0
Saturday 4 Jul 2020 13:55

ملی یکجہتی کونسل کا فرقہ واریت کے خلاف تجدید عزم

ملی یکجہتی کونسل کا فرقہ واریت کے خلاف تجدید عزم
تحریر: سید ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل نے اپنے ایک حالیہ سربراہی اجلاس (منعقدہ 2 جولائی 2020ء) میں فرقہ واریت کے خلاف تجدید عزم کا اعلان کیا ہے۔ قائدین نے واضح طور پر کہا کہ ملی یکجہتی کونسل فرقہ واریت کے خلاف معرض وجود میں آئی ہے اور اس کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کو عبرت ناک شکست ہوئی ہے۔ کونسل کے قائدین نے تکفیریت اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے شب و روز مساعی کی ہیں، ہم ان کوششوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اس ٹیلی کانفرنس کی صدارت ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کی۔ کانفرنس سے لیاقت بلوچ، سید ثاقب اکبر، پیر ہارون علی گیلانی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالغفار روپڑی، خرم نواز گنڈا پور، عبداللہ گل، مفتی گلزار احمد نعیمی، صاحبزادہ سلطان احمد علی، حافظ زبیر ظہیر، پیر سلطان خالد قادری، قاضی ظفر الحق، سید ناصر شیرازی، صابر کربلائی، مرزا ایوب بیگ، مولانا اللہ وسایا، سید سجاد نقوی، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، نذیر احمد جنجوعہ اور لطیف الرحمن شاہ نے اظہار خیال کیا۔

اس کانفرنس میں دیگر اہم موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی اور کونسل کے اعلامیہ میں ان تمام موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن حمایت کا عہد بھی شامل ہے، تاہم اعلامیہ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ملک بھر میں کرونا کی آڑ میں زائرین، تبلیغی جماعت اور بیرون ملک پاکستانیوں کی پاکستان آمد کی آڑ میں بدترین فرقہ وارانہ شدت کی آگ بھڑکائی گئی ہے، سوشل میڈیا پر آگ اگلتی مہم بہت تشویش ناک ہے۔ حکومت اس کا سد باب کرے۔ ملی یکجہتی کونسل نے تمام جماعتوں کے سوشل میڈیا سیکشن کے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کر لیا ہے، تاکہ مشترکہ طور پر ان سازشوں کا سد باب کیا جاسکے۔

کونسل کے قائدین کو اس امر پر تشویش تھی کہ موجودہ حکومت کئی ایک اہم امور پر بانی پاکستان کے موقف سے انحراف کر رہی ہے، اس سلسلے میں فلسطین کے بارے میں کونسل کے متفقہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کونسل نے فلسطینیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و جبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدی کی ڈیل کا امریکی صہیونی فارمولا ملت اسلامیہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ اتحاد امت ہی فلسطین و کشمیر اور عالم اسلام کے تمام مسائل کا علاج ہے۔ ہم حماس اور جہاد اسلامی کو فلسطینی ارمانوں اور حقوق کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور فلسطین کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں فلسطین کے بارے میں دیے گئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کو ہم مسترد کرتے ہیں اور اسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی سے انحراف قرار دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران میں فلسطین کے مسئلے کو دو ریاستی اصول کی بنا پر حل کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گذشتہ حکومتوں کی بھی یہی پالیسی رہی ہے جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتے تھے اور اسی اجلاس میں اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے یہی بات دہرائی اور قائد اعظم کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے تکرار سے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فاشزم کی مذمت کرتے ہوئے اعلامیہ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ غفلت اور سرد مہری اختیار کی ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان کی بے عملی کشمیری عوام اور قیادت میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔

اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں حال ہی میں فرقہ واریت کی جو نئی لہر برپا کی گئی ہے، کونسل کے قائدین نے اس کے سدباب کے لیے مثبت کردار کیا ہے۔ متعدد قائدین نے رسول اکرم ؐ کی صاحبزادی خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا کے بارے میں کی گئی بے ادبی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ان سے محبت اور عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ سب قائدین نے اس امر کا اعلان کیا کہ ہم ملی یکجہتی کونسل کی اساسی دستاویز جس پر تمام مکاتب فکر کے بلند مرتبہ علمائے کرام اور قائدین کے دستخط موجود ہیں، پر کاربند رہیں گے۔ اہل بیت اطہار ؑ ، صحابہ کرام ؓ ، امہات المومنین ؓ اور امام مہدی ؑ کا احترام ہمارا مشترکہ سرمایہ ہے۔ جو لوگ مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ اسلام دشمنوں کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ ہم مل کر ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور پاکستان میں فرقہ واریت اور تکفیریت کو نئے سرے سے سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 872491
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش