2
Wednesday 29 Jul 2020 00:40

ہوئے تم دوست جس کے

ہوئے تم دوست جس کے
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ہم نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی، یہ وہ وقت تھا کہ جب اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا تھا کہ تبلیغی جماعت لاوارث نہیں، اس وقت ہم نے عرض کیا تھا کہ قارئین محترم! اس میں خوش ہونے کی بات نہیں، ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ یہ نام نہاد سیاسی لوگ دینی طبقوں کو ذلیل کروانے کے بعد اس طرح کے بیانات دے کر اپنا حقیقی چہرہ چھپا لیتے ہیں۔ یہ لوگ سلفی و اہلحدیث و  دیوبندی و شیعہ و بریلوی میں سے کچھ بھی نہیں، یہ کسی کے دوست اور ہمدرد نہیں، بلکہ ان سیاسی چودھریوں کو یہ فن آتا ہے کہ کسی کے ساتھ کس وقت کس طرح کی بات کرکے اُسے خوش کیا جا سکتا ہے!

اس کے بعد ہم نے ایک کالم بعنوانِ اسپیکر پنجاب اسمبلی تکفیریوں کے نرغے میں لکھا تھا، جس میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ آج پنجاب اسمبلی میں معاویہ اعظم طارق اپنے والد کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُنہیں خدیجہ عمر فاروقی، حافظ عمار یاسر، حافظ ممتاز، کامل علی آغا اور بشارت راجہ سمیت کئی اہم شخصیات کا تعاون اور سرپرستی بھی حاصل ہے۔ بہر حال دمِ تحریر تحفظ بنیاد اسلام بِل اپنے بل سے باہر آچکا ہے۔ آپ یہ مت سمجھیں کہ اس بِل کے مندرجات سے جنابِ اسپیکر اور اُن کے معزز اراکینِ اسمبلی لاعلم تھے، بلکہ انہوں نے پہلے تکفیری عناصر کو خوب خوش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ہم دامے درہمے سخنے آپ کے ساتھ ہیں۔ تکفیری عناصر  اس کے بعد آخری حد تک گئے۔ اب جب ردِّعمل سامنے آیا تو  اہل سنت اور اہل تشیع کو بھی خوش کرنے کیلئے جنابِ اسپیکر اور اُن کے ہمکار آگے سے تسلیاں دے رہے ہیں کہ ہمیں تو بل کے متن سے آگاہی نہیں تھی، ہم تو یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔

اس موقع پر پہلے جو بات ہم نے تبلیغی جماعت والوں سے عرض کی تھی، وہی آج پھر اہلِ سُنت اور اہل تشیع سے بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ یہ  بے دین سیاسی لوگ، دینی طبقوں پر شب خون مارنے کے بعد اس طرح کے بیانات دے کر اپنا خونخوار چہرہ چھپا لیتے ہیں۔ یہ لوگ کسی کے دوست نہیں، یہ سلفی، اہلحدیث، شیعہ، بریلوی یا دیوبندی سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہیں بخوبی یہ فن آتا ہے کہ کس وقت کس کو کس کے ساتھ کیسے الجھانا ہے! جتنی بھی دینی گروہوں کے درمیان نفرت اور دوری ہوتی ہے، اُس کا فائدہ انہی بے دین لوگوں کو پہنچتا ہے۔ یہ اس طرح کی چالوں سے دیندار لوگوں کو اپنے پیچھے لگائے رکھتے ہیں۔ مذکورہ بِل کی چال چلنے سے انہیں فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ اب تکفیری بھی ان کے مرہونِ منت ہیں اور ساتھ ہی اس بِل پر مزید مشاورت اور اس کے متن سے عدمِ آگاہی جیسی باتیں کرکے اہلِ سُنّت اور اہلِ تشیع پر بھی اپنا احسان چڑھا رہے ہیں۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ سازشی عناصر تکفیریوں کو بھی صرف ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اِن کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہیں ہر دور میں کچھ نادان تکفیری مولوی مِل جاتے ہیں۔ یہ انہیں مسلکی ہمدردی کا جھانسہ دیکر اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بات صرف اسمبلیوں تک محدود نہیں، ایک نقشے اور منصوبہ بندی کے تحت جس طرح سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل اسمبلیوں میں پہنچا دیئے جاتے ہیں، اُسی طرح ریاست کے دیگر شعبہ جات میں بھی تکفیری عناصر کو اہم پوسٹوں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ پھر جہاں ضرورت محسوس کی جاتی ہے، وہیں فرقہ واریت کی چنگاری سلگائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ متحدہ علماء بورڈ پنجاب کو ہی لیجئے۔ اس کا چیئرمین اہلِ سُنت یا اہل تشیع میں سے کوئی نہیں بلکہ ایک تکفیری شخص ہے اور اس تکفیری حافظ کی عوام میں شہرت کیسی ہے، وہ بھی ہم سب کو معلوم ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ تکفیری حافظ طاہر اشرفی کو  ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ اُسے متحدہ علماء بورڈ پنجاب کا چیئرمین لگایا گیا ہے۔۔۔

اگر ہم توجہ کریں تو ریاستی اداروں میں کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے۔ کچھ کھیل  اسمبلی کے اندر موجود تکفیری عناصر کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے، کچھ منصوبے کی تکمیل متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین طاہر اشرفی کے ذریعے ہو رہی ہے اور کچھ کام  پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ میں گھسے تکفیریوں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ مذکورہ بالا بِل کے بارے میں مولوی طاہر اشرفی کا ویڈیو کلپ  دیکھ لیجئے، موصوف نے اس میں بھی اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں کی تکفیر کی ہے۔ مولوی موصوف کا دعویٰ ہے کہ جنہیں ہم تکفیری رضی اللہ کہیں اُنہیں تم بھی رضی اللہ کہو، ورنہ تم کافر ہو جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کے دونوں فرقے بعض افراد کو منافقین میں سے سمجھتے ہیں اور اُنہیں رضی اللہ نہیں کہتے۔

البتہ پاکستان کے حقیقی وارثوں یعنی اہل سنّت اور اہلِ تشیع کیلئے یہ بہت کٹھن دور ہے۔ یہ کسی بڑے خطرے کی گھنٹی ہے کہ آج پاکستان میں تکفیری عناصر مسلمانوں کو عقائد سکھا رہے ہیں اور پاکستانی بچوں کا نصابِ تعلیم مرتب کر رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر پریشانی کی بات یہ ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کو اپنی فریاد لے کر اُنہی سازشی عناصر کے پاس جانا پڑ رہا ہے، جو دراصل تکفیریوں کے حقیقی سرپرست اور آقا ہیں۔ یہ مجبوری بھی عجیب مجبوری ہے، اب ہم سب کو مل کر اس مجبوری کا حل بھی ڈھونڈنا چاہیئے ورنہ گویا:
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
خبر کا کوڈ : 877210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش