0
Monday 29 Jun 2020 20:57

غلو اور غالیوں کیخلاف ائمہ طاہرین ؑ کی جدوجہد(2)

غلو اور غالیوں کیخلاف ائمہ طاہرین ؑ کی جدوجہد(2)
تحریر: سید حسنین عباس گردیزی
جامعۃ الرضا، بہارکہو اسلام آباد

غلو کی علامات:

وہ نظریات جو غالیوں کے عقائد شمار ہوتے ہیں اور غلو کی نشانیاں قرار پاتے ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔ رسول اکرم ﷺ، امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ یا دوسرے اولیاء الٰہی کے متعلق الوہیت کا عقیدہ رکھنا۔
2۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ کائنات کا انتظام و انصرام یا تدبیر، رسول خداﷺ، امیر المومنین علی اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام یا کسی اور فرد کے سپرد کی گئی ہے۔
3۔ امیر المومنین علی اور آئمہ علیہم السلام یا کسی اور شخص کی نبوت کا نظریہ رکھنا۔
4۔ کسی فرد کا علم غیب سے ذاتی طور پر آگاہ ہونا، بغیر اس کے کہ اسے وحی یا الہام ہو، اس بات کا عقیدہ رکھنا۔
5۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ اہل بیت ؑکی معرفت اور محبت عبادت الہیٰ اور فرائض الہیٰ کی انجام دہی سے بے نیاز کر دیتی ہے۔(۲۱) البتہ وہ عقائد جن پر دلیل قطعی (خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی) قائم ہو تو اسے غلو یا حد سے تجاوز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر اہل بیت ؑکی عصمت امیر المومنین علی ؑ کی خلافت و وصایت بلا فصل اور ان کے بعد باقی اماموں کی امامت اور ولایت کا عقیدہ، امام کے علم لدنی کا نظریہ، رجعت کا عقیدہ اور دیگر شیعہ عقائد جن پر محکم اور متقن ادلہ قائم کی گئی ہیں، انہیں غلو اور حد سے تجاوز قرار دینا کسی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

غلو اسلام کے تمام فرقوں میں پایا جاتا ہے، جن کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں، لیکن متعصب افراد نے اسے صرف شیعہ فرقے سے منسوب کیا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔ شیعوں کے عقائد مسلم طور پر ان کی کتب میں موجود ہیں۔ یہاں پر ہم چند شیعہ علماء کے نظریات بیان کریںگے، تاکہ غلو اور غلاۃ کے بارے میں شیعہ اثناء عشری فرقہ کا نظریہ واضح ہو جائے۔ شیخ صدوق ؒ فرماتے ہیں: غلاۃ اور مفوضہ کے سلسلے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ کافر باللہ ہیں، یہ لوگ اشرار ہیں، جو یہودی، نصاریٰ، مجوسی، قدریہ، حروریہ سے منسلک ہیں، یہ تمام بدعتوں اور گمراہ فکروں کے پیروکار ہیں۔(۲۲) شیخ مفید ؒ فرماتے ہیں: غلات اسلام کا دکھاوا کرنے والا گروہ ہے، یہ وہی افراد ہیں، جہنوں نے امیر لمومنین علی ؑ اور ان کی پاکیزہ اولاد کو الوہیت اور نبوت کی نسبت دی ہے، یہ افراد گمراہ اور کافر ہیں اور امیر المومنین ؑنے ایسے لوگوں کے قتل کا حکم صادر فرمایا ہے۔ دوسرے آئمہ ؑنے بھی ایسے افراد کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا ہے۔(۲۳)

علامہ حلیؒ بیان فرماتے ہیں: بعض غالی حضرات امیر المومنین علی ؑ کی الوہیت اور بعض ان کی نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں، یہ سب نظریات باطل ہیں، کیونکہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اللہ جسم نہیں ہے، اس میں حلول محال اور اس کے ساتھ ایک ہو جانا (اتحاد) باطل ہے۔ اسی طرح ہم نے ثابت کیا ہے کہ محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔(۲۴) محقق حلی فرماتے ہیں: غلات اسلام سے خارج ہیں، اگرچہ وہ ظاہری طور پر اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔(۲۵) علامہ نراقی کا قول ہے: غالیوں کی نجاست میں کسی قسم کا شک نہیں ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو حضرت علی ؑ یا دیگر افراد کی الوہیت کے قائل ہیں۔(۲۶) صاحب جواہر کا قول ہے: غلات، خوارج، ناصبی اور ان کے علاوہ دیگر افراد جو ضروریات دین کے منکر ہیں، یہ کبھی بھی مسلمانوں کے وارث نہیں ہوسکتے ۔(۲۷) آقا رضا ہمدانی لکھتے ہیں: وہ فرقہ جن کے کفر کا حکم دیا گیا ہے، وہ غلات ہیں اور ان کے کفر میں شک و شبہ نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ امیر المومنین ؑ اور دوسرے افراد کی الوھیت کے قائل ہیں۔(۲۸) امام خمینی ؒ تحریر الوسیلہ میں فتویٰ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر غالی کا غلو الوھیت، توحید اور نبوت کے انکار کا لازمہ قرار پائے تو یہ کافر ہیں۔(۲۹) ان اقوال سے ثابت ہوا کہ علماء شیعہ غالیوں کے کفر اور نجاست کا حکم دیتے ہیں اور ان کے حوالے سے انہوں نے فقہی احکام بھی بیان کر دیئے ہیں، مثلاً ان کی نجاست، ان کا ذبیحہ حرام ہے اور وہ مسلمانوں کی میراث نہیں پا سکتے۔ جرح والتعدیل کے ماہر شیعہ علماء کا غالیوں کے بارے میں موقف انتہائی واضح ہے۔(۳۰)

غلو اور غالیوں کے بارے میں آئمہ اہلبیت ؑکا موقف اور انکا طرز عمل:
رسول اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو اپنی امت میں رونما ہونے والے فتنوں سے باخبر کر دیا تھا، انہی امور میں سے ایک وہ راز تھا، جس سے حضرت علیؑ کو آگاہ فرمایا کہ ایک قوم تمہاری محبت کا اظہار کرے گی اور اس میں غلو کی حد تک پہنچ جائے گی اور اس کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو کر کفر و شرک کی حدوں میں داخل ہو جائے گی۔ احمد بن شاذان نے اپنی اسناد سے امام صادق  ؑسے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے اور انہوں نے علی ؑسے بیان کیا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "اے علی میری امت میں تیری مثال عیسیٰ بن مریمؑ کی ہے، ان کی قوم ان کے حوالے سے تین گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ مومن تھا اور یہ ان کے حواری تھے، دوسرا گروہ ان کا دشمن تھا، جو کہ یہودی تھے۔ تیسرا گروہ وہ تھا، جنہوں نے ان کے بارے میں غلو کیا اور ایمان کی حدود سے خارج ہوگئے۔ میری امت تیرے بارے میں تین گروہوں میں تقسیم ہوگی۔ ایک گروہ تمہارا شیعہ ہوگا اور یہ مومنین ہوں گے، دوسرا گروہ تمہارا دشمن ہوگا اور یہ شک کرنے والے ہوں گے، تیسرا گروہ تمہارے بارے میں غلو کرنے والا ہوگا اور یہ منکرین کا گروہ ہوگا۔ اے علی! جنت میں آپ اور آپ کے شیعہ جائیں گے اور جہنم تمہارے دشمنوں اور غلو کرنے والوں کا ٹھکانہ ہوگی۔"(۳۱)

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے خود فرمایا ہے: "میرے بار ے میں دو قسم کے افراد ہلاک ہوں گے، ایک غالی محب اور دوسرا دشمن جفا کار۔"(۳۲) ابن نباتہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی ؑنے فرمایا: "خدایا! میں غلو کرنے والوں سے ایسے بیزار اور بری ہوں، جس طرح عیسیٰ بن مریم عیسائیوں سے بری اور بیزار تھے۔ اے اللہ ان (غالیوں کو) ہمیشہ ذلیل و رسوا فرما اور ان میں سے کسی کی بھی نصرت نہ فرما۔"(۳۳) آپ ؑ نے ایک اور مقام پر فرمایا: "ہمارے بارے میں غلو سے پرہیز کرو، کہو کہ ہم پروردگار کے بندے ہیں، اس کے بعد ہماری فضلیت میں جو چاہو کہو۔"(۳۴) امام صادق  ؑسے روایت ہے کہ یہودی علماء میں سے ایک شخص امیر المومنین ؑکے پاس آیا اور کہا اے امیر المومنین! آپ کا خدا کب سے ہے۔؟ آپ ؑ نے فرمایا: "تیری ماں تیرے غم میں روئے میرا خدا کب نہیں تھا؟ جو یہ کہا جائے کہ کب سے تھا، میرا خدا کب سے پہلے تھا، جب کب نہ تھا اور بعد کے بعد بھی رہے گا، جب بعد نہ ہوگا، اس کی کوئی غایت نہیں اور اس کی غایت و انتہاء کی حد نہیں، حد انتہا اس پر ختم ہے، وہ ہر انتہا کی انتہا ہے۔" اس نے کہا: اے امیر المومنین کیا آپ نبی ہیں۔؟ آپ ؐ نے فرمایا: "وائے ہو تم پر! میں تو محمد ؐ کے غلاموں میں ایک غلام ہوں۔"(۳۵)

غالیوں کیساتھ امیر المومنین ؑکا سلوک:
عبداللہ بن سبا اصل میں یمن کا رہنے والا اور صنعا کے یہودیوں میں سے تھا۔ حجاز، بصرہ اور کوفہ میں اس کا بہت آنا جانا تھا۔ حضرت عثمان کے زمانے میں دمشق کا سفر کیا تو اہل شہر نے اسے شہر سے نکال دیا، اس کے بعد یہ مصر چلا گیا۔ وہاں حضرت عثمان کے خلاف جو شورش برپا ہوئی، اس میں پیش پیش تھا اور ان کے زبردست مخالفوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔(۳۶) ابن سبا کے حالات میں ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ خیال کیا کہ امیر المومنین علی ؑ خدا ہیں اور مقام الوھیت رکھتے ہیں، جب حضرت علی  ؑتک یہ خبر پہنچی تو آپ نے ابن سبا کو بلایا اور اس بارے میں پوچھا تو اس نے واضح طور پر اپنے عقیدے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں تو وہ (خدا) ہے، میرے دل میں یہی الہام ہوا ہے کہ تو خدا ہے اور میں تیرا رسول ہوں۔ امیر المومنین ؑنے اسے فرمایا "وائے ہو تم پر! شیطان نے تجھ سے مذاق کیا ہے، تیری ماں تیری میت پر روئے۔ اس سے روگردانی کر اور توبہ کر۔" اس نے قبول نہ کیا۔ حضرت امیر ؑنے اسے زندان میں ڈال دیا اور اسے تین دن کی مہلت دی، تاکہ وہ توبہ کر لے، لیکن اس نے توبہ نہ کی۔ حضرت علی ؑ نے اسے آگ میں جلا دیا اور فرمایا "اس پر شیطان مسلط ہوگیا تھا، وہ اس کے پاس آتا تھا اور یہ عقیدے اسے تلقین کرتا تھا۔"(۳۷)

اس حوالے سے ایک اور واقعہ بھی تاریخ میں نقل ہوا ہے: جنگ جمل کے بعد قوم زط (جٹ) کے بعض افراد جو کہ سبائیہ (عبد اللہ بن سبا کے پیروکار) تھے اور ان کی تعداد ستر تھی، حضرت علی ؑکے پاس آئے، سلام کیا اور اپنی زبان میں آپ سے گفتگو کی، آپ نے انھیں کی زبان میں جواب دیا۔ آپؑ نے انہیں کہا: "جیسا تم کہہ رہے ہو، وہ نہیں ہوں، میں اللہ کا بندہ اور مخلوق ہوں۔" ان لوگوں نے حضرت علیؑ کی بات کا انکار کیا اور ان سے کہا تو ہی خدا ہے۔ آپ نے انہیں کہا: "اگر ان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ نہیں کرو گے، جو تم نے میرے بارے میں کہی ہیں تو تم سب کو قتل کر دوں گا۔" وہ اپنی باتوں پر ڈٹے رہے اور ہرگز توبہ نہ کی، حضرت علی ؑ نے ان کے لیے زمین میں گڑھے کھودنے کا حکم دیا۔ گھڑھے کھودے گئے اور ان کے درمیان سوراخ کرکے انہیں آپس میں ملا دیا گیا، پھر ان افراد کو ان گڑھوں میں ڈالا گیا اور ان گڑھوں کا منہ بند کر دیا گیا، ایک خالی گڑھے میں آگ جلائی گئی۔ دھوئیں اور گھٹن کی وجہ سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔(۳۸) البتہ اس واقعے کو ایک اور طرح سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ حضرت علی ؑکے حکم کے مطابق گڑھوں میں آگ جلائی گئی اور پھر آپ نے اپنے غلام قنبر کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ کر آگ میں ڈالے۔ اس طرح سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔ اس بارے میں ایک شعر بھی حضرت علی ؑسے منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا :
انی اذا البصرت امراً منکراً   او قدرت ناری ودعوت قنبراً
ثم احفرت حضراً فحفراً       وقنبر یحطم حطما ً منکراً
  (۳۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 871522
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش