1
Thursday 6 Aug 2020 11:49

لبنان میں کیا ہوا، ذمہ دار کون؟

لبنان میں کیا ہوا، ذمہ دار کون؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

بیروت کے ساحلی علاقے کے گوام نمبر 12 میں منگل کی شام ایک خوفناک دھماکہ ہوا، جس کی آواز میلوں تک سنی گئی۔ اس دھماکے بعد ایک اور دھماکہ ہوا، جو پہلے کی نسبت زیادہ شدید تھا اور اس کا بگولہ ایسے بلند ہوا جیسے ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ایٹمی حملے کے وقت فضا میں بلند ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر فعال بعض لوگوں نے تو اسے فوری طور پر ایٹمی حملہ ہی قرار دیدیا، تاہم یہ ایٹمی حملہ نہیں تھا۔ ان دھماکوں میں اب تک 200 کے قریب افراد جاں بحق، 5 ہزار سے زائد زخمی اور درجنوں لوگ ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ 6 سال قبل 2014ء میں ایک روسی پرچم بردار جہاز "روسوس" بیروت کے ساحل پر آن رکا۔ جس کی منزل جارجیا کا شہر بٹومی اور موزمبیق تھی۔ جہاز فنی خرابی کا بہانہ کرکے بیروت کے ساحل پر رکا، جس میں 2 ہزار 750 ٹن امونیم نائٹریٹ لدا ہوا تھا۔

لبنانی حکام نے جہاز کا جائزہ لیا، سامان چیک کیا اور کپتان سمیت عملے کے 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔ بعدازاں عملے کو ان کے ملک جانے کی اجازت دیدی گئی، تاہم کسی ممکنہ خطرے سے بچنے کیلئے جہاز میں لدا ہوا امونیم نائٹریٹ بیروت کی بندرگاہ کے گودام نمبر 12 میں منتقل کر دیا گیا۔ 2014ء سے 4 اگست 2020ء تک لبنانی حکام بیروت کی بندرگاہ سے امونیم نائیٹریٹ کی منتقلی کیلئے مسلسل جہاز کے مالکان سے رابطہ کرتے رہے، تاکہ بیروت کی بندرگاہ کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔ (ممکنہ خطرہ یہی تھا، جو منگل کے روز وقوع پذیر ہوگیا) مگر لبنانی حکام کی درخواستوں پر بہت کم توجہ دی گئی۔ 4 اگست کو تباہ ہونیوالی بندرگاہ بیروت کی مرکزی تجارت گاہ تھی، جہاں ہر سال 3 ہزار سے زائد جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں۔ یہ بندرگاہ لبنان کی اہم درآمدات و برآمدات کا مرکز تھی۔ بندرگاہ کے گوداموں میں زیادہ تر روز مرہ کی ضروریات کی اشیاء، گندم اور ادویات کے ذخیرے ہیں۔

یہ تمام ذخائر اس دھماکے میں تباہ ہوچکے ہیں۔ ان دھماکوں سے 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ کئی ہسپتال تباہ ہوگئے ہیں، باقی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، لیکن وہاں بھی ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ حالیہ دھماکوں میں نقصان کا تخمینہ 5 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ روسس جہاں کے لنگر انداز ہونے کے کچھ عرصے بعد لبنانی حکومت نے جہاز کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ جہاز کو آگے منزل پر یا واپس اپنے آبائی ملک لے جا سکتے ہیں، لیکن جہاز مالکان نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور جہاز کو بیروت کی بندرگاہ پر ہی کھڑا رہنے دیا گیا۔ لبنانی حکام کے مطابق تین سے 5 بار جہاز کے مالکان کو جہاز لے جانے کیلئے کہا گیا، لیکن وہ ہمیشہ انکار کرتے رہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہاز مالکان نے جہاز لے جانے سے کیوں انکار کیا؟ اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کیوں اصرار کیا کہ امونیم نائیٹریٹ یہیں بیروت کے گودام میں ہی پڑا رہے۔ اگر امونیم نائیٹریٹ تجارت کی غرض سے موزمبیق لے جایا جا رہا تھا تو جہاز مالکان یہ سامان منزل پر پہنچانے سے کیوں انکاری رہے۔؟ اس انکار کا واضح ذکر کارگو دستاویزات میں بھی موجود ہے۔

جہاز کے وہاں قیام کی وجہ جہاز میں فنی خرابی بتائی گئی، لیکن کیا فنی خرابی ہے، اس کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا اور یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بیروت کی بندرگاہ جارجیا کے تجارتی راستے پر نہیں آتی اور نہ ہی یہ موزمبیق کے راستے پر ہے، پھر یہ جہاز جو موزمبیق جا رہا تھا، اسے بیروت کیوں لایا گیا؟ یہاں اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ روسس میں فنی خرابی بیروت کی بندرگاہ پر اُترنے کا بہانہ تھا۔ خاص طور پر فنی خرابی دور ہونے کے باوجود جہاز نے بیروت چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا اور جہاز کے عملے نے بیروت کی بندرگاہ کے گودام سے 2 ہزار 750 ٹن امونیم نائیٹریٹ اٹھانے سے جان بوجھ کر تاخیر کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پہلے تو اس واقعہ سے واضح انکار کیا کہ اس دھماکے سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں، پھر اپنے ٹویٹر پر کہا کہ یہ دھماکہ اسرائیل نے ہی کرایا ہے اور ساتھ دھمکی بھی دیدی کہ اب حزب اللہ کے سرپرست بھی تیار رہیں۔

اسرائیلی حکومت کی وزارت دفاع کی ایک دستاویز میں بیروت کی اس بندرگاہ کے گوداموں کو نشان زدہ کیا گیا تھا۔ صہیونی وزارت دفاع نے ایک فضائی تصویر جاری کی تھی، جس میں بیروت کی بندرگاہ کے گودام نمبر 12 کو ہی مارک کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے سابق وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی کہا ہے کہ اس نے ایک اسرائیلی افسر سے سنا ہے کہ بیروت میں حملہ ہم (اسرائیل) نے کیا ہے۔ بہرحال لبنانی حکام واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دیکھا جا رہا ہے کہ دھماکہ طبعی طور پر ہوا ہے یا یہ میزائل حملہ تھا۔ سید حسن نصراللہ کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لبنانی حکام کی تحقیقات اور حزب اللہ کا موقف سامنے آنے کے بعد صورتحال کلیئر ہو جائے گی اور اگر اس دھماکے میں اسرائیل کا ہاتھ ثابت ہوگیا تو ممکن ہے یہ سال اسرائیل کا آخری سال ہو، کیونکہ حزب اللہ کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 878670
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش