?>?> ​​​​​​​امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سماج کا ایک پہلو(2) - اسلام ٹائمز
0
Sunday 5 Jul 2020 10:32

​​​​​​​امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سماج کا ایک پہلو(2)

​​​​​​​امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سماج کا ایک پہلو(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گارڈین اخبار کے مطابق امریکی مدارس میں فائرنگ امریکی روح کا حصہ بن چکی ہے۔ بعض سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں تشدد سماجی تشدد کا پرتو اور نتیجہ ہے، وہ جو معاشرے میں ہو رہا ہے، وہی کچھ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ہو رہا ہے۔ امریکہ میں ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں جب بھی کوئی پرتشدد کارروائی ہوئی ہے تو امریکی شہریوں میں ہتھیاروں کی خریداری بڑھ جاتی ہے اور لوگوں میں مسلح ہونے کا جذبہ اور تقاضا بڑھنے لگتا ہے۔ امریکہ میں پبلک مقامات پر کئی بار فائرنگ کے واقعار ہوچکے ہیں، جن میں سے چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 15 اپریل 2007ء میں ورجینا یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ ہوا، جس میں 32 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ 14 دسمبر 2012ء میں سنڈے ہوک نیو ٹائوں میں فائرنگ کی کارروائی میں 28 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

12 جون 2016ء فلوریڈا ریاست میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب پر حملہ ہوا، جس میں 50 افراد ہلاک اور 52 سے زائد زخمی ہوئے۔ لوس وگاس کے موسیقی کے کنسرٹ میں ہونے والے واقعہ میں 50 ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ ورجینا کی بلدیہ کی عمارت میں 12 افراد موت کا شکار ہوئے، اسی طرح 2019ء میں ٹیکساس میں ہونے والے ایک پرتشدد واقعہ میں 20 افراد ہلاک اور کم سے کم 26 بری طرح زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بارے میں سن کر ہر باشعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اتنے واقعات کے باوجود حکومت ہتھیاروں پر پابندی کا فیصلہ کیوں نہیں کرتی اور حکومت نے آتشیں ہتھیاروں کی خرید و فروخت کی کیوں چھوٹ دے رکھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ہتھیاروں کی صنعت اور اس سے متعلقہ لابیاں اتنی مضبوط اور مستحکم ہیں کہ امریکہ کے قانون ساز اداروں اور اعلیٰ حکام پر نہایت موثر ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ قانون ساز اداروں اور اعلیٰ احکام حتیٰ وائٹ ہائوس تک اتنا مضبوط اور گہرا ہے کہ ان تمام حملوں اور قتل و غارت کے باوجود ہتھیاروں کی خرید و فروش پر پابندی کے حوالے سے باقاعدہ قانون سازی ممکن نہیں۔ امریکی کانگریس ہو یا ریاستی اسمبلیاں، دونوں میں ہتھیاروں کی صنعت سے وابستہ افراد اور ان کی لابی نہایت قوی ہے۔ لہذا وہ گانگریس میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت کی اول تو مخالفت نہیں کرتے اور اگر اپنے آپ کو لابیوں سے آزاد ظاہر کرنا ہو تو ووٹنگ میں حصہ نہیں لیتے۔ جب قانون ساز ادارے ہتھیاروں کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں سے رابطے میں ہوں تو ان اداروں سے ایسے کسی قانون کی منظوری کیسے ممکن ہے، جس سے امریکہ میں ہتھیاروں کی خرید و فروش کو روکنا ممکن ہے۔ امریکہ میں ہتھیاروں کی صنعت کا سالانہ سرمایہ 14 کھرب ڈالر ہے اور اس سے حکومت کے خزانے میں ٹیکس کی مد میں ساڑھے پانچ کھرب ڈالر جاتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں کسی بھی پرتشدد واقعہ کے بعد اسلحے کی صنعت اور اس شعبے سے متعلق حصص کی مارکیٹ میں کئی درجے اضافہ ہو جاتا ہے۔ فارچوں نامی میگزین نے 2017ء میں ایک مقالہ تحریر کیا تھا، جس میں آیا تھا کہ لاس وگاس کے پرتشدد واقعہ میں جس میں 59 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس واقعہ کے بعد سرمایہ داروں نے اسلحہ کی صنعت کے حصص خرید کر بے پناہ ڈالر کمائے، کیونکہ اس واقعہ کے بعد اسلحہ ساز فیکٹریوں کے شیئرز کی قیمت میں چند دن میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا۔ حقیقیت یہ ہے کہ امریکہ میں جب بھی کوئی فائرنگ کا واقعہ ہوتا ہے تو عوام اپنی حفاظت کے لیے بہتر سے بہتر اسلحے کی خریداری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جس سے ہتھیاروں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتا ہے اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو اس سے 90 میلین ڈالر کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہتھیاروں کی صنعت سے وابستہ سرمایہ کار اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ میں ہتھیاروں کی آزادانہ خرید و فروخت پر کسی طرح کی پابندی عائد نہ کی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا سرمایہ دار طبقہ اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے امریکی عوام کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرامپ بھی ہتھیاروں کی صنعت سے وابستہ افراد کے سرمائے اور حمایت سے وائٹ ہائوس تک پہنچے ہیں۔ اس موضوع پر امریکی میڈیا نے کئی بار اشارے کیے ہیں کہ ملک امریکہ میں اسلحہ کی قومی انجمن اور قانون ساز اداروں کو اسلحہ ساز کمپنیوں پر مشتمل لابی نے ڈونالڈ ٹرمپ کےذریعے بلیک میل کر رکھا ہے اور اس کی واضح مثال ڈونالڈ ٹرمپ کے وہ مواقف ہیں، جو انھوں نے اس طرح کے پرتشدد واقعات کے بارے میں اختیار کیے ہیں۔ مثال کے طور پر فلوریڈا میں فائرنگ کے  واقعہ میں ہلاک ہونے والے پسماندگان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرامپ نے اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مالکان پر مشتمل انجمن کو وطن دوست قرار دیا تھا اور اس لابی کی کھل کر حمایت کا بھی اعلان کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 872592
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش