0
Wednesday 5 Aug 2020 02:24

شہید عارف حسین الحسینی کی برسی کے موقع پر شہید کی ایک روحانی بیٹی کا درد دل

شہید عارف حسین الحسینی کی برسی کے موقع پر شہید کی ایک روحانی بیٹی کا درد دل
تحریر: گمنام

میں نے شہید عارف حسین الحسینی کی ایک تصویر اپلوڈ کی تو کچھ لوگوں نے جن کا کسی دینی تنظیم، تحریک، مدرسہ سے تعلق نہیں تھا اور اگر کسی پلیٹ فارم سے تعلق تھا بھی تو ان کو کسی نے آشنا نہیں کروایا، انہوں نے اس تصویر کے متعلق ایک ایسا سوال کیا، جس سے میرا دل پارہ پارہ ہوگیا۔ سوال یہ تھا کہ"یہ کون ہیں" جن کی تصویر آپ نے اپلوڈ کی ہے۔ شہید کی شہادت 1988ء میں ہوئی تھی اور آج 2020ء ہے۔ سال آپ خود شمار کر لیں کہ کتنے سال ہوگئے ہیں۔ اتنے سال بعد اگر ہماری ملت کے نوجوان، وہ بھی شیعہ نوجوان یہ پوچھتے ہیں کہ یہ شہید کون ہیں؟؟؟؟ تو میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے آج تک کیا کیا ہے کہ اپنی ملت کو شہید سے آشنا نہ کروا سکے۔ مجھے اس سوال نے زیادہ پریشان کیوں کیا، اس وجہ سے کہ اگر نام سے آشنائی نہیں ہے تو سیرت سے آشنائی کیسے ہوگی۔ سیرت سے آشنائی نہیں ہوگی تو اپنے وجود میں سفیر نور کی سیرت کو کیسے لے کر آئیں گے۔ یعنی اس کا مطلب شہید صرف اپنے دور میں مظلوم نہیں تھے، کیونکہ شہید کو اپنی قیادت کے دو سال بعد کہنا پڑا کہ مجھے یہ منوانے میں کہ میں شیعہ ہوں، دو سال بیت گئے۔ شہید آج بھی مظلوم ہیں کہ ملت کے کچھ نوجوان ان کے نام تک سے آشنا نہیں ہیں۔

ہمارے پیچھے رہنے کی بہت سی وجوہات ہیں کہ ہم اپنے لیڈرز اور ہیرو میں سے اکثر کو جانتے ہی نہیں ہیں، جن کو جانتے ہیں، ان کے نام سے صرف آشنا ہیں، جیسے کہ علامہ اقبال جبکہ اقبال کے افکار سے نوجوان آشنا ہونے کی بجائے۔۔۔۔۔ ہم میں سے کتنے نوجوان ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر عمل پیرا ہوں تو وہ یہ کہیں کہ چونکہ اس پر قائد اعظم، علامہ اقبال عمل پیرا تھے تو ہم بھی عمل پیرا ہیں۔ آج اگر ملک کے شیعہ اکابرین شہید عارف حسین الحسینی کی کمی کو محسوس کرتے ہیں تو ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ کوئی آئے اور پاکستان کے حالات تبدیل کر دے۔ ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم دن رات لگا کر اپنے آپ کو سنواریں گے اور ملت کو آگے لے کر جائیں گے، لیکن ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ سیاسی مسائل کا ذمہ دار فلاں ہے، مذہبی مسائل کا ذمہ دار فلاں ہے۔ ہم جب پاکستان کے مسائل میں ہمیشہ دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں، ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں اپنے آپ کو ٹھیک کر لوں تو سب درست ہو جائے گا۔

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو سنوارنے کی ٹھان لے تو پھر کیا مسائل کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ مجھے ایک اور چیز بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ چونکہ ہمارے نوجوانوں کو نہیں پتہ کہ ہمارے رول ماڈلز کون ہیں، اس لیے جب ارطغرل جیسے ڈرامے منظر نامہ پر آتے ہیں تو پورا پاکستان پاگل ہو جاتا ہے۔ بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی شہید عارف حسین الحسینی کی صورت میں رول ماڈلز رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے
طاقت کی
امید کی
جذبے کی
استقامت کی
ایمان کی
رہبر کی
نہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ہمارے پاس کمی کسی چیز کی نہیں تو پھر کیا مسئلہ ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے ارد گرد دیواریں کیوں لگائی ہوئی ہیں۔ ہمارے دروازے پر چوکیدار ٹھیک نہیں کھڑا ہوا۔ چوکیدار کا کام ہوتا ہے کہ صرف مخصوص لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دے، ہم لوگوں نے اپنے نفس پر اپنے دماغ پر غلط چوکیدار بٹھائے ہوئے ہیں، لہذا ہمارے اندر بہت کچھ غلط جا چکا ہے۔

امام خمینی نے کہا تھا کہ شہید عارف حسین الحسینی میرے فرزند ہیں اور شہادت کے موقع پر کہا تھا کہ میں اپنے فرزند سے محروم ہوچکا ہوں تو خمینی بت شکن کو  تو سب جانتے ہیں، ان کے فرزند سے آشنائی کیوں نہیں ہے۔ ہمیں شہید کی کتنی تقریریں یاد ہیں، جن پر ہم عمل پیرا ہوں۔ پچھلے سال اور اس سال شہید پر دو سے تین کتابیں لکھی گئی ہیں، یہ کام اتنے سالوں بعد کیوں ہوا۔ ہمارے پاس گنی چنی چند کتابیں ہیں اور وہ بھی مخصوص لوگوں کے پاس۔ یہاں سے دیکھیں مال مفت و دل بے رحم والا محاورہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ میں شیعہ ہوں
تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اس شیعہ مکتب کو بچانے کے لیے کربلا برپا ہوئی ہے اور ہم سر سے دوپٹہ اتارتے وقت بھول جاتے ہیں کہ اس سر کے ڈوپٹہ کی قیمت جناب زینب (س) نے چکائی ہے. ہم اپنے آپ کو  پاکستانی کہتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اس پاکستان کو بنانے کے لیے کتنی زندگیاں درندوں کے ہاتھوں پامال ہوئی ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے مکتب کی قدر نہیں ہے، ہم زبانی محبت کے دعویدار ہیں، لیکن عملی محبت۔۔۔۔۔

ہم پاکستان میں مکتب تشیع کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ 1988ء میں ایک شخصیت نے، جس کے سالوں گزر جانے کے بعد اس جیسا آج تک کوئی مرد خدا پیدا نہیں ہوا، اپنا خون جگر دیا ہے۔ کیا آج برسی کے موقع پر ہمیں شہید سے معافی نہیں مانگنی چاہیئے کہ ہم حق ادا نہیں کرسکے۔ کیا ہمیں اب سنبھل نہیں جانا چاہیئے۔
کیا ہمیں شہید کی سیرت پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہیئے۔ ہم صرف باتوں کی حد تک کیوں رہ گئے ہیں۔ ہمارا ملک کا بچہ بچہ ارطغرل سے واقف ہے تو شہید عارف حسین الحسینی سے واقف کیوں نہیں ہے۔ کیا یہ ہمارے منہ پر طمانچہ نہیں ہے۔ شہید قائد اس وقت میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں، لیکن میرے ہاتھ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ میں اپنے عمل سے کچھ زیادہ نہ لکھ بیٹھوں۔ مجھ سے شہید یہ سوال نہ کریں کہ تم یہ پیغام آگے پہنچاتے سے پہلے اس پر کتنا عمل پیرا ہوئی ہو۔
کہیں پر حجاب کی کمی ہے
کہیں پر تقویٰ کی کمی ہے
کہیں پر ایمان کی کمی ہے۔
کہیں پر استقامت کی کمی ہے
دل میں احساسات تو بہت ہیں
بہت کچھ ہے جو کہنا چاہتی ہوں
بہت کچھ ہے جو پوچھنا چاہتی ہوں
بہت کچھ ہے جو جاننا چاہتی ہوں

لیکن مجھے ابھی تک یہ سوال تکلیف دے رہا ہے کہ شہید عارف کون ہیں۔؟ لیکن جہاں یہ تکلیف دے رہا ہے، وہاں یہ امید بھی دلا رہا ہے کہ اب جب جانیں گے کہ یہ کون تھے تو شہید کی ایمانی طاقت اور شہادت کی تاثیر ہمارے نوجوانوں کے وجود پر اثر ڈالے گی اور جب اثر ڈالے گی تو پھر ایک نہیں کئی فرزند شہید عارف حسین الحسینی پیدا ہونگے، ہم شہید کے ادھورے خواب پورے کریں گے، ان شاء اللہ۔ آیئے آج شہید کی شہادت کا دن ہے، شہید زندہ ہوتے ہیں، قرآن مجید نے یہ کہا ہے، تو آیئے شہید سے معافی مانگنے کے بعد توسل کریں کہ ہم سب کی مدد کریں کہ جس اسلام و  پاکستان کے لیے شہید اپنی زندگی میں ایک لمحہ بھی چین سے نہیں بیٹھے، اس جذبہ و حرارت کو جس کی آج ہر پاکستانی کو ضرورت ہے، شہید سے طلب کریں۔ آیئے عہد کریں کہ آج کے بعد کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس سے شہید کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے، کیونکہ ابھی سفر طولانی ہے، ہم نے شہید کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے امام زمانہ (عج) کے لشکر سے ملحق ہونا ہے۔ آیئے حر کی طرح معافی مانگ کر لشکر امام زمان (عج) میں شامل ہو جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے اور پھر روتے ہوئے توابین میں شامل ہونا پڑے۔

یاد رکھیں، وقت کے آخری حسین انتظار کر رہے ہیں، اگر یہ موقع گنوا دیا تو پھر ہم کہیں کہ نہیں  رہیں گے۔ آئیں مل کر اس ملک پاکستان کو جس کو برباد کرنے کے پیچھے ہمارے دشمن چوبیس گھنٹے لگے ہوئے ہیں۔ اس دشمن کو اس طرح پسپا کریں کہ وہ جان لے پاکستانی نوجوان فرزند شہید عارف حسین الحسینی ہیں۔ اس کے فرزند، جس کو تم نے برسوں پہلے مٹانے کی کوشش کی تھی، لیکن تمھیں ذلت و رسوائی کے علاؤہ کچھ ہاتھ نہیں آیا اور یہ کیوں نہیں ہوگا کہ ہماری سرزمین پر فرزند خمینی کا خون بہا ہے اور وہ خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ اس کا ثبوت ہم اپنے عمل سے، بصیرت سے، اپنی استقامت سے دیں گے۔
اب تک گرے ہیں تو کیا ہوا
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
ایک نئی امید کے ساتھ
ایک نئے جذبے کے ساتھ
بصیرت و معرفت کے ساتھ
کہیں ایسا نہ ہو کہیں یہ سال بھی گزر جائے اور پھر ہم شہید سے توسل کا موقع گنوا دیں۔
انسان کو کم از کم عرش تک پرواز کرنی چاہیئے
جب جنبش میں آجائیں بال و پر پھر عرش سے پرواز کا آغاز کرنا چاہیئے
شہید عارف الحسین سلام ہو
تم پر میرے وطن کے خمینی سلام ہو
التماس دعا
گمنام
خبر کا کوڈ : 878405
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش