0
Friday 7 Aug 2020 07:59

امام خمینی کا قلبی اطمینان(1)

امام خمینی کا قلبی اطمینان(1)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

انسان کس وقت اطمینان قلب کی منزل پر فائز ہوتا ہے۔ اطمینان قلب کے لیے مادی وسائل و امکان ضروری ہوتے ہیں یا معنوی و روحانی وسائل۔ ہماری زندگی میں امام خمینی کی مثال ایک ایسے فرد کی ہے، جو سخت ترین حالات و واقعات میں مکمل پرسکون نظر آتا ہے۔ یہ اطمینان کیسے حاصل ہوتا ہے، اس بارے میں ایک مختصر مضمون قارئین کی نظر ہے۔ انسان کی زندگی میں اطمینان اور قلبی سکون اس کیقیت کا نام ہے، جس میں ایک انسان اضطراب، پریشانیوں اور بے چینیوں کی خلاف آسودہ خاطر ہو کر پرسکون زندگی گزارنے میں کامیاب رہتا ہے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں پریشانیوں اور مشکلات و مصائب سے دوچار رہتا ہے اور یہ سارے مسائل دینوی امور سے جڑَے ہوتے ہیں۔ آج نفسیاتی بیماریاں اتنی عام اور رائج ہیں کہ اس کے علاج کے لیے باقاعدہ ڈاکٹرز اور ماہرین ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ اکثر نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اضطراب پریشانی اور بے چینی بہت سی جسمانی بیماریوں کا بھی باعث بنتی ہے۔  اسلامی تعلیمات میں خداوند عالم کی ذات پر ایمان اور اعتماد بہت سی نفسیاتی بیماریوں اور پریشانیوں سے نجاب کا باعث بنتا ہے۔

انسان جب خداوند عالم کی ذات پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کی یاد میں مشغول رہتا ہے تو دنیا کی پریشانیاں اور مسائل و مصائب اس کے ارادہ اور عزم کو کمزور نہیں ہونے دیتے۔ وہ خدا پر ایمان کی بدولت ہر پریشانی کو ایک آزمائش اور عارضی امتحان سمجھ کر برداشت کرتا ہے۔ ایک مومن اور متدین انسان ہر پریشانی میں اپنے خالق و مالک کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ دل کا سکون خدا کی یاد میں ہے۔ جو انسان خداوند عالم کے ذکر میں مگن ہو جاتا ہے، خداوند عالم سخت سے سخت اضطراب میں بھی اس کو سکون قلب عطا کر دیتا ہے۔ جب انسان کا خداوند عالم پر مکمل بھروسہ ہو اور وہ خداوند عالم کی ذات کو اپنا مولا و ماویٰ سمجھتا ہو تو وہ کسی بھِی بحران اور مصیبت میں اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھتا۔ قران پاک کی معروف آیت آیت الکرسی میں ارشاد ہوتا ہے۔ جو خداوند پر ایمان لاتے ہیں اور جن کا ولی خداوند کی ذات ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور میں لے آتا ہے۔

امام خ٘مینی کی شخصیت ایک عظیم روحانی و معنوی شخصیت تھی۔ آپ کا اپنے رب پر ایمان اور بھروسہ ناقابل بیان ہے۔ آپ کو اپنے قوی ایمان کی وجہ سے اپنے خالق و مالک پر اتنا پختہ یقین تھا کہ آپ راہ خدا میں سخت سے سخت مشکل سے بھی ٹکرا جاتے تھے۔ آپ نے جس دور میں پہلوی خاندان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور ایک اسلامی تحریک کا آغاز کیا، کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایک ظالم حکمران کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب صدائے احتجاج بلند کی تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر طرح سے ڈرایا دھمکایا گیا، آپ کو انقلابی تحریک سے جدا کرنے کے لیے گرفتار کیا گیا۔ آپ کے ساتھیوں کو تشدد کا کا نشانہ بنایا گیا۔ آپ کو جلاوطن کیا گیا، لیکن طالم شاہ کا کوئی ظلم و جبر آپ کا اطمینان اور طمانیت نہیں چھین سکا۔ انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران اور انقلاب کے بعد کون سے ایسے مظالم اور مصیبتیں ایرانی قوم پر مسلط نہیں کی گئیں، لیکن آپ قوت ایمانی کی بدولت دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔

آیت اللہ طاہری خرم آبادی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے سالوں میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پورے ایران میں صورت حال انتہائی ابتر تھی۔ امن و امان کے مسائل، سرحدوں پر جنگ کے خطرات اور بالخصوص کردستان کے علاقے میں شروع ہونے والی اسلامی حکومت مخالف تحریک نے تمام انقلابی قیادت کو سخت پریشان و مضطرب کر رکھا تھا، لیکن امام خمینی کی ذات مطمئن اور اضطراب سے عاری تھی۔ آیت اللہ حسن طاہری کے بقول اضطراب اور پریشانی امام کے وجود میں ہرگز نہ تھی۔ جب کردستان میں صورت حال انتہائی خراب ہوگئی تو مرحوم ربانی نے امام خمینی سے سوال کیا کہ آپ اس صورتحال سے مضطرب و پریشان نہیں ہیں۔ امام خمینی نے جواب دیا میں کبھِی بھی مضطرب اور پریشان نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر محمود بروجردی انقلاب کی کامیابی سے پہلے جب مدرسہ فیضیہ پر حکومتی کارندوں نے ظالمانہ حملہ کیا تھا، کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس دن فیضیہ مدرسہ کا واقعہ پیش آیا، اس بات کا قوی امکان تھا کہ امام کو شاہی پولیس کے کارندے گرفتار کر لیں۔ امام اس دن بھی اپنے گھر میں رہے اور کسی دوسری جگہ منتقل نہیں ہوئے۔

بہت سے لوگوں نے امام خمینی کو مشورہ دیا کہ آج رات اپنے گھر میں قیام نہ کریں اور کسی دوسری جگہ منتقل ہو جائیں، لیکن امام نے کسی کی تجویز کو بھی قبول نہ کیا اور اپنے گھر میں ہی رات بسر کی۔ امام خمینی نے زندگی کے سخت ترین اور ایسے ایام میں بھی صبر و تحمل اور مکمل قلبی اطمینان کا اظہار کیا، جب مضبوط سے مضبوط انسان کے لیے بھی احساسات و جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر والدین کے لیے اپنی جوان اولاد کی موت انتہائی سخت ہوتی ہے اور وہ اپنے پدرانہ جذبات کی بدولت صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے، لیکن امام خمینی کو جب ان کے عالم و فاضل جوان بیٹے کی موت کی خبر دی گئی تو آپ نے اس وقت بھی اپنے قوی ایمان کی بدولت اس مصیبت پر صبر و تحمل کیا۔

امام کی ایک بیٹی کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا، جو امام کو بہت زیادہ عزیز تھی۔ حجت الاسلام رحیمیان نقل کرتے ہیں کہ امام کے ایک قریبی دوست جب امام کی بیٹی کی تعزیت و نماز جنازہ میں شرکت کے لئے امام کے گھر آئے تو امام بیٹی کے جسد خاکی پر دعا پڑھ رہے تھے۔امام خمینی کے دوست نقل کرتے ہیں کہ میں نے اس حالت میں بھی امام کے چہرے پر کسی طرح کا غیر معمولی اضطراب نہِیں دیکھا۔ کچھ دیر میں امام نے ایک دعا مکمل کی اور ہمیں مخاطب ہو کر کہا خدا نے یہ بچی مجھے عطا کی تھی۔ اب اس نے چاہا واپس لے لے، تو اب واپس لے لی ہے۔ یہ کہہ کر آپ دوبارہ دعا میں مشغول ہوگئے۔ نجف اشرف میں جب آپ کو آپ کے عالم و فاضل فرزند حجت الاسلام سید مصطفیٰ خمینی کی رحلت کی خبر دی گئی تو آپ نے کسی طرح کو کوئی غیر معمولی ردعمل ظاہر نہ کیا، نہ روئے نہ بلند آواز میں گریہ کیا، بلکہ خبر سن کر آپ تلاوت قرآن میں مشغول ہوگئے۔

آپ نے قرآن پاک کی تلاوت سے اپنے قلب کو سکون پہنچایا، کیونکہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ مومنین کو ذکر خدا سے اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ مومنین وہ ہیں جب ان کے سامنے ذکر خدا کیا جاتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے پرودگار پر توکل و بھروسہ کرتے ہیں۔ حجت الاسلام آشتیانی آپ کے فرزند حجت الاسلام احمد خمینی سے نقل کرتے ہیں کہ جب نجف میں آپ کو آپ کے مجتھد و عالم فاضل فرزند سید مصطفیٰ خمینی کی ہنگامی موت کی خبر دی گئی تو آپ نے نہایت تحمل و بردباری اور شہامت سے یہ خبر سنی اور کمرے کے ایک حصے میں جا کر تلاوت قرآن میں مصروف ہوگئے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد گریہ و آہ و زاری میں مصروف تھے اور امام خمینی انہیں تسلی و حوصلہ دے رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 878821
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش