0
Thursday 16 Jul 2020 11:08

​​​​​​​ایران افغانستان جامع اسٹرٹیجک تعاون

​​​​​​​ایران افغانستان جامع اسٹرٹیجک تعاون
اداریہ
ایران اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ملک ہیں، دونوں کے ہاں کئی شعبہ جات میں قریبی تعلقات ہیں اور ان میں روز بروز فروغ بھی آرہا ہے۔ کچھ دن پہلے کرونا کی شدید ترین لہر میں افغانستان کے نگران وزیر خارجہ چیف اتمر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران آیا تھا اور اس میں ایران افغانستان جامع اسٹریٹیجک تعاون کے بارے میں تفصیل سے بات چیت ہوئی تھی۔ افغان وفد کے کامیاب دورے کے بعد اب ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابل کا دورہ کیا ہے، جہاں ان کی ملاقات افغانستان کے نگران وزیر خارجہ سے ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں افغانستان میں امن کے قیام اور جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے لیے تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔

ایران نے سویت یونین کے حملے اور طالبان کے اقتدار میں افغان مہاجرین کی بہترین میزبانی کی۔ ایران نے افغانستان سے آئے مہاجرین کو نہ صرف ہنگامی حالات میں پناہ دی، بلکہ اس وقت بھی تیس لاکھ افغانی ایران میں زندگی گزار رہے ہیں، گویا ایران کی کل آبادی میں سے چار فیصد افغان مہاجر ہیں، جبکہ دوسری جانب افغانستان کی آبادی کے گیارہ فیصد افغان باشندے ایران میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایران افغان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے مختلف علاقائی اور عالمی عناصر ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔

لیکن دونوں ممالک کے عوام اور حکومتیں ابھی تک ان سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ایران اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور افغانستان میں ایران دشمن کارروائیاں اور گروہوں کو کنٹرول کرنے کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے حالیہ دورہ جات نہایت موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بعض عالمی اور علاقائی طاقتیں افغانستان کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی خواہشمند ہیں، اس پر افغان عوام اور حکام کو اس پر توجہ دینا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 874859
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش