0
Saturday 11 Jul 2020 17:07

ذوالفقار مرزا کی شہرت کا راز اور عذیر بلوچ سے تعلق

ذوالفقار مرزا کی شہرت کا راز اور عذیر بلوچ سے تعلق
رپورٹ: ایس ایم عابدی

سندھ حکومت نے لیاری کے مشہور زمانہ گینگسٹر عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سابق سربراہ نثار مورائی کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹی) کی رپورٹ جاری کر دی ہیں۔ ان میں سے دو رپورٹس ایسی ہیں جن میں سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام مشترک ہے۔ نیوز ویب سائٹ سجاگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نثار مورائی نے ذوالفقار مرزا کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ انہوں نے الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا مقابلہ کرنے کے لئے آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی کی مالی امداد کی اور انہیں اسلحہ بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔

نثار مورائی نے یہ بھی بتایا کہ وہ خود 2008ء کے الیکشن میں ذوالفقار مرزا کی سیاسی مہم کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے ذوالفقار مرزا کو تحفے کے طور پر اسلحہ اور گاڑی بھی دی۔ عذیر بلوچ کے حوالے سے بنائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذوالفقار مرزا لیاری میں گینگ وار کے اہم کرداروں کی کھل کر حمایت کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جب عذیر بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے دوری اختیار کرلی، اس کے بعد بھی ذولفقار مرزا سیاسی اور انفرادی حیثیت میں اس کا ساتھ دیتے رہے۔

ذوالفقار مرزا ہیں کون؟
سندھ ہائی کورٹ کے ایک سابق جج ظفر حسین مرزا کے بیٹے ذوالفقار مرزا 1954ء میں سندھ کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ سن 1980ء میں انہوں نے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد وہ پاک فوج میں میڈیکل کور میں کیپٹن بن گئے۔ بعد ازاں کاکول اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان نیوی میں چلے گئے۔ سن 1985ء میں جب جنرل ضیاءالحق نے ریفرنڈم کرایا تو اس کی مخالفت پر ذوالفقار مرزا کو فوج سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ پی آئی اے سے منسلک ہوگئے، جہاں انہوں نے 1989ء تک کام کیا۔ سن 1989ء میں بےنظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں ذوالفقار مرزا پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور انتخابی سیاست کا باقاعدہ آغاز کر دیا، اسی دوران انہوں نے بدین میں ایک شوگر مل لگائی، جس کے بعد وہ بدین میں ہی آباد ہوگئے۔

سن 1993ء میں انہوں نے یہیں سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑا، جس میں کامیابی کے بعد وہ قومی اسمبلی کے رُکن بنے۔ اس دوران وہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے انتہائی قریب رہے۔ ذوالفقار مرزا پر قتل اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات لگے، جس کے بعد وہ 12 سال کے لئے روپوش ہوگئے۔ سن 2008ء میں انہوں نے بدین سے ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لیا اور صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر سندھ کے وزیر داخلہ بنے۔ ذولفقار مرزا کی اہلیہ فہمیدہ مرزا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے منسلک رُکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ہیں جبکہ اُن کے بیٹے حسین مرزا رُکن سندھ اسمبلی ہیں۔

ذوالفقار مرزا کے خلاف کیا الزامات ہیں؟
ذوالفقار مرزا پر متعدد جرائم پیشہ افراد اور متنازع سیاسی شخصیات سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔ انہوں نے متعدد انٹرویوز میں ایم کیو ایم کے خلاف لیاری کے لوگوں کو مسلح کرنے کا اعتراف کیا۔ انہوں نے آصف علی زرداری کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا بھی اقرار کیا ہے اور ان کی مبینہ طور پر ناجائز کارروائیوں میں ساتھ دینے کا دعوٰی بھی کیا ہے، جس میں رشوت خوری اور بدعنوانی بھی شامل ہیں۔ نثار مورائی کے مطابق 2010ء میں ذوالفقار مرزا نے کراچی کے سرجانی ٹاؤن میں پولیس افسروں کی مدد سے زمینوں پر قبضہ کرکے ان کی فروخت کا کام شروع کیا۔ نثار مورائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذوالفقار مرزا انھیں اپنے ساتھ لے کر لیاری میں عزیر بلوچ سے ملاقات کرنے بھی گئے تھے۔

سن 2008ء سے سن 2011ء تک ذوالفقار مرزا سندھ کے وزیر داخلہ رہے، مگر 28 اگست 2011ء کو انہوں نے حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کے خلاف ایک پریس کانفرنس کی، جس میں وہ الطاف حسین کے ایک مبینہ ملک دشمن منصوبے کو بھی منظرعام پر لائے۔ اس پریس کانفرنس کے نتیجے میں انہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اگرچہ اگلے پانچ سال وہ پیپلز پارٹی کی عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے، مگر وقتاً فوقتاً وہ اس کی قیادت اور دوسرے رہنماؤں پر بدعنوانی، رشوت خوری، انتخابی دھاندلی اور کئی دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے کئی الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اب وہ آصف علی زرداری کے شدید ترین ذاتی اور سیاسی دشمنوں میں تصور کئے جاتے ہیں۔

ذوالفقار مرزا کا عذیر بلوچ سے کوئی تعلق نہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی بنائی گئی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اپنے شوہر ذوالفقار مرزا کی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے میدان میں آئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں چیلینج کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بنائے جے ڈی اے اتحاد کی رہنما کا کہنا ہے کہ امریکہ سے کوئی رحمن ڈکیٹ کو فون کرکے پیپلز پارٹی کے جلسے کرانے کیلئے کہتا تھا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا جن کے شوہر کو پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ کی وزارت داخلہ دی گئی، ان کے بیٹے کو پیپلز پارٹی نے رکن اسمبلی بنایا اور خود انہیں اسپییکر قومی اسمبلی کا قابل عزت عہدہ دیا، پیپلز پارٹی کو دھمکی دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ “ہم بات کریں گے تو پیپلز پارٹی کو تکلیف ہوگی۔” انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام شامل نہیں، یہ نام پتہ نہیں کہاں سے رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا نے 2011ء میں استعفیٰ دے دیا تھا، عذیر بلوچ کے گھر فریال تالپور گئی تھیں اور اب کہتی ہیں کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ گھر عذیز بلوچ کا تھا۔
خبر کا کوڈ : 873673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش