0
Sunday 2 Aug 2020 09:27

​​​​​​​امام خمینی کے افکار و نظریات میں خارجہ سیاست(2)

​​​​​​​امام خمینی کے افکار و نظریات میں خارجہ سیاست(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

امام خمینی کے نظریات میں ایک اور اہم عنصر محروموں اور مستضعفین کا ساتھ دینا اور ان کی حمایت کرنا ہے۔ آپ محرموں، مستضعفوں اور حریت پسندانہ تحریکوں کے شدید حامی نظر آتے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی وہی سامراج دشمنی اور عدل و انصاف کے نفاذ کا نظریہ کارفرما ہے۔ امام خمینی کے افکار و نظریات میں سامراج دشمنی کے دو پہلو ہیں۔ پہلا سامراجی استکبار سے مقابلہ جو تسلط پسندی کا باعث بنتا ہے اور دوسرا ان محرموں اور مستضعفین کی حمایت جو سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ اس حوالے سے امام خمینی فرماتے ہیں کہ ہم مظلوموں کے حامی ہیں، دنیا کے جس خطے میں بھی مظلوم ہیں، ہم ان کے حامی و مددگار ہیں۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ مستضعفین عالم یعنی دنیا کے محروموں کی حمایت کریں، کیونکہ اسلام تمام محروموں اور مستضعفوں کا حامی و پشتیبان ہے۔ امام خمینی کے یہ نظریات قرآنی ہیں اور آپ نے یہ نظریہ سورہ نساء کی آیت نمبر 25 سے اخذ کیا ہے، جس میں قرآن مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہنا ہے کہ خداوند عالم کے راستے میں محروموں اور مظلوموں کی حمایت میں کیوں اٹھ کھڑے نہیں ہوتے جو کمزور عورتوں او بچوں کی صورت میں تمھیں پکار رہے ہیں۔

"اور آخر تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جہاد نہیں کرتے، جنہیں کمزور بنا کر رکھا گیا ہے اور جو برابر دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس قریہ سے نجات دیدے، جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے۔" ایران کے آئین کے شق نمبر 156 میں آیا ہے کہ ایران دنیا کے ہر خطے میں استکباری طاقتوں کے خلاف محروموں کے حق طلبانہ مبارزوں میں محروموں کی مدد کرے گا۔ خارجہ سیاست میں امام خمینی کے نظریات کا ایک اور اہم پہلو امن پسندی اور پرامن بقائے باہمی کا نظریہ ہے۔ اس نظریئے کی بنیادیں اور جڑیں بھی اسلامی و قرآنی ہیں۔ بعض مستشرقین کے اس نظریئے کے برخلاف کہ اسلام صرف امن و صلح کی بات کرتا ہے، نہِیں ایسا نہیں۔ اسلام نہ غلبہ، نہ تسلط اور نہ توسیع پسندی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام اس میں بھی ایک جامع اور کامل موقف کا حامل ہے۔ اسلام دوسروں کے ساتھ اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے پر یقین رکھتا ہے اور جنگ کو صرف ناگزیر اور استثنائی صورتحال میں درست سمجھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تسلط پسندی، اغیار کے غلبے اور توسیع پسندانہ عزائم کو بھی سختی سے مسترد کرتا ہے۔

امام خمینی اس تناظر میں فرماتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات کا بنیادی مقصد و ہدف یہ ہے کہ پوری دنیا میں یکجہتی اور پرامن بقائے باہمی کا دور دورہ ہو۔ ایک اور جگہ پر اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلامی امت تمام قوموں اور ملتوں کے ساتھ امن پسندی اور مسالمت آمیز طریقے سے زندگی گزارنے کی خواہاں ہے۔ اسی بنیاد پر آئین کی شق 152 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی خارجہ سیاست غیر محارب حکومتوں کے ساتھ امن پسندی پر استوار ہے۔ آئین کی شق نمبر چودہ میں بھِی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور مسلمان غیر مسلم افراد کے حوالے سے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ان کے ساتھ اچھے اخلاق اور اسلامی عدل و انصاف کے ساتھ پیش آئیں اور ان کے انسانی حقوق کی پاسداری کریں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا چالیس سالہ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ اس نے ان اصولون کی پاسداری کی ہے۔ اسلام نے کہیں بھی تسلط پسندی، جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار یا عمل نہیں کیا ہے بلکہ وہ اس طرح کے اقدامات کی نفی اور مخالفت کرتا رہا ہے اور اگر کہیں کوئی اقدام کیا تو پرامن بقائے باہمی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اپنے دفاع کے لیے اقدام کیا ہے۔ امام خمینی کے نظریات میں امن پسندی کو تین سطحوں پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کے باہمی تعلقات، مسلمانوں کے اہل کتاب کے ساتھ تعلقات اور مسلمانوں کے غیر حربی کفار سے تعلقات۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام مسلمان ایک امت واحدہ اور جسد واحدہ کی مانند ہیں اور ان کے درمیان تعلقات امن، برادری، دوستی اور پیار و محبت پر استوار ہونے چاہیں۔

قرآن پاک کی سورہ حجرات کی آیت 9 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر مومنیں کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کرائو۔ اہل کتاب کے حوالے سے قرآن حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ مسالمت، امن اور اچھے اخلاق سے پیش آئو اور جنگ سے پرہیز کرو۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 64 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اہل کتاب آئو ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کریں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں اور اس کے بعد یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجیئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں جنگ نہ کرنے والے یعنی کفار کے ساتھ بھی پرامن اور مسالمت آمیز رویہ اپنانے کی تاکید کی گئی ہے، لیکن وہ کفار جو اسلام اور مسلمین کے خلاف جارحانہ اور وحشیانہ عزائم کے مالک ہیں، ان کے خلاف جہاد ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سورہ انفال کی آیت نمبر 61 میں ارشاد ہوتا ہے "اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی جھک جائو اور اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔" خارجہ سیاست کے حوالے سے امام خمینی کے نظریات کا ایک اور نکتہ دوسرے ممالک کے امور میں عدم مداخلت ہے۔ آپ ممالک کے درمیان دو طرفہ احترام اور ایک دوسرے کے امور میں عدم مداخلت کو اچھے تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی امن ممالک کی خود مختاری اور استقلال پر استوار ہو اور اقوام ایک دوسرے کے امور میں مداخلت کی مرتکب نہ ہوں۔ ایک اور موقع پر آپ فرماتے ہیں ہم اس طرح نہیں ہیں کہ جب طاقتور ہو جائیں اور طاقت کے اظہار کے لیے دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کریں۔

امام خمینی دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کو خارجہ سیاست کا اہم جزو سمجھتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم تمام ملتوں سے اگر وہ ہمارے اندرونی مسائل میں مداخلت نہ کریں اور ہمارے لیے احترام کے قائل ہوں تو ہم بھی انکے ساتھ احترام سے پیش آئیں گے۔ اسی موضوع پر ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ اسلامی حکومت چاہتی ہے کہ تمام اقوام اور تمام حکومتوں سے باہمی تفاہم اور صحیح تعلقات استوار کرے، بشرطیکہ وہ بھی جواب میں اسلامی حکومت کا احترام کریں۔ آپ ایران کی خارجہ سیاست کے مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت تمام حکومتوں کے حوالے سے غیر جانبدار رہے گی اور تمام حکومتوں سے عادلانہ اور منصفانہ سلوک کرے گی، لیکن اس شرط پر کہ دوسری طرف سے بھی اچھے تعلقات کا اظہار کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 877852
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش