0
Saturday 11 Jul 2020 23:00

کشمیر میں ہماری ضرورت پیش آئی تو ضرور پہنچیں گے، حزب اللہ لبنان

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار کا انعقاد
کشمیر میں ہماری ضرورت پیش آئی تو ضرور پہنچیں گے، حزب اللہ لبنان
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

عالمی استعماری سازشوں کے ذریعے عالم اسلام کے قلب میں اسرائیلی صیہونی ریاست بنا کر ایک خنجر پیوست کیا گیا، اسلامی دنیا کا وجود اس سے نجات حاصل کیے بغیر توانا نہیں ہو سکتا۔ وقت کیساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں نے فلسطینیوں سے خیانتیں شروع کر دیں، لیکن ملت پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ شروع سے مظلوم فلسطینیوں کیساتھ کھڑے ہیں۔ فلسطین و کشمیر کی موجودہ مخدوش صورتحال کے پیش نظر فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے زیراہتمام یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار کا انعقاد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو کیا گیا۔ ویبنار سے فلسطین، مقبوضہ کشمیر، ایران، ملایشیاء، انڈونیشیا، لبنان اور پاکستان سے مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ ویبنار سے اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے رہنماؤں کی گفتگو قارئین کے استفادہ کیلئے پیش ہے۔

ویبنار سے سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر مشتاق احمد، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جماعت اسلامی مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، تحریک نوجوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل اور صابر ابو مریم نے خطاب کیا۔ جبکہ فلسطین سے اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما ڈاکٹر خالد قدومی، غزہ کے علاقہ سے وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر عبداللطیف حاج، مقبوضہ کشمیر سے شبیر ڈار، مجاہد گیلانی، منتظر مہدی، عبدالحمید لون، ایران سے معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید محمد مرندی، ڈاکٹر فواد ایزادی، ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناڈولو نیوز ایجنسی کے نمائندہ افتخار گیلانی، لبنان سے حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم موسوی، فلسطینیوں کے حق واپسی کی عالمی تنظیم کے ڈائریکٹر عبد المالک، ملیشیا سے اسلامک آرگنائزیشن کے سینئر رہنما داکٹر عزمی عبد الحمید، اور انڈونیشیاء سے وائس آف فلسطین کے صدر مجتھد ہاشم نے آن لائن خطاب کیا۔ یہ آن لائن کانفرنس مختف سوشل میڈیا صفحات پر براہ راست نشر کی گئی۔

1۔ پی ایل ایف کے سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم:
یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا او ر کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کورونا وائرس کی صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کی نظریں فلسطین و کشمیر میں ہونے والے مظالم سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا بھر میں فلسطین، کشمیر، یمن، افغانستان سمیت لیبیا اور دیگر خطوں کے مظلوم اقوام کی آواز بلند کریں۔ ان کاکہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے نئے عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں، مسئلہ فلسطین ہماری توجہ کا طلبگار ہے، کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت کا قبضہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

2۔ حماس کے رہنما ڈاکٹر خالد قدومی:
آن لائن یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا کہ دنیا آج امریکی رویہ کو دیکھ رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنے امریکی عوام کے ساتھ پیش آ رہے ہیں، امریکی سرپرستی میں اسرائیل ستر سال سے فلسطینیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے، اسرائیل نہ صرف فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے بلکہ عالمی قوانین کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اب غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اسرائیل پہلے ہی پورے فلسطین پر قابض ہے، آج عرب اور غیر عرب یا مسلمان اور شیعہ سنی کی بات نہیں بلکہ اسرائیل مکمل طور پر انسانیت کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور فلسطینی عوام اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل صرف فلسطینیوں کے لئے نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک اور دنیا کی تمام اقوام کا دشمن اور ان کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

3۔ حزب اللہ لبنان کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم موسوی:
آن لائن یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم موسوی نے کہا کہ حزب اللہ فلسطین کی آزادی کے قریب پہنچ چکی ہے عنقریب قبلہ اول بیت المقدس آزاد ہو گا۔ ان کاکہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا کشمیر کا دونوں ہی انسانیت کے اہم ترین مسائل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے فلسطین کاز کی حمایت پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج عرب و مسلم حکمرانوں کو چاہئیے کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر درج تحریر کہ جس میں اسرائیل کا سفر نہیں کیا جا سکتا اس سے سبق حاصل کریں اور اسی راستہ کو اپنائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج امریکہ اسرائیل کو بچانے کے لئے نہ صرف غزہ کا محاصرہ کئے ہوئے ہے بلکہ اب یمن، شام، لبنان، ایران سمیت اور ملک اور حکومت امریکی دہشت گردانہ عزائم اور پابندیوں سمیت دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بن رہی ہے جو فلسطین کی آزادی کے لئے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلہ کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ تیار ہے کشمیر میں ہماری ضرورت پیش آئی تو ضرور کشمیر پہنچیں گے۔

4۔ ایران سے تجزیہ کار ڈاکٹر سید محمد مرندی اور ڈاکٹر فواد ایزدی:
ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید محمد مرندی اور ڈاکٹر فواد ایزادی نے کہا کہ امریکہ خطہ کے اقوام کو نسلی، مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ایجنڈا پر عمل پیر اہے اور اس کام کے لئے امریکہ نے ایران سمیت عرب دنیا میں فارسی اور عربی ذراءع ابلاغ کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد عرب اور غیر عرب اقوام میں تفریق پھیلائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ فلسطین آج بھی دنیا کے تمام مسائل میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور دنیا کے تمام مسائل کا حل مسئلہ فلسطین کے منطقی اور منصفانہ حل میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے ہم آپس می متحد ہو جائیں، فلسطینی قوم ک مسلسل نسل کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا کے سامنے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل مردہ ہو چکا ہے، فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہے اور اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کشمیر کا فیصلہ بھی کشمیری عوام کو کرنے دیا جائے، پاکستانی حکومت کشمیر کی مسلسل حمایت کر رہی ہے جس پر اسے خراج تحسین پیش کرنا چاہئیے، مسلم دنیا کے حکمران صرف اور صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں اور چند عرب حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا لئے ہیں، تجارت کر رہے ہیں، لہذا یہ طریقہ صرف فلسطین کاز کو ہی نہیں بلکہ کشمیر سمیت عالم اسلام کے تمام مسائل ک لئے نقصان دہ ہے۔

5۔ سینیٹر مشاہد حسین سید:
یکجہتی فلسطین و کشمیر ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا فلسطین سے تعلق قیام پاکستان سے بھی پہلے کا ہے، اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرسکتے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان واحد غیر عرب ملک تھا، جس نے اسرائیل کے چار لڑاکا طیاروں کو تباہ کیا، فلسطین پر قابض صہیونی ریاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا، فلسطین فاؤنڈیشن کے زیراہتمام بین الاقوامی یکجہتی ویبنار برائے فلسطین اور کشمیر سے اپنے خطاب میں سینیٹ میں چیئرمین برائے بین الاقوامی امور، صدر پاکستان پارلیمنٹری فورم برائے فلسطین، کشمیر اور روہنگیا، چیئرمین ساوتھ ایشیاء القدس سینیٹر مشاہد حسین سید نے فلسطین فاؤنڈیشن کی جانب سے بروقت فلسطین اور کشمیریوں کے لئے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ صرف مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام سے جڑا ہوا نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا میں انصاف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت انسانی حقوق کے مسائل اور حق خود ارادیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

6۔ سینیٹر ستارہ ایاز:
پاکستانی سینیٹر ستارہ ایاز نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین و کشمیر کا منصفانہ حل ہوئے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، عالمی برادری نے کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا نے مسئلہ فلسطین و کشمیر کے لئے سنجیدہ و عملی اقدامات نہیں کئے، صرف زبانی جمع خرچ سے فلسطین و کشمیر کو آزاد نہیں کیا جا سکتا، اقوام متحدہ میں متعدد عرب ممالک مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر خاموشی اختیار کرتے جس کا فائدہ اسرائیل اور بھارت کو پہنچ رہا ہے۔

7۔ سینیٹر مشتاق احمد:
سینیٹر مشتاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سینیٹ آف پاکستان میں فلسطین سے متعلق پیش کردہ امریکی نام نہاد امن منصوبہ صدی کی ڈیل کو ایک متفقہ قرار داد کے ذریعہ مسترد کیا گیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجتی کو فروغ دینے پر زور دیا اور مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیل اور بھارت کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور تمام اراکین سینیٹ کو فلسطین سے متعلق اور صدی کی ڈیل کو مسترد کرنے پر متفقہ قرار داد منظور کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

8۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری:
آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ فلسطین و کشمیر کی حمایت ہمارا قومی فریضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج امریکہ اپنی طاقت کھو چکا ہے، خود امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کا احتجاج امریکی حکومت کے لئے مصیبت بن چکا ہے، امریکی اقتدار آخری ہچکیاں لے رہاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ نے اسرائیل کی ناک زمین پر رگڑ دی ہے، آج غزہ سے ڈرون اور میزائل حملے براہ راست تل ابیب کو نشانہ بنا رہے ہیں، فلسطینیوں کی مزاحمت طاقتور ہو رہی ہے اور اس کا کریڈٹ اسلامی جمہوریہ ایران کو جاتا ہے کہ جس نے فلسطینیوں کی بلا مشروط مدد کی اور انہیں طاقتور بنا دیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر سے متعلق کہا کہ میں کشمیر میں بھی اسی طرح کی مزاحمت کی طاقتور بنانا ہو گا، کشمیر کے عوام کی بھرپور مدد کرنا ہو گی۔

9۔ تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین عبد اللہ گل:
ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین عبد اللہ گل کا کہنا تھا کہ آج مغربی قوتیں ہمارے خلاف متحد ہو چکی ہیں لیکن افسوس ہے کہ ہم آج بھی منتشر ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ سامراجی قوتوں کا مقابلہ متحد ہو کر کرنا ہو گا۔ انہوں نے عرا ق میں امریکی دہشت گردانہ حملہ میں شہید کئے جانے والے القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکی حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی فلسطین کاز کے لئے سرگرم عمل تھے انہوں نے فلسطین کاز کے لئے جد وجہد کی ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، ملیشیا کے سینئر رہنما ڈاکٹر عزمی عبد الحمید اور انڈونیشیا سے مجتھد ہاشم نے فلسطین میں اسرائیل کے مظالم پر شدید نفرت اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم کو اسرائیلی اور ہندوستانی حکومت کا گٹھ جوڑ سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان سنہ 1960ء سے اسرائیل سے بڑی تعداد میں اسلحہ خرید رہاہے اور اس کا استعمال کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام پر کیا جاتا ہے۔ آن لائن ویبنار میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت بشمول شبیر ڈار، عبدالحمید لون، مجاہد گیلانی اور افتخار گیلانی سمیت منتظر مہدی نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برداری کی توجہ مبذو ل کروانے اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ اقوام عالم سے اپیل کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھارتی حکومت کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں۔

واضح رہے کہ عالمی اسلامی تحریکوں اور مظلومین جہان کی نظریں پاکستان سمیت عالم اسلام کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ مظلومین فلسطین و کشمیر کی حمایت میں آواز بلند کرنا، مسلمان حکمرانوں کو صیہونی اور اسلام دشمن طاقتوں کیخلاف متحد ہو کر درست پالیسی اختیار کرنے کیلئے کوشش کرنا، ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن سرگرمیاں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں کشمیر و فلسطین کانفرنس کے 25 سال بعد اس سطح پہ عالمی اسلامی رہنماؤں کا مل بیٹھ کر فلسطین و کشمیر کاز کیلئے گفتگو کرنا اور مظلومین کیساتھ یکجہتی کا اظہار ایک قابل قدر عمل تھا، انشا اللہ امت مسلمہ کے دردمند کارکنان ہر طرح سے فلسطین و کشمیر سمیت ہر جگہ ہونیوالے مظالم کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہینگے۔
خبر کا کوڈ : 873868
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش