0
Sunday 9 Aug 2020 07:50

امام خمینی کا قلبی اطمینان(2)

امام خمینی کا قلبی اطمینان(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

امام خمینی اسلامی انقلاب کی تحریک کے سخت سے سخت ترین حالات میں بھی اطمینان قلب کے عالی درجے پر فائز رہے۔ اسلامی انقلاب کی تحریک کے ابتدائی ایام میں جب شاہ ایران کے کارندے آپ کو قم سے گرفتار کرکے تہران لے جا رہے تھے تو اس وقت نہ صرف یہ کہ آپ خود پریشان اور مضطرب نہ ہوئے بلکہ گرفتار کرنے والے سپاہیوں کو پرسکون اور مطمئن رہنے کی تلقین کر رہے تھے۔ امام کے ایک دوست حجت السلام قرہی نے حجۃ الاسلام سید احمد خمینی اور حجۃ الاسلام سید مصطفیٰ خمینی سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب امام کو گرفتار کرکے قم سے تہران لے جا رہے تھے تو راستے میں پولیس نے مین روڈ سے ایک دوسرے راستے کی طرف گاڑی کو موڑا تو امام خمینی کے بقول وہ سمجھے کہ شاید راستے میں کسی ویرانے میں لے جا کر قتل کرنا چاہتے ہیں۔ امام خمینی کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ دیکھا کہ وہ کسی انجانے راستے سے لے جا رہے ہیں تو میں نے اپنے دل کی طرف رجوع کیا تو مجھے دور دور تک خوف و خطر کا احساس نہ ہوا۔

گرفتاری کے بعد امام خمینی نے قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ کے حرم میں واقع مسجد اعظم میں ایک خطاب میں اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدا کی قسم میں زندگی میں کبھی بھی خوفزدہ نہیں ہوا۔ اس رات بھی جب شاہی کارندے مجھے قم سے گرفتار کرکے تہران لے جا رہے تھے، شاہی کارندے خود ڈر رہے تھے اور میں انہیں حوصلہ دے رہا تھا۔ ڈاکٹر بروجردی نے اس گرفتاری کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ امام خمینی نے اس رات کا واقعہ نقل کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب شاہی کارندے مجھے گرفتار کرکے لے جا رہے تھے تو ہمارے گھر کے دورازے سے لے کر قریبی ہسپتال تک انھوں نے گاڑی کی لائٹس روشن نہ کیں اور نہ ہی گاڑی اسٹارٹ کی بلکہ گاڑی کو دھکا لگا کر لے جا رہے تھے، تاکہ گاڑی کی آواز سن کر ہمسایوں کو اس گرفتاری کی اطلاع نہ ہو جائے۔ تین چار سپاہی گاڑی کو دھکا لگا رہے تھے جبکہ دو میرے اردگرد بیٹھے تھے۔ دونوں خوف سے کانپ رہے تھے، میں نے ان سے پوچھا تم کیوں ڈر رہے ہو تو ایک نے جواب دیا لوگ آپ کو بہت پسند کرتے ہیں، اگر انہیں پتہ چل گیا تو گاڑی پر حملہ کرکے ہمیں نہیں چھوڑیں گے، دونوں کارندے مڑ مڑ کر پیچھے آنے والی گاڑی کو دیکھ رہے تھے، تاکہ وہ ان کی مدد کو پہنچ جائے۔

انقلاب کی تحریک کے ان ایام میں جب رضا شاہ پہلوی ایران سے فرار کر گیا تھا اور آپ فرانس سے ایران واپس آنے والے تھے، یہ وہ دور تھا کہ ایک طرف پریشانی اور اضطراب اپنے عروج پر تھا تو دوسری طرف انقلاب کی کامیابی اور مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے خیالات لوگوں کے قلب و ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ اس اضطراب، پریشانی اور خوف و رجا کی ایک غیر معمولی کیفیت اس ہوائی جہاز میں بھی تھی، جو فرانس سے تہران کی طرف محو پرواز تھا۔ جہاز میں سوار سب کے دلوں میں یہ اندیشے تھے کہ اس جہاز کو حکومت اترنے دے گی یا نہیں۔ اسی طرح بعض اس امکان کا اظہار کر رہے تھے کہ شاہد جہاز کو ہوا میں ہی اڑا دیا جائے، گویا جتنے ذہن اتنی فکریں اور اندیشے تھے۔ لیکن جہاز میں سوار سب سے زیادہ پرسکون اور مطمئن امام خمینی کی شخصیت تھی، حالانکہ انہیں سب سے زیادہ پریشان و مضطرب ہونا چاہیے تھا۔

معروف صحافی و دانشور حسین ہیکل امام خمینی کے اطمینان اور سکون کے بارے میں لکھتا ہے کہ جس جہاز میں امام کو فرانس سے تہران لایا جا رہا تھا، اس جہاز کے تمام مسافر پریشان اور بے چین تھے۔ سب سوچ رہے تھے کہ جہاز کو اترنے دیا جائے گا یا ایران کی فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسے فضا میں تباہ کر دیں گے۔ اس پریشانی کی وجہ سے جہاز میں کسی کو نیند نہیں آرہی تھی، سوائے امام خمینی کے، جو جہاز کے اوپر والے حصے میں پورے اطمینان کے ساتھ نماز صبح تک آرام کی نیند سوئے رہے۔ اس جہاز میں ایک صحافی نے جب امام خمینی سے ان کے احساسات و جذبات اور ان کی پریشانی و اضطراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: ہیچ یعنی کچھ بھی نہیں۔ یعنی نہ میں پریشان ہوں نہ مضطرب ہوں اور نہ جذباتی۔

اسی واقعہ کو حجت الاسلام رضا استادی نے بھی ایک اخباری رپورٹر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ امام خمینی سے سوال کرنے والا صحافی یہ تصور کر رہا تھا کہ اتنی پریشانی اور اضطراب میں امام خمینی اپنی بے چینی اور اضطراب یا خوشی و جذباتی ہونے کا اظہار کریں گے، لیکن امام خمینی نے "کچھ نہیں" جیسا جواب دے کر اس صحافی کو حیران کر دیا۔ صحافی کو شاید اس بات کا اچھی طرح ادراک نہیں تھا کہ امام خمینی نے اپنی زندگی کا یہ وطیرہ بنا رکھا تھا کہ وہ اپنے ہر کام کو ایک الہیٰ فریضہ سمجھ کر انجام دیتے تھے اور دینی تعلیمات میں صاحب ایمان جب کوئی کام الہیٰ ذمہ داری اور فریضہ سمجھ کر ادا کرتا ہے تو اسے اس کے نتیجے کے بارے میں کوئی خوف و اضطراب نہیں ہوتا۔ امام خمینی نے انقلاب اسلامی کی تحریک کے ہر قدم کو قربت الہیٰ اور خوشنودی خدا کے لیے انجام دیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کی ایمانی قوت آپ کو ہر مشکل اور بحرانی حالت میں بھی استوار و پائیدار رکھتی۔

گرفتاری کا مسئلہ ہو یا جوان فرزند کی رحلت ہو یا ایران کے نوجوانوں کی شہادتیں ہوں، آپ نے ہر لمحے ہر آنے والی مشکل کو ایک امتحان اور آزمائش الہیٰ قرار دیا اور اس پر صبر و تحمل کیا۔ امام خمینی انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران اور انقلاب کے بعد جب تک زندہ رہے، سیاسی، سماجی اور ہر طرح کے حادثات و واقعات کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے اور کبھی بھی اضطراب، پریشانی اور بے چینی کا اظہار نہ کیا۔ آپ کو اپنے رب کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد تھا، یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے دنیا سے رحلت کی تو اس وقت بھی اپنی وصیت میں کہا "میں اطمینان اور پرمسرت روح کے ساتھ اس دنیا سے جا رہا ہوں۔"
خبر کا کوڈ : 879155
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش