک اجلاس کیا، جو جدید حوزہ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ حائری کی رہائش گاہ پر ہوا۔ ساٹھ سالہ امام خمینی نے دیگر علماء پر واضح کر دیا کہ اگر وہ اس موقع پر اپنی ذمے داری انجام نہیں دیں گے تو اسلام اور رسول اکرم حضرت محمد (ص) کو جوابدہ ہوں گے۔

اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ علماء کی جانب سے نئے قانونی بل کی مخالف پر مبنی ایک ٹیلی گرام شاہ ایران کو ارسال کیا جائے گا۔ شاہ ایران نے اس کا کوئی مناسب جواب نہیں دیا اور معاملہ وزیراعظم اسد اللہ علم کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر 1962ء کو وزیراعظم اسداللہ علم کو ٹیلیگرام ارسال کئے گئے۔ امام خمینیؒ نے جو ٹیلیگرام ارسال کیا، اس میں اسد اللہ علم کے القابات تحریر نہیں کئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کی طویل المدت معطلی بذات خود آئین اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اسلام کے خلاف قانونی بل پر انہوں نے واضح کیا کہ عوام اس پر شدید ردعمل کریں گے اور معاملہ محاذ آرائی کی سمت جائے۔ علماء، اسلامی مراکز اور دیگر سارے مسلمان خاموش تماشائی نہیں رہیں گے بلکہ اللہ کی طاقت کے ساتھ یہ خلاف اسلام معاملات نہیں ہونے دیں گے۔
 
پچھلی مرتبہ ہم نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک کی جیوپولیٹیکل صورتحال بیان کی تھی۔ اس کے بعد بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہونے لگا۔ ایران کے پڑوس میں ہندوستان پر سے برطانوی تسلط ختم ہوا۔ ایک نیا ملک پاکستان معرض وجود میں آیا۔ افغانستان بھی سیاسی تحولات کی زد پر رہا۔ مشرق وسطیٰ میں زایونسٹ نسل پرست غیر ملکیوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے اسرائیل کے نام سے ایک ملک بنا ڈالا۔ عراق بھی منفی سیاسی تحولات کی زد پر رہا۔ شام میں بھی داخلی استحکام کو خطرات لاحق رہے۔ سیکولر ترکی میں بھی مذہبی مسلمان کمزور تھے۔ یعنی ایران کے پڑوس میں یا پورے خطے میں امریکا برطانوی سامراج کے جانشین کے طور پر سامنے آرہا تھا اور ساتھ ہی سوویت یونین اور مغربی بلاک کی گریٹ گیم یا پراکسی وار کا سلسلہ بھی عروج پر تھا۔

ایران کے اندر بھی اس گریٹ گیم کے واضح اثرات تھے اور بظاہر ایک دوسرے کے دشمن مغربی بلاک اور سوویت بلاک کا جس ایک نکتے پر اتفاق تھا، وہ یہ تھا کہ مذہبی مسلمانوں کو کسی طور سیاسی لحاظ سے طاقتور نہیں ہونے دینا۔ نائن الیون کے بعد جو امریکی برانڈ اسلام پیش کیا گیا، یہ اصل میں آل سعود اور شاہ ایران کے دور سے ہی مغربی بلاک کا منظور شدہ برانڈ تھا اور اگر اس دور میں آیت اللہ سید حسن مدرس سے نواب صفوی تک اور امام خمینیؒ جیسے علمائے اسلام نے اپنا مجاہدانہ کردار بروقت ادا نہ کیا ہوتا تو پورا عالم اسلام مصطفیٰ کمال اتاترک یا پھر آل سعود جیسے شاہ و شیوخ ہی کو رول ماڈل قرار دے چکے ہوتے۔ اس زاویئے سے دیکھیں تو امام خمینیؒ یا ان سے پہلے مقاومتی و انقلابی شیعہ اسلامی مراجعین نے پورے عالم اسلام اور خاص طور پر قرآن و سنت کا کامیاب دفاع کیا۔ یہ تاریخ کے وہ کھلے حقائق ہیں، جس کا انکار صرف جھوٹا مورخ یا اسلام دشمن ہی کرسکتا ہے یا پھر اسلام و قرآن کے مقابلے میں اپنے من مانے متعصبانہ و جاہلانہ تعصبات کا پیروکار نام نہاد مسلمان۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 867347
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش